خلیج عمان میں ٹینکر پر حملے سے کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، یو اے ای

اپ ڈیٹ 14 جون 2019

ای میل

یو اے ای کے وزیر خارجہ نے سعودی عرب میں یمن کے حوثی باغیوں کے میزائل حملے  کے واقعے کی بھی مذمت کی — فائل فوٹو/اے ایف پی
یو اے ای کے وزیر خارجہ نے سعودی عرب میں یمن کے حوثی باغیوں کے میزائل حملے کے واقعے کی بھی مذمت کی — فائل فوٹو/اے ایف پی

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا کہنا ہے کہ خلیج عمان میں آئل ٹینکروں پر 2 علیحدہ حملوں سے خطرناک حد تک کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ انور قرقاش کا کہنا تھا کہ ’عمان میں ٹینکروں پر ہونے والا حملہ قابل فکر ہے اور اس سے کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز خلیج عمان میں 2 تیل بردار جہازوں پر حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد خطے میں کشیدگی کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔

مزید پڑھیں: خلیج عمان میں 2 تیل بردار بحری جہازوں پر ' حملہ '

انور قرقاش نے یمنی باغیوں کا سعودی عرب کے جنوب مغرب میں واقع ایئرپورٹ پر میزائل حملے، جس کے نتیجے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، کی بھی مذمت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’شہریوں پر حملہ کرکے باغیوں نے اپنے عزائم کا اظہار کیا ہے اور اس پر بین الاقوامی برادری کو نظر ڈالنی چاہیے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اقدامات کرنے چاہیے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’کشیدگی کو کم کرنے کی ذمہ داری سب پر ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: ایران 'یقیناً' یو اے ای میں تیل بردار جہاز پر حملوں میں ملوث ہے، مشیر ٹرمپ

دوسری جانب امریکا کے سیکریٹری خزانہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ’ایران کے اس حملے میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ملے ہیں، امریکا کے سینٹرل کمانڈ نے ایرانی پیٹرولنگ کشتی کو ایک جہاز سے نہ پھٹنے والا بم ہٹاتے ہوئے دیکھا ہے‘۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ردعمل میں کہا کہ ’امریکی انتظامیہ نے بغیر کسی ثبوت کے فوری طور پر معاملے میں کودتے ہوئے ایران پر الزامات عائد کیے ہیں‘۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ’جاپانی وزیر اعظم کی جانب سے امریکا - ایران کشیدگی میں کمی کے لیے تہران کے دورے کے بعد امریکا اب سفارت کاری کو سبوتاژ کرنے چاہتا ہے‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ بھی متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ کے ساحلی شہر کی بندرگاہ پر 4 جہازوں میں تخریب کاری کی کوشش کی گئی تھی۔