تحریک عدم اعتماد: اپوزیشن کا شکست قبول کرنے سے انکار، اے پی سی بلانے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 01 اگست 2019

ای میل

تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ کے دوران ضمیر فروشی ہوئی ہے، شہبازشریف   — فوٹو: ڈان نیوز
تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ کے دوران ضمیر فروشی ہوئی ہے، شہبازشریف — فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ہم نے آئندہ ہفتے آل پارٹیز کانفرنس ( اے پی سی ) بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کے بعد اسلام آباد میں اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ جن اراکین نے آدھے گھنٹے کے اندر ضمیر بیچا تمام سیاسی جماعتیں ان کی نشاندہی کریں گی۔

پریس کانفرنس میں شہباز شریف کے ہمراہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب، احسن اقبال چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری،نیشل پارٹی (این پی) کے سربراہ سینیٹر میر حاصل بزنجو، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ظفرالحق اور دیگر موجود تھے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہم قوم کو بتائیں گے کہ وہ 14 لوگ کون تھے جنہوں نے ضمیر فروشی کرکے جمہوریت کو نقصان پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اگلے ہفتے اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس ( اے پی سی ) بلانے کا فیصلہ کیا ہے اور مختلف آپشنز پر غور کریں گے اور آج ہونے والی ضمیر فروشی اور ہارس ٹریڈنگ کے بعد آئندہ لائحہ عمل سامنے لائیں گے۔

مزید پڑھیں: چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تبدیلی کی تحاریک ناکام

شہباز شریف نے کہا کہ جب بھی سینیٹ کا اجلاس ہوگا جس میں ہماری جماعتیں اس ہارس ٹریڈنگ کو بے نقاب کریں گی۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ اوپن ووٹنگ ہوئی تو اپوزیشن کے سینیٹرز کی تعداد 64 تھی، خفیہ بیلٹ میں 14 ووٹ کم ہوگئے، انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ جیت کر بھی جمہور کے سامنے شرمندہ ہوئے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پچھلے سال جو دھاندلی زدہ الیکشن ہوئے تھے آج پھر اس کی تاریخ دہرائی گئی ہے۔

اخلاقی طور پر چیئرمین سینیٹ کو استعفیٰ دینا چاہیے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پورے ملک نے دیکھا کہ کس طرح اس عوام دشمن اور سلیکٹڈ حکومت کے حملے جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام پر حملہ ہوا، آج پھر سے اس حکومت نے پھر سے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا، آج پیٹرول کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے جبکہ دنیا میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی ہورہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک طرف عوام کا معاشی قتل ہورہا ہے اور دوسری جانب وفاق کی نمائندگی کرنے والے سینیٹ پر کھلے عام حملہ ہوا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ اوپن ووٹ میں 64 سینیٹرز نے جبکہ خفیہ ووٹنگ میں 50سینیٹرز نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف ووٹ دیا، اخلاقی طور پر صادق سنجرانی کو آج ہی استعفیٰ دینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو کی حاصل بزنجو کے باآسانی چیئرمین سینیٹ بننے کی پیش گوئی

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام یہ نہیں مانتے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سینیٹ پر حملہ ہے ہم اس کا حساب لیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم پتہ لگائیں گے کہ پارٹی میں کون تھا جو دباؤ میں آیا جس نے اپنا ضمیر بیچا، 50 سینیٹرز نے دباؤ کے باوجود ووٹ دیا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ کم از کم 50 سینیٹرز نے تحریک عدم اعتماد کے حق ووٹ دیا لیکن 14 سینیٹرز نے اپنی پارٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہم انہیں نہیں چھوڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ جاری رہئے گا ہم اے پی سی بلارہے ہیں، ہم سینیٹ میں صاف اور شفاف الیکشن کروانے کی اصلاحات لے کر آئیں گے۔

مزید پڑھیں: حکومت اور اپوزیشن سینیٹ میں مقابلے کے لیے تیار

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم رولز کو دیکھیں گے اور چیئرمین سینیٹ کا مقابلہ کریں گے، اگر یہ سمجھتے ہیں کہ عوام کے جیب پر ڈاکا ڈالیں گے وفاق پر حملہ کریں گے اور ہم خاموش رہیں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ہم سڑکوں پر اور پارلیمان میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن جیتتی تو بھی ہماری جیت تھی اور ہار کر بھی ہماری جیت ہے، ہارتے ہوئے ہم نے کٹھ پتلی سینیٹرز کو بے نقاب کیا ہے، ہم نے چیئرمین سینیٹ کو بے نقاب کیا۔

میں ہارا نہیں، جیت گیا ہوں، حاصل بزنجو

نیشل پارٹی (این پی) کے سربراہ سینیٹر میر حاصل خان بزنجو نے کہا کہ تمام اپوزیشن کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھ نامزد کیا، میں ہارا نہیں ہوں، میں جیت گیا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ اے پی سی میں اس کھیل میں ملوث تمام قوتوں کو بے نقاب کریں گے۔

حاصل بزنجو نے کہا کہ کہا گیا وزیر خارجہ اور گورنر پنجاب سینیٹ الیکشن کی حکمت عملی طےکررہے ہیں بھلا وزیر خارجہ اور گورنر پنجاب کا چیئرمین سینٹ الیکشن سے کیا تعلق ہے۔

مزید پڑھیں: حاصل بزنجو چیئرمین سینیٹ کیلئے اپوزیشن کے متفقہ امیدوار نامزد

ان کا کہنا تھا کہ میں تو اسی وقت جیت گیا تھا جب اوپن ووٹ میں 64 سینیٹرز نے مجھے ووٹ دیا۔

حاصل بزنجو نے کہا کہ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، جب تک پارلیمان کی بالادستی قائم نہیں ہوگی اس وقت تک اپوزیشن جماعتیں لڑتی رہیں گی۔

قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا تھا کہ ضمیر فروشوں کی وجہ سے آج جمہوریت کو نقصان پہنچا۔

ہمارے 14 ووٹ ضمیر فروشی کی نذر ہوئے، شہباز شریف

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحاریک ناکام ہونے سے متعلق میڈیا سے گفتگو میں شہباز شریف نے کہا تھا کہ آج ہمارے 14 ووٹ ضمیر فروشی کی نذر ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ کے دوران ضمیر فروشی ہوئی جس کی وجہ سے جمہوریت کو نقصان پہنچا۔

65 ووٹ والے ہار گئے، 36 ووٹ والے جیت گئے، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر اور نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا مقابلہ میدان میں نہیں، میدان سے باہر ہی کیا جاسکتا ہے۔

چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہونے کے بعد مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا کہ ' 65 ووٹ والے ہار گئے، 36 ووٹ والے جیت گئے، پاکستانیوں 2018 کا الیکشن اب سمجھ آیا؟'

انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ ' 14 دھوکے بازوں اور پیٹھ میں چھرا گھونپنے والوں کی شناخت ہونی چاہیے، ان کے سامنے لائے جائیں' ۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ 'نواز شریف کا مقابلہ میدان میں نہیں، میدان سے باہر ہی کیا جا سکتا ہے "خفیہ" بیلیٹ کے ذریعے۔ جو خفیہ نہیں ہو گا، نواز شریف جیت جائے گا'۔

یہ بھی پڑھیں: صادق سنجرانی کیخلاف عدم اعتماد تحریک ناکام ہونے پر صحافیوں کا ردعمل

خیال رہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحاریک ناکام ہوگئیں اور دونوں اپنے اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے۔

ملکی تاریخ میں پہلی بار چیئرمین سینیٹ کو عہدے سے ہٹانے کی اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر ایوان بالا میں رائے شماری ہوئی اور قرارداد کے حق میں 50 ووٹ ڈالے گئے، مخالفت میں 45 ووٹ پڑے اور 5 ووٹ مسترد ہوئے۔

تاہم تحریک کی منظوری کے لیے مطلوبہ 53 ووٹ نہ ملنے کی وجہ سے چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوگئی۔

الیکشن کروائے جائیں تو حکومت کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی،نواز شریف

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن کروائے جائیں تو حکومت کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔

مریم نواز سے ملاقات میں نواز شریف نے سینیٹ الیکشن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپوزیشن کا متفقہ امیدوار میر حاصل بزنجو ہیں، وہی چیئرمین سینیٹ ہوں گے۔

مزید پڑھیں: چیئرمین سینیٹ عزت بچائیں اور خود ہی استعفیٰ دے دیں، بلاول بھٹو زرداری

نواز شریف نے کہا کہ چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد اس لیے لائی گئی کیونکہ انہوں نے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔

مریم نواز سے ملاقات میں نوازشریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں پر تشویش کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ حکومت غریب عوام کا خون چوس رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے، ڈالر کی اونچی پرواز کے بعد پیٹرول بھی عوام کی پہنچ سے دور کر دیا گیا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ اس ملک میں پہلی بار ایسی حکومت آئی ہے جو ایک سال میں اتنی غیرمقبول ہوئی کہ اگر الیکشن کروائے جائیں تو ان کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک عدم اعتماد: حکومت اور اپوزیشن کے اہم اجلاس

ان کا کہنا تھا کہ ملک کا ہر طبقہ پی ٹی آئی حکومت سے نجات چاہتا ہے، ہم حق کی آواز بلند کرتے رہیں گے، حق و باطل کی جنگ میں فتح حق کی ہوگی۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ن لیگی رہنمائوں اور ورکرز پر بے بنیاد مقدمات بنائے جارہے ہیں، انسداد کرپشن کی ٹیم میرے پاس آئی وہ اس دور کے مقدمے کی بات کررہے ہیں جو مجھے یاد ہی نہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نے کہا کہ اگرمریم نواز کی خبریں ٹی وی و اخبارات پر چلنے کی پابندی ہے تو حکومت نوٹیفکیشن عوام کے سامنے لائے، وجہ بتائی جائے کہ مریم نواز کی آواز کیوں دبائی جارہی ہے۔