پاکستان سرمایہ کاری کیلئے پرکشش مقام ہے، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 14 جون 2019

ای میل

وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے 19ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کیا — تصویر:اے ایف پی
وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے 19ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کیا — تصویر:اے ایف پی

وزیراعظم عمران خان نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کے دوران پاکستان کو خطے میں سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام اور وسائل سے بھرپور بڑی تجارتی منڈی قرار دیا، نہتے شہریوں پر ریاستی دہشت گردی کی مذمت کی، جبکہ چینی صدر سے ملاقات کے دوران سی پیک پر تبادلہ خیال کیا۔

کرغزستان میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے 19ویں اجلاس میں وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی زیادہ تر آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو بھرپور توانائی کے حامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دیگر مثبت پہلوؤں میں ہنرمند انسانی وسائل کی بڑی تعداد شامل ہے، وسیع ذرعی زمین، سیاحت کی زبردست صلاحیت، کثیرالجہت معدنی دولت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا منظم ڈھانچہ شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس: وزیر اعظم عمران خان کرغزستان پہنچ گئے

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان باہمی احترام، مساواتی خود مختاری اور باہمی مفادات کی بنیاد پر اپنی اشتراکیت قائم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) چینی صدر شی جن پنگ کے وسیع النظر بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے (بی آر آئی) کا اہم ترین حصہ ہے جو تیزی سے ثمر انگیز ہونے جارہا ہے۔

خطاب میں عالمی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا اتنے زمانوں میں پہلی مرتبہ کثیرالقطبی عالمی نظام کی آمد دیکھ رہی ہے۔

مزید پڑھیں: عمران خان کی روس، کرغزستان کے صدور سے ملاقات

ان کا کہنا تھا اقتصادی مرکز اور ترقی کی رفتار تیزی سے مشرق کی جانب منتقل ہورہی ہے، مقامی سطح پر تیزی سے انضمام اور بکھری ہوئی ٹیکنالوجیز پختہ ہورہی ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا کو دہشت گردی سے لے ماحولیاتی تبدیلیوں، منشیات اور بیکٹیریا کی مزاحمت کا سامنا ہے، اور آزادانہ تجارت میں رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ جدت اور بڑھتی ہوئی عدم برداشت، اسلامو فوبیا میں اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان غیر قانونی قبضے کے تحت عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی سمیت ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'بھارت کو تمام اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی دوبارہ پیشکش کی ہے'

ان کا کہنا تھا کہ ہم ان چند ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف لہر کو کامیابی سے تبدیل کیا اور پاکستان انسداد دہشت گردی کے لیے اپنے تجربات اور مہارت سے فائدہ پہنچانے کے لیے تیار ہیں۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے امن و مفاہمت کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کو دہراتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں حتمی طور پر اس بات کا دراک کرلیا گیا کہ تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کو مسلسل یکساں دشمنوں کا سامنا ہے جس میں غربت، جہالت، بیماریاں اور ترقی پذیریت شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس میں سیاسی اختلافات اور غیر حل شدہ تنازعات مزید مشکل حالات پیدا کردیتے ہیں، لہٰذا یہ بات ضروری ہے کہ طویل عرصے جاری تنازعات کے پر امن حل کے لیے مواقع سے فائدہ اٹھایا جائے اور خطے کی سالمیت کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔

چینی صدر سے ملاقات

دوسری جانب وزیراعظم پاکستان عمران خان نے چینی صدر شی جن پنگ سے انتہائی خوشگوار ماحول میں ملاقات کی جس میں باہمی تعلقات، سی پیک پر گفتگو بھی ہوئی۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی روابط کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا کہ ملاقات میں چینی صدر نے دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں استحکام کے لیے پاکستانی کوششوں کو سراہا۔

ملاقات میں دونوں ممالک کے سربراہان نے نئے دور میں پاکستان اور چین کے مابین مشترکہ اہداف میں تعاون کی وسعت اور گہرائی کومزید اجاگر کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک نے ہر طرح کے اسٹریٹیجک تعاون کو مزید وسیع کرنے کے عزم کو دہرایا اور وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اس بات کا یقین دلایا کہ ان کی حکومت سی پیک منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گی۔