قرضوں کی تحقیقات: کمیشن کے ٹی او آرز کو حتمی شکل دینے کیلئے پہلا اجلاس

اپ ڈیٹ 13 جون 2019

ای میل

پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت کمیشن کی تشکیل سازی ہوگی — فائل فوٹو/
پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت کمیشن کی تشکیل سازی ہوگی — فائل فوٹو/

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خاں نے قرضوں میں غیر معمولی اضافے اور ان کے ’غلط‘ استعمال کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ اختیار کے حامل کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) کو حتمی شکل دینے کے لیے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔

ڈان میں شائع رپورٹ کے مطابق اجلاس میں کمیشن سے متعلق امور زیر بحث آئے جس کے بارے میں بتایا گیا کہ کمیشن میں آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، آڈیٹر جنرل آفس، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) سمیت دیگر اداروں کے اعلیٰ افسران شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا اربوں روپے کےقرضوں کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کا اعلان

اس حوالے سے بتایا گیا کہ اجلاس کے شرکا کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت کمیشن کی تشکیل سازی ہوگی۔

خیال رہے کہ کمیشن 2008 سے 2018 کے درمیان قرضے میں 24 ہزار ارب روپے کے اضافے کی تحقیقات کرے گا تاہم اس دوران کوئی بھی میگا منصوبہ مکمل نہیں ہوا۔

کمیشن کے اغراض و مقاصد سے متعلق بتایا گیا کہ کمیشن تمام وزارتوں اور ڈویژن کے علاوہ متعلقہ وزیروں سے بھی تحقیقات کرے گا اور اگر بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا تو رقم کی واپس کے لیے کام کرے گا۔

مزید پڑھیں: مالی سال 20-2019 کیلئے 70 کھرب 36 ارب روپے کا بجٹ پیش

بتایا گیا کہ کمیشن ذاتی مفاد کی غرض مثلاً بیرونی دورے، غیر ملکی طبی اخراجات، روڈ اور انفرانسٹرکچر کی تعمیرات سمیت اعلیٰ افسران کے نجی گھروں کو کیمپ آفس کا درجہ دے کر قومی خزانے کو نقصان پہنچانے جیسے اقدامات کی تحقیقات کرے گا۔

کمیشن کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ملکی یا غیر ملکی فرانزک آڈیٹرز کی خدمات بھی حاصل کر سکے گا۔

اس ضمن میں بتایا گیا کہ کمیشن کے حتمی ٹی او آرز اور اس کی سربراہی سے متعلق رواں ہفتے عوام کو آگاہ کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 12 جون کو وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں قرضوں کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ اختیاراتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ خلاصہ

تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے پہلا بجٹ پیش کیے جانے کے بعد قدرے تاخیر سے عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ’بجٹ کو سمجھنے کے لیے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ وہ بجٹ ہے جو نئے پاکستان کے نظریے کی عکاسی کرے گا، پاکستان عظیم ملک بننے جارہا ہے جبکہ نیا پاکستان نبی کریم ﷺ کی مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر بنے گا۔'

انہوں نے کہا تھا کہ اپوزیشن چاہتی ہے ان کو این آر او دیا جائے، آج شور مچ رہا ہے کہ زرداری جیل میں ہے، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اکٹھی ہوگئی ہے، پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی دونوں حکومتیں کرپشن کی وجہ سے ختم ہوئیں، (ن) لیگ نے اپنے دور میں آصف زرداری کو جیل میں ڈالا تھا، جبکہ دو این آر اوز کی قیمت ملک نے ادا کی۔'