سپریم کورٹ: خودکش دھماکوں کے الزام میں عمر قید کاٹنے والا مجرم عدم شواہد پر بری

11 جولائ 2019

ای میل

سپریم کورٹ نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے عمر قید کے مجرم کو بری کیا—فائل فوٹو: ڈان
سپریم کورٹ نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے عمر قید کے مجرم کو بری کیا—فائل فوٹو: ڈان

سپریم کورٹ نے خودکش دھماکوں کے الزام میں عمر قید کی سزا پانے والے مجرم ندیم حسین کو عدم شواہد کی بنا پر بری کردیا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مجرم ندیم حسین کے کیس کی سماعت کی۔

عدالت میں وکیل نے کہا کہ 2008 میں پاکستان نیول وار کالج لاہور کے باہر 2 خودکش دھماکے ہوئے، جس میں 3 افراد جاں بحق اور 18 زخمی ہوگئے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اتنا بڑا واقعہ ہوگیا، 2 دھماکے ہوئے لیکن کوئی ثبوت نہیں، ثبوت صرف دھماکے ہی ہیں۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: دہشتگردی کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے پاس مجرم کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں، آپ کہہ رہے ہیں، مجرم کی دکان تھی، جہاں 2 نامعلوم افراد کو جیکٹس دی گئیں، اگر آپ کی تمام شہادتیں مان بھی لیں تو لگتا ہے کہ مجرم کی دکان تب استعمال ہوئی جب وہ موجود بھی نہیں تھا۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ مجرم کو ویسے ہی اس کیس میں گھسیٹا گیا جبکہ اس کا نام ایف آئی آر میں بھی موجود نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بیوی کو زندہ جلانے کے الزام میں عمر قید کاٹنے والا مجرم بری

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ افسوس کی بات ہے کہ نچلی عدالتوں نے یہ چیزیں کیوں نہیں دیکھیں، اتنا بڑا دھماکا ہوگیا، اس لیے سزا دے دی، ہائی کورٹ اتنی بڑی عدالت ہے اس نے بھی شواہد کو نہیں دیکھا۔

بعدازاں عدالت نے مجرم ندیم حسین کو عدم شواہد کی بنیاد پر شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔

واضح رہے کہ ندیم حسین کو ٹرائل کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی تھی، جسے ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا، تاہم عدالت عالیہ کے فیصلے پر مجرم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔