قبائلی اضلاع کے انتخابی نتائج کا اعلان، آزاد امیدوار سرفہرست

اپ ڈیٹ 21 جولائ 2019

ای میل

تاریخ میں پہلی مرتبہ سابقہ فاٹا کے قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات ہوئے— فوٹو: اے ایف پی
تاریخ میں پہلی مرتبہ سابقہ فاٹا کے قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات ہوئے— فوٹو: اے ایف پی

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے خیبر پختونخوا (کے پی) میں ضم ہونے والے اضلاع (سابق فاٹا) کے ضمنی انتخابات کے مکمل نتائج کا اعلان کردیا جس کے مطابق 16 حلقوں میں آزاد امیدوار 6 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام امیدوار ناکام ہوئے۔

ای سی پی کی جانب سے جاری نتائج کے مطابق آزاد امیدواروں نے 6، حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 5، جمعیت علما اسلام (ف) نے 3، عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) اور جماعت اسلامی نے ایک،ایک حلقے میں کامیابی حاصل کی۔

ای سی پی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ضم سابقہ فاٹا کے 7 قبائلی اضلاع اور 6 قصبوں کی کل 16 نشستوں پر انتخابات ہوئے۔

حلقہ جاتی نتائج

ای سی پی کی جانب سے جاری نتائج کے مطابق پی کے-100 ون باجود میں پی ٹی آئی کے انور زیب خان نے جماعت اسلامی کے وحید گل کو ایک ہزار 176 ووٹوں کے فرق سے شکست دی جبکہ تیسرے نمبر پر اے این پی کے گل افضل خان رہے۔

باجوڑ کے دوسرے حلقے پی کے-101 میں بھی حکمران جماعت پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کا مقابلہ ہوا اور کامیابی پی ٹی آئی کے اجمل خان کو ملی جنہوں نے جماعت اسلامی کے صاحبزادہ ہارون الرشید کو ایک ہزار 726 ووٹوں سے شکست دی۔

پی کے-102 باجوڑ تھری میں جماعت اسلامی کے سراج الدین نے پی ٹی آئی کے حامد الرحمٰن کو 5 ہزار 652 ووٹ کے واضح فرق سے شکست دی جبکہ آزادامید وار خالد خان کی تیسری پوزیشن رہی۔

باجوڑ کے تینوں حلقوں میں بالترتیب 33 اعشاریہ 5، 29 اعشاریہ 3 اور 31 اعشاریہ 2 ٹرن آوٹ رہا۔

اے این پی کے نثار احمد نے پی کے-103 مہمند ون میں پی ٹی آئی کے رحیم شاہ کو ایک ہزار 571 ووٹ کے مارجن سے شکست دی جبکہ جمعیت علما اسلام (ف) کے گلاب نور تیسرے نمبر پر رہے۔

مہمند کے دوسرے حلقے پی کے- 104 میں آزاد امیدوار عباس الرحمٰن نے جمعیت علمااسلام (ف) کے محمد عارف کو ایک ہزار 950 ووٹوں سے شکست دی، پی ٹی آئی کے سجاد خان تیسرے نمبر پر رہے۔

مہمند کے پہلے حلقے میں 86 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے جہاں ٹرن آؤٹ 236 اعشاریہ 3 اور دوسرے حلقے کے 108 پولنگ اسٹیشنز میں 28 اعشاریہ 3 فیصد ٹرن آؤٹ رہا۔

پی کے-105 خیبر ون میں آزاد امیدوار شفیق آفریدی نے 8 ہزار 988 ووٹ کے بڑے مارجن سے میدان مارا جہاں ان کا مقابلہ آزاد امیدوار شیرمت خان سے تھا جبکہ پی ٹی آئی کے شاہد حسین تیسرے نمبر پر رہے۔

خیبر ون میں 110 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے تھے اور ٹرن آوٹ 27 اعشاریہ 4 فیصد رہا۔

پی کے -106 خیبر ٹو میں بھی آزاد امیدواروں میں مقابلہ ہوا تاہم بلاول آفریدی نے خان شید آفریدی کو 6 ہزار 517 ووٹ کے مارجن سے شکست دی، حکمران جماعت کے امیر محمد خان آفریدی تیسرے نمبر پر رہے۔

خیبر کے تیسرے حلقے میں ایک مرتبہ پھر آزاد امید وار آمنے سامنے آئے، محمد شفیق نے حمیداللہ جان کو ایک ہزار 368 ووٹ سے شکست دے کر فتح سمیٹی تو تحریک انصاف کے محمد زبیر تیسرے نمبر پر رہے۔

خیبر کے دوسرے اور تیسرے حلقے میں بالترتیب 89 اور 146 پولنگ اسٹیشنز تھے جہاں 23 اعشاریہ 4 اور 17 اعشاریہ 5 فیصد ٹرن آوٹ رہا۔

کرم کے پہلے حلقے پی کے-108 میں جمعیت علما اسلام (ف) کے محمد ریاض نے آزاد امیدوار جمیل خان کو صرف 430 ووٹ سے شکست دی، اس حلقے میں تیسری پوزیشن بھی آزاد امیدوار کو ملی۔

پی کے-109 کرم ٹو میں پی ٹی آئی کے سید قبال میاں نے آزاد امید وار عنایت علی کو 16 ہزار 561 ووٹوں کے سب سے بڑے مارجن سے شکست دی۔

دونوں حلقوں میں بالترتیب 135 اور 131 پولنگ اسٹیشنز تھے اور ٹرن آوٹ کے اعتبار سے کرم ٹو 40 اعشاریہ ایک فیصد کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا اور کرم ون میں 26 اعشاریہ 3 فیصد ٹرن آؤٹ رہا۔

پی کے 110 اورکزئی میں آزاد امیدوار سید غازی غازان جمال نے واضح برتری سے پی ٹی آئی کے شعیب حسن کو 3 ہزار 749 ووٹ سے شکست دی۔

اورکزئی کے واحد حلقے میں سب سے زیادہ 176 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے تھے لیکن ٹرن آؤٹ صرف 24 اعشاریہ ایک فیصد رہا۔

شمالی وزیرستان کے پہلے حلقے میں حکمران جماعت پی ٹی آئی نے فتح سمیٹی جہاں پی کے-111 شمالی وزیرستان ون میں محمد اقبال خان نے جمعیت علما اسلام کے (ف) کے سمیع الدین کو 912 ووٹ سے ہرایا۔

شمالی وزیرستان ون میں 76 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے تھے اور ٹرن آؤٹ 26 اعشاریہ 3 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

پی کے-112 شمالی وزیرستان ٹو میں آزاد امیدوار میر کالام نے صوبائی اسمبلی کی نشست حاصل کی اور انہوں نے جمعیت علما اسلام (ف) کے صدیق اللہ اور پاکستان تحریک انصاف کے اورنگ زیب خان کو شکست دی۔

میرکالام نے صدیق اللہ سے 4 ہزار 79 ووٹ کی برتری سے کامیابی حاصل کی۔

پی کے-113 جنوبی وزیرستان ون میں جمیعت علما اسلام کے حافظ اسلام الدین نے آزاد امیدوار وحید خان پر 677 ووٹوں سے برتری حاصل کی۔

پی کے-114 جنوبی وزیرستان ٹو میں پی ٹی آئی کے نصیراللہ خان نے آزاد امیدوار محمد آصف کو 842 ووٹ سے شکست دی جبکہ جمعیت علما اسلام (ف) کے سالک تیسرے نمبر پر رہے۔

جنوبی وزیرستان میں 98 پولنگ اسٹیشن تھے جن میں سب سے کم 22 اعشاریہ 6 فیصد ٹرن آوٹ رہا۔

جمعیت علما اسلام (ف) کے محمد شعیب نے پی-115 ایکس فرنٹیئر ریجنز میں پی ٹی آئی کے عابدالرحمٰن کو کانٹے دار مقابلے کے بعد صرف 74 ووٹ سے شکست دے کر نشست حاصل کی۔

سابق فرنٹیئر ریجنز میں مجموعی طور پر 163 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے اور 24 اعشاریہ 7 فیصد ٹرن آؤٹ رہا۔

اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی مبارک باد

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے قبائلی اضلاد میں کامیاب انتخابات کے انعقاد پر نئے اضلاع کے عوام اور سیکیورٹی اداروں کو مبارک باد دی۔

اسد قیصر کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخواہ کی صوبائی اسمبلی کے لیے قبائلی اضلاع میں پرامن انتخابات کا انعقاد جمہوریت کی فتح ہے، اور پر امن انتخابات کا انعقاد قبائلی عوام کی جمہوریت اور امن پسندی سے گہری وابستگی کا عکاس ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ سابق فاٹا اور قبائلی علاقے کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اس کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے بھی علاقے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور پر امن انتخابات کا انعقاد انہی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔

انتخابات کو مقامی افراد کے لیے سود مند قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے قبائلی علاقے کے عوام کو ان کے حقوق دلوانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے اور ان انتخابات سے عوام کی محرومیوں کا ازالہ ہو گا۔

اسد قیصر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے وژن کے مطابق قبائلی علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لیے ترجیحی بنیادوں خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ فاٹا اصلاحات کی پارلیمنٹ سے منظوری کے لیے کردار ادا کرنے والی تمام سیاسی جماعتیں مبارک کی مستحق ہیں۔

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اپنے بیان میں کہا کہ قبائلی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی امن کے قیام اور دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائیوں کی بدولت امن کی بحالی ممکن ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی عوام نے صوبائی سطح پر نمائندگی کے لیے اپنے نمائندوں کو منتخب کیا ہے جس سے فاٹا میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا اور اب فاٹا کے عوامی نمائندے عوام کے حقوق کی صحیح معنوں میں ترجمانی کر سکیں گے۔

قاسم خان سوری نے کہا کہ قبائلی علاقے کے عوام محب وطن پاکستانی ہیں اور ملک کی خاطر ان کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

قبائلی اضلاع میں پہلے صوبائی انتخابات

خیال رہے کہ 20 جولائی کو خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے اضلاع میں صوبائی نشستوں کے لیے انتخابات منعقد ہوئے۔

خیبر پختوخوا اسمبلی کی 16 عام نشستوں پر بڑی سیاسی جماعتوں، سابق اراکین اسمبلی اور آزاد امیدواروں کے مابین دلچسپ مقابلے کی توقع کی جارہی تھی۔

ان انتخابات میں 28 لاکھ ووٹرز کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا تھا جس میں مردوں کی تعداد 16 لاکھ 70 ہزار جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 11 لاکھ 30 ہزار ہے۔

پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ووٹ دینے کے لیے ووٹرز کا ٹرن آؤٹ بھی زیادہ دیکھا گیا۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا تھا کہ دور افتادہ علاقہ ہونے اور ٹیکنالوجی کی سہولت میسر نہ ہونے کی وجہ سے نتائج میں تاخیر ہورہی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے قبائلی اضلاع میں پرامن انتخابات کے انعقاد پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ پرامن انتخابات کا انعقاد کروا کر پوری دنیا میں ثابت کر دیا کہ قبائلی عوام جمہوری سوچ کی پرامن قوم ہے، جبکہ انتخابات کے پرامن انعقاد پر انتخابی عملے، سیکورٹی عملے اور دیگر اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

سیکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے جہاں آرمی، لیویز، خاصہ دار فورسز پولیس کے ہمراہ پولنگ اسٹیشن پر تعینات تھیں۔