چین کا امریکا سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت بند کرنے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 09 جولائ 2019

ای میل

اس معاہدے سے خطے میں ہتھیاروں کا بنیادی توازن تبدیل نہیں ہوگا، ڈی ایس سی اے
— فائل فوٹو/ اے ایف پی
اس معاہدے سے خطے میں ہتھیاروں کا بنیادی توازن تبدیل نہیں ہوگا، ڈی ایس سی اے — فائل فوٹو/ اے ایف پی

چین نے امریکا سے تائیوان کو 2 ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس سے دونوں طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ چین نے سفارتی چینلز کے ذریعے باقاعدہ شکایات درج کی ہیں جن میں امریکی اقدام پر عدم اطمینان اور مخالفت کا اظہار کیا ہے۔

تائیوان میں امریکا کی جانب سے وسیع پیمانے پر پہلی مرتبہ ہتھیار فروخت کیے جائیں گے اور یہ ایک ایسے وقت میں کیا جارہا ہے جب واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تجارتی جنگ کے باعث تعلقات کشیدہ ہیں۔

امریکی ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی (ڈی ایس سی اے) کے مطابق معاہدے میں 108 ایم ون اے ٹو ٹی ابرامس ٹینکس، 250 اسٹینگر اینٹی ایئر کرافٹ میزائل، متعلقہ آلات اور معاونت شامل ہیں جن کی لاگت اندازاً 2 ارب 20 کروڑ ڈالر سے زائد ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا چین تجارتی جنگ، ‘بیجنگ میں مذاکرات کا پہلا دور مثبت رہا‘

ڈی ایس سی اے نے بتایا کہ ہتھیاروں کی مجوزہ فروخت سے تائیوان کے جنگی ٹینکوں کی تعداد میں اضافہ اور فضائی دفاعی نظام مضبوط ہوگا، تائیوان کی سیکیورٹی اور دفاعی قابلیت کی بہتری میں مدد سے امریکا کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی حمایت ہوگی‘۔

امریکی دفاعی ایجنسی نے مزید بتایا کہ اس معاہدے سے خطے میں ہتھیاروں کا بنیادی توازن تبدیل نہیں ہوگا اور اس سے کانگریس کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے، امریکی قانون سازوں کے پاس اس فروخت پر اعتراض اٹھانے کے لیے 30 دن ہیں اور کوئی اعتراض نہیں اٹھایا جائے گا۔

گینگ شوانگ نے کہا کہ پیش کیا گیا معاہدہ 'ون چائنا' کے اصول کی سنگین خلاف ورزی اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’چین، امریکا سے اصرار کرتا ہے کہ وہ ہتھیاروں کی فروخت فوری طور پر منسوخ کرے اور چین - امریکا تعلقات اور آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کو نقصان سے بچانے کے لیے تائپے کے ساتھ ملٹری تعلقات ختم کرے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا اور چین کے مابین ’تجارتی جنگ بندی‘ کا معاہدہ

خیال رہے کہ 1949 میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد تائیوان میں چین سے علیحدہ حکومت قائم ہوئی لیکن بیجنگ اسے اپنا علاقہ تصور کرتا ہے، جسے اگر ضروری ہوا تو طاقت کے ذریعے واپس حاصل کیا جائے گا۔

چین نے 2016 میں تائیوان کی صدر سائی انگ وین کے انتخابات کے بعد تائپے پر سفارتی اور فوجی دباؤ میں اضافہ کیا، صدر کا تعلق ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی سے ہے جو تائیوان کو ’ایک چین‘ کا حصہ ماننے سے انکار کرتی ہے۔

چین نے تائیوان کے قریب فوجی مشقیں شروع کیں اور اسے علیحدہ ملک تسلیم کرنے قوموں کی تعداد میں کمی کی ہے۔

امریکا نے 1979 میں سفارتی طور پر چین کو اہمیت دی تھی لیکن تائپے کا اہم اتحادی رہا ہے اور ہتھیاروں کی فروختت کرتا رہا ہے۔

اس وقت کانگریس کی جانب سے منظور کیے گئے قوانین کے تحت واشنگٹن کو تائیوان کے دفاع کے لیے اسے ہتھیار فراہم کرنا ضروری تھا۔

پرانے آلات

ٹرمپ انتظامیہ تائیوان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اسے ہتھیاروں کی فروخت کی خواہش مند ہے۔

تائیوان کے پاس چین کے ساتھ تنازع کی صورت میں زیادہ فوج اور ہتھیار موجود ہوں گے اور وہ خاص طور پر اپنی فضائیہ میں بڑھتے ہوئے پرانے آلات کو اپ گریڈ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ‘چین، امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات سے قبل شرائط کا قائل نہیں‘

اس حوالے سے تائیوان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’تائیوان کو بیجنگ سے کئی دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ایم ون اے ٹو ٹینک اور میزائلوں کی فروخت سے ہماری دفاعی قابلیت میں اضافہ ہوگا‘۔

تائیوان کی فوج کے لیفٹننٹ جنرل یانگ ہئی مینگ نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ایم ون اے ٹو ٹینک بہت قابل اعتماد ہیں اور ہمارے زمینی دفاع کا ایک ضروری حصہ بنیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ایم ون اے ٹو ہمارے پرانے ٹینکوں کی جگہ لے گا جس سے ہماری دفاعی قابلیت میں موثر اضافہ ہوگا‘۔