آصف علی زرداری کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

اپ ڈیٹ 11 جون 2019

ای میل

نیب ٹیم نے آصف زرداری کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی—فائل فوٹو/ ڈان نیوز
نیب ٹیم نے آصف زرداری کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی—فائل فوٹو/ ڈان نیوز

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے آصف علی زرداری کو 21 جون کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

خیال رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے آج صبح زیر حراست آصف علی زرداری کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے انہیں احتساب عدالت میں پیش کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس میں آصف علی زرداری گرفتار

اس حوالے سے بتایا گیا کہ نیب ٹیم نے احتساب عدالت میں آصف علی زرداری کو پیش کرنے کے بعد عدالت سے ان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔

دوان سماعت آصف علی زرداری نے استدعا کی کہ میں شوگر کا مریض ہوں اور رات کو میری شوگر لو ہو جاتی ہے اس لیے اٹینڈنٹ دیا جائے جو رات کو شوگر چیک کرے۔

جس پر اسیکیوٹر نیب نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ان کی زندگی کا مسئلہ ہے اور ہمارا اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں، احتساب عدالت کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ اٹینڈنٹ 24 گھنٹے میرے پاس بیٹھا نہیں رہے گا جب ضرورت ہو گی تو اس کو بلایا جائے گا۔

فاروق ایچ نائیک کے دلائل

آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر نیب گرفتار تو کیا وارنٹ بھی جاری نہیں کر سکتا تھا کیونکہ سپریم کورٹ نے تفتیش کے لیے نیب کو دو ماہ دیے تھے اور دو ماہ کی مہلت کب کی ختم ہو چکی ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ دو ماہ کا وقت گزرنے کے بعد نیب نے مدت میں توسیع کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کیا لہذا اب نیب تفتیش نہیں کر سکتی۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیئرمین نیب کے پاس تفتیش کے دوران گرفتاری کا اختیار تھا۔

انہوں نے کہا کہ ریفرنس دائر ہو چکا تو وہ وقت گزر چکا ہے اور وارنٹ گرفتاری اور گراؤنڈز ہمیں فراہم نہیں کیے گئے۔

مزیدپڑھیں: نیب کا بائیکاٹ نہیں کریں گے، اسے تھکائیں گے، آصف زرداری

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں گرفتاری کی وجوہات ابھی پتہ چل رہی ہیں۔

احتساب عدالت میں موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات کے لیے جے آئی تشکیل دی اور جے آئی ٹی نے مذکورہ کیس نیب کو منتقل کر دیا گیا اور سپریم کورٹ نے نیب کو تفتیش اور ریفرنس دائر کرنے کے لیے 2 ماہ کا وقت دیا۔

فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیئے کہ ایف آئی آر میں درج ہے کہ بنکرز نے جعلی اکاونٹ کھولے اور ڈیڑھ کروڑ روپیہ مجھے بھیجا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ایف آئی آر میں میرا نام بطور ملزم درج ہی نہیں تھاجبکہ انور مجید، اسلم خان اور عارف خان بطور ملزم نامزد ہیں۔

آصف علی زرداری کے وکیل نے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس سے میرا تو کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے مجھے ضمانت کی درخواست پر دلائل مکمل ہونے پر کہا کہ کیس لاز دے دیں، میں وہ فوٹو کاپیز کرانے گیا تو ضمانت منسوخی کا آرڈر ہو گیا، اب بتائیں میں کدھر جاؤں؟

مزیدپڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ کیس میں 26 ملزمان ہیں، صرف آصف زرداری کو گرفتار کیا گیا، قانون سب کے لیے برابر ہے لیکن آصف علی زرداری کو گرفتار کر کے امتیازی سلوک کیا گیا۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ ریفرنس عدالت میں زیر سماعت ہے، تفتیش کا مرحلہ نہیں ہے اس لیے عدالت وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کا حکم دے۔

انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کا پرتھنون کمپنی سے کوئی تعلق نہیں ہےاور نہ ہی وہ اس کے ڈائریکٹر ہیں،نیب 4 بلین روپے کی بات کرتے ہیں اور میرے اوپر ڈیڑھ کروڑ روپیہ ڈالا گیا۔

آصف علی زرداری کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ آصف علی زرداری کو گرفتار کر کے نیب نے اس عدالت کی توہین کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کیس میں دیگر ملزمان کے مچلکے عدالت نے منظور کیے ان کے وارنٹ جاری نہیں کیے گئے۔

سابق صدر کا طبی معائنہ

اسلام آباد احتساب عدالت میں سابق صدر کو پیش کرنے سے قبل تین رکنی طبی ٹیم نے ان کا طبی معائنہ کیا تھا۔

نیب کے ذرائع نے بتایا کہ ’طبی ٹیم نے آصف علی زرداری کے جسمانی ریمانڈ کے لیے انہیں تندرست قرار دیا‘۔

علاوہ ازیں بتایا گیا کہ احتساب عدالت میں پیپلز پارٹی کے سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ سمیت دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔

آصف زرداری کو پیش کیے جانے کے موقع پر احتساب عدالت اور اس کے اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور وفاقی حکومت نے پولیس اور رینجرز پر مشتمل تقریباً 2 ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد آصف علی زرداری کو زرداری ہاؤس اسلام آباد سے گرفتار کیا تھا۔

خیال رہے کہ فریال تالپور کے وارنٹ گرفتاری جاری نہ ہونے کے باعث انہیں گرفتار نہیں کیا جاسکا جبکہ سابق صدر کی گرفتاری کے لیے نیب نے وارنٹ گزشتہ روز جاری کیے تھے۔

مزید پڑھیں: آصف علی زرداری کی 'خفیہ جائیداد' سے متعلق علی زیدی کا انکشاف

نیب کی ٹیم سابق صدر کی گرفتاری کے لیے اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ ’زرداری ہاؤس‘ پہنچی تھی جہاں انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق آصف زرداری قومی اسمبلی سے اپنی گرفتاری دینا چاہتے تھے تاہم انہوں نے بعد میں اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے زرداری ہاؤس سے ہی گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا۔

نیب کی 15 ٹیم میں سے 6 اہلکاروں کو زرداری ہاؤس میں داخلے کی اجازت دی گئی تھی، جنہوں نے آصف زرداری کو گرفتار کیا اور انہیں لے کر نیب دفتر راولپنڈی روانہ ہوگئے۔

آصف علی زرداری اور ان کی بہن عدالتی فیصلے سے قبل ہی احاطہ عدالت سے چلے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: رئیل اسٹیٹ کیس: نیب نے آصف زرداری، بلاول بھٹو کو طلب کرلیا

ذرائع کے مطابق نیب نے سابق صدر کی گرفتاری کے لیے 2 ٹیمیں تشکیل دی تھیں جن میں سے ایک زرداری ہاؤس جبکہ ایک پارلیمنٹ ہاؤس پہنچی تھی۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق زرداری ہاؤس میں نیب کی ٹیم کو سابق صدر کی گرفتاری میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جعلی اکاؤنٹس کیس

واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے 6 جولائی کو حسین لوائی سمیت 3 اہم بینکرز کو منی لانڈرنگ کے الزامات میں حراست میں لیا گیا تھا۔

حسین لوائی اور دیگر کے خلاف درج ایف آئی آر میں اہم انکشاف سامنے آیا تھا جس کے مطابق اس کیس میں بڑی سیاسی اور کاروباری شخصیات کے نام شامل تھے۔

ایف آئی آر کے مندرجات میں منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والی آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی کمپنی کا ذکر بھی تھا، اس کے علاوہ یہ بھی ذکر تھا کہ زرداری گروپ نے ڈیڑھ کروڑ کی منی لانڈرنگ کی رقم وصول کی۔

مزیدپڑھیں: آصف علی زرداری کی 'خفیہ جائیداد' سے متعلق علی زیدی کا انکشاف

ایف آئی آر کے متن میں منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں اور افراد کو سمن جاری کیا گیا جبکہ فائدہ اٹھانے والے افراد اور کمپنیوں سے وضاحت بھی طلب کی گئی تھی۔

ایف آئی آر کے متن میں مزید کہا گیا تھا کہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ 6 مارچ 2014 سے 12 جنوری 2015 تک کی گئی جبکہ ایف آئی اے کی جانب سے آصف زرداری اور فریال تالپور کو مفرور بھی قرار دیا گیا تھا۔

جس کے بعد جعلی اکاؤنٹس کیس اور 35 ارب روپے کی فرضی لین دین سے متعلق کیس میں ایف آئی اے کی درخواست پر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔

تاہم چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دونوں رہنما منی لانڈرنگ کیس میں ملزم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ

جس کے بعد نگراں حکومت کی جانب سے آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال دیا گیا تھا۔

بعدازاں فریال تالپور نے لاڑکانہ میں سندھ ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی تھی۔

علاوہ ازیں 35 ارب روپے کے جعلی اکاؤنٹس کیس میں 15 اگست کو ایف آئی اے نے اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور عبدالغنی مجید کو گرفتار کرلیا تھا لیکن ملزمان کی جانب سے صحت کی خرابی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔