بھارت نے مذہبی عدم برداشت سے متعلق امریکی رپورٹ مسترد کردی

اپ ڈیٹ 23 جون 2019

ای میل

امریکی رپورٹ کے مطابق گذشتہ 2 برسوں میں لسانی فسادات کی تعداد میں اضافہ ہوا — فائل فوٹو/ڈان نیوز
امریکی رپورٹ کے مطابق گذشتہ 2 برسوں میں لسانی فسادات کی تعداد میں اضافہ ہوا — فائل فوٹو/ڈان نیوز

بھارت نے مذہبی عدم برداشت سے متعلق امریکی رپورٹ مسترد کردی۔

واضح رہے کہ حال ہی میں امریکا نے عالمی مذاہب کو حاصل مذہبی آزادی سے متعلق سالانہ رپورٹ 2018 جاری کی ہے جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ بھارت میں انتہاپسند ہندوؤں نے مسلمان اور ہندوؤں کی نچلی ذات 'دلت' کو دھمکیاں دیں، ہراساں کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: مسلمان شخص کو قتل کرنےاورلاش جلانے کی ویڈیو وائرل

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مذکورہ رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے اعتراض اٹھایا کہ کسی بھی ملک کو ہمارے معاملات پر تنقید کرنے کا حق نہیں۔

مذہبی آزادی سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا کہ گائے کو تحفظ فراہم کرنے کے نام پر مسلمانوں اور دلت پر حملے کیے گئے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 2014 میں نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد میسح برادری کے پیروکاروں کو بھی تبدیلی مذہب کے لیے زور دیا گیا۔

مزید پڑھیں: بھارت: جنونی ہندوؤں کا مسلمان بزرگ پر تشدد، زبردستی سور کا گوشت کھلا دیا

امریکی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’اس حقیقت کے باوجود کہ بھارتی اعداد وشمار میں واضح ہے کہ گذشتہ 2 برسوں میں لسانی فسادات کی تعداد میں اضافہ ہوا لیکن نریندر مودی کی انتظامیہ نے مذکورہ مسئلے کے حل پر کبھی توجہ نہیں دی‘۔

اس حوالے سے بھارتی وزیر خارجہ نے رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی ملک کو ہمارے شہریوں کے بارے میں رائے قائم کرنے کا حق نہیں جہاں انہیں آئینی تحفظ حاصل ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ ’بھارت کو سیکولر ملک ہونے پر فخر ہے جہاں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: ’ گائے ذبح کرنے پر قتل کے واقعات میں پولیس ملوث ہوتی ہے’

انہوں نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ ’بھارت اقلیتوں کو مکمل آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے‘۔

واضح رہے کہ ہومن رائٹس واچ کی ساؤتھ ایشیا ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے کہا تھا کہ رپورٹ کے مطابق مئی 2015 سے لے کر گذشتہ برس دسمبر تک ایسے حملوں میں کم از کم 44 افراد کو قتل کیا جاچکا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے الزام عائد کیا کہ ’ان میں سے 36 افراد مسلمان تھے اور تقریباً تمام مقدمات میں پولیس نے یا تو ابتدائی تحقیقات روک دیں، طریقہ کار کو نظر انداز کیا اور قتل کی واردات یا اس کی پردہ داری میں خود پولیس ملوث تھی‘۔

مزیدپڑھیں: بھارت: گائے لے جانے والے 2 مسلمان تشدد کے بعد قتل

خیال رہے کہ ’لو جہاد‘ کے تحت بھارت بھر میں مسلمانوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے، ہندو انتہاپسندوں کا الزام ہے کہ مسلمان مرد ’لو جہاد‘ کے ذریعے ہندو خواتین سے شادی کرکے انہیں مسلمان ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔