فواد چوہدری کا ہتک عزت کا دعویٰ، عدالت کا سمیع ابراہیم کو نوٹس

اپ ڈیٹ 17 جولائ 2019

ای میل

سمیع ابراہیم نے مجھ پر سنگین الزامات عائد کیے، صحافی کو طلب کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے، فواد چوہدری کا موقف — فائل فوٹو/ڈان نیوز
سمیع ابراہیم نے مجھ پر سنگین الزامات عائد کیے، صحافی کو طلب کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے، فواد چوہدری کا موقف — فائل فوٹو/ڈان نیوز

لاہور کی سیشن عدالت نے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے ہتک عزت کے دعوے پر صحافی سمیع ابراہیم کو نوٹس جاری کردیا۔

واضح رہے کہ 5 جولائی کو فواد چوہدری نے صحافی سمیع ابراہیم کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ کیا تھا۔

فواد چوہدری نے اپنے دعوے میں موقف اپنایا کہ 'سمیع ابراہیم نے میرے خلاف جھوٹی خبریں نشر کروائی، سوشل میڈیا اور ٹی وی چینل پر من گھڑت خبروں سے میری شہرت متاثر ہوئی'۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم کا صحافی سمیع ابراہیم کو فون، تھپڑ کے واقعے پر اظہار افسوس

ان کا کہنا تھا کہ 'سمیع ابراہیم نے مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کی اور غیر ملکی ایجنسی کا ایجنٹ بھی قرار دیا جس کی وجہ سے میرا سیاسی کیریئر اور نجی زندگی شدید متاثر ہوئی'۔

انہوں نے کہا کہ 'سمیع ابراہیم نے دعویٰ کیا تھا کہ میں بھارتی خفیہ ایجنسی (را) اور امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ساتھ مل کر پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کر رہا ہوں اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت گرانے کے لیے سازشیں کر رہا ہوں'۔

اپنی پٹیشن میں انہوں نے کہ 'ایک وفاقی وزیر کے خلاف یہ نہایت سنگین نوعیت کے الزامات ہیں جس سے میری سیاسی حیثیت کو شدید نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کو بھی خدشات پیدا ہوئے تھے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'سمیع ابراہیم نے میری ساکھ اور سیاسی حیثیت کو نقصان پہنچانے کا کہہ کر مجھ سے تاوان وصول کرنے کی بھی کوشش کی تھی جس میں ناکامی پر انہوں نے مجھے بدنام کرنے کی مہم چلائی جو پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) میں جرم ہے اور ملزم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے'۔

انہوں نے اپنی پٹیشن میں سمیع ابراہیم کو طلبی کا سمن جاری کرنے اور قانون کے مطابق سزا دینے کی بھی استدعا کی۔

یہ بھی پڑھیں: فواد چوہدری کا صحافی کو تھپڑ، وزارت نے وضاحت کردی

عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج امجد علی شاہ نے صحافی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے 19 جولائی کو جواب طلب کرلیا۔

سمیع ابراہیم-فواد چوہدری تنازع

فواد چوہدری اور سمیع ابراہیم میں تنازع گزشتہ ماہ سامنے آیا جب وفاقی وزیر نے ٹوئٹر پر صحافی کے الزامات پر سخت رد عمل دیا تھا۔

سمیع ابراہیم نے بول ٹی وی پر ایک پروگرام میں فواد چوہدری کے ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے ان پر وزیر اطلاعات کے عہدے پر سرکاری گاڑیوں کا ذاتی استعمال کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

بعد ازاں اس ہی ماہ صحافی نے فیصل آباد کے منصور آباد تھانے میں فواد چوہدری کے خلاف تھپڑ مارنے کی شکایت درج کروائی تھی۔

مزید پڑھیں: صحافی کیلئے ٹوئٹر پر نامناسب زبان کا استعمال، فواد چوہدری پر تنقید

سوشل میڈیا پر پھیلی سمیع ابراہیم کی شکایت کی کاپی جسے سمیع ابراہیم نے بھی ری ٹویٹ کیا تھا، میں لکھا تھا کہ فواد چوہدری نے انہیں تھپڑ مارا اور گالیاں دیں۔

درج کی گئی شکایت میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انہیں دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔

بعد ازاں وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے الزامات پر رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ واقعے کو 2 اداروں کے درمیان تصادم کے بجائے 2 افراد کے درمیان تنازع سمجھا جانا چاہیے۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیا تھا۔