’مودی کا طیارہ اجازت ملنے کے باوجود پاکستان سے نہیں گزرے گا‘

ای میل

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم اومان اور ایران کا متبادل راستہ اختیار کریں گے۔ — اے ایف پی/فائل فوٹو
بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم اومان اور ایران کا متبادل راستہ اختیار کریں گے۔ — اے ایف پی/فائل فوٹو

بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا طیارہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سمٹ کے لیے کرغزستان کے دارالحکومت بشکک جانے کے لیے پاکستان کی جانب سے اجازت ملنے کے باوجود اس کی فضائی حدود سے نہیں گزرے گا۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بشکک کے لیے وزیر اعظم اومان اور ایران کا متبادل راستہ اختیار کریں گے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ 'بھارتی حکومت نے وی وی آئی پی طیارے کے لیے 2 راستے بتائے تھے جن میں سے اومان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک سے بشکک جانے کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے'۔

واضح رہے کہ یہ اطلاعات اس وقت سامنے آئیں جب وزیر ایوی ایشن غلام سرور خان نے کہا تھا کہ 'پاکستانی فضائی حدود جذبہ خیر سگالی کے طور پر بشکک جانے والے مودی کے طیارے کے لیے خصوصی طور پر کھولی جائیں گی'۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا بھارتی وزیراعظم کو فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دینے کا فیصلہ

ان کا کہنا تھا کہ ایوی ایشن ڈویژن کو اسلام آباد میں قائم بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے مودی کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے کی درخواست موصول ہوئی تھی جس کے بعد وزیر اعظم نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد نریندر مودی کے لیے فضائی حدود کھولنے کی ہدایت کی تھی۔

سرکاری ذرائع نے ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بشکک جانے کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ بھارتی طیارے کو پاکستانی فضائی حدود سے گزرنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے جو جنوبی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہ ان میں سے ایک ہے جسے پاکستان نے بھارتی وزیر اعظم کے طیارے کے لیے کھولا ہے۔

ذرائع نے وضاحت دی کہ پاکستان نے مارچ کے بعد سے بھارتی طیاروں کے لیے 2 مرتبہ راستے کھولے ہیں جن میں سے ایک بھارت سے یورپ اور وسطی ایشیا جانے کا اور دوسرا بھارت جانے کا راستہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک-بھارت کشیدگی: فضائی حدود کی بندش میں 15 جون تک توسیع

ان کا کہنا تھا کہ بھارت سے باہر جانے والا راستہ کراچی، ہنگول، گوادر اور آگے کی جانب جاتا ہے جبکہ بھارت کی جانب جانے والا راستہ کراچی اور بدین سے گزرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا طیارہ پاکستانی فضائی حدود میں کراچی اور ہنگول سے گزرتے ہوئے اومان میں داخل ہوگا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے 26 فروری کو بھارتی فضائیہ کی در اندازی اور بالاکوٹ کے قریب پے لوڈ گرانے کے واقعے کے بعد سے بھارت کے لیے مکمل طور پر اپنی فضائی حدود بند کررکھی ہے تاہم حکومت نے گزشتہ ماہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو ایس سی او اجلاس کے لیے بشکک جانے کے لیے اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دی تھی۔