ویڈیو لیک تنازع: پاکستان بار کونسل کی چیف جسٹس سے از خود نوٹس کی درخواست

اپ ڈیٹ 09 جولائ 2019

ای میل

اس قسم کے واقعات سے ملک کے عدالتی نظام کی سالمیت اور معتبریت پر سوال اٹھ جاتے ہیں—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
اس قسم کے واقعات سے ملک کے عدالتی نظام کی سالمیت اور معتبریت پر سوال اٹھ جاتے ہیں—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

اسلام آباد: وکلا کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان بار کونسل (پی بی سی) نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو لیک کے تنازع پر چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ سے از خود نوٹس لینے کی درخواست کی ہے۔

پی بی اے کے تمام اراکین کو ارسال کئے گئے خط میں ایڈوکیٹ راحیل کامران شیخ نے کونسل کو تجویز دی کہ چیف جسٹس سے از خود نوٹس لینے کی درخواست کی جائے جس کی سماعت سپریم کورٹ کا لارجر بینچ کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی بی سی کو اس قسم کی کارروائی کا آغاز ہونے پر سماعت میں شریک ہونے کی درخواست اور عدالت کی معاونت کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز نے جو ویڈیو دکھائی وہ جعلی اور مفروضوں پر مبنی ہے، جج ارشد ملک

خط میں کہا گیا کہ اس قسم کے واقعات سے ملک کے عدالتی نظام کی سالمیت اور معتبریت پر سوال اٹھ جاتے ہیں جس میں مبینہ طور پر ایسا دکھایا جاتا ہے کہ عدلیہ کا ادارہ کمزور ہے جس پر کنٹرول کی جاسکتا ہے۔

خط کے مطابق پی بی سی سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن بھی دائر کرے گی جس میں احتساب عدالت کے جج کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کے احکامات کی درخواست کی جائے گی۔

خیال رہے کہ جج ارشد ملک ہفتے کے روز سے تنازع میں گھرے ہوئے ہیں جب سے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا دینے کے لیے انہیں بلیک میلنگ کے ذریعے دباؤ ڈالا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: مریم نواز احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سامنے لے آئیں

ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے ویڈیو بھی دکھائی تھی جس میں مبینہ طور پر جج ارشد ملک مسلم لیگ (ن) کے ہمدرد کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں اعتراف کررہے تھے کہ انہیں العزیزیہ ریفرنس میں سزا دینے کے لیے بلیک میل کیا گیا۔

مذکورہ ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد جج ارشد ملک نے بذاتِ خود ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں بلیک میلنگ کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ویڈیو کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔

اس کے علاوہ جج نے اس اقدام کے پسِ پردہ عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ ویڈیو نہ صرف حقائق کے برعکس ہے بلکہ مختلف مواقعوں پر ہونے والی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا ویڈیو لیک تنازع میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ

خط میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ بغیر کوئی وقت ضائع کیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کی صورت میں آزاد اور غیر جانبدار انکوائری کروانی کی استدعا کی جائے۔


یہ خبر 9 جولائی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔