بھارت نے آرٹیکل 370 کی منسوخی سے قبل آگاہ نہیں کیا، امریکا

اپ ڈیٹ 07 اگست 2019

ای میل

مقبوضہ کشمیر میں اضافی بھارتی فوجی تعینات کیے گئے ہیں—فائل فوٹو: رائٹرز
مقبوضہ کشمیر میں اضافی بھارتی فوجی تعینات کیے گئے ہیں—فائل فوٹو: رائٹرز

امریکا نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق بھارتی میڈیا کی ان رپورٹس کو جھوٹا قرار دے دیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے سے قبل واشنگٹن کو آگاہ کیا تھا۔

جنوبی اور وسطیٰ ایشیائی امور کے امریکی ادارے (ایس سی اے) نے ٹوئٹ میں اپنے ردعمل کا اظہار کیا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق فیصلے پر امریکا کو اعتماد میں نہیں لیا۔

اس حوالے ٹوئٹ میں سے واضح کیا گیا کہ ’بھارتی میڈیا رپورٹس کے برعکس، نئی دہلی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے سے پہلے مطلع نہیں کیا اور نہ ہی مشاورت کی‘۔

واضح رہے کہ امریکی نائب معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا ایلس ویلز کی اجازت سے مذکورہ ٹوئٹ جاری کیا گیا۔

اس ضمن میں این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق نیوز ویب سائٹ دی پرنٹ نے 5 اگست کو دعویٰ کیا تھا کہ وزیر امور خارجہ ایس جے شنکر نے اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو کو مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق آگاہ کیا تھا'۔

دی پرنٹ نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایس جے شنکر نے مائیک پومپیو کو بینکاک میں آرٹیکل 370 کی منسوخی سے متعلق آگاہ کیا۔

مزید پڑھیں: ’بدقسمتی سے ہمارا سب سے بڑا خوف سچ ثابت ہوگیا‘

اسی نیوز ویب سائٹ کے مطابق بعد ازاں فروری میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے اپنے امریکی ہم منصب جان بولٹن کو مقبوضہ کشمیر سے متعلق اٹھائے جانے والے اقدامات کی پیشگی اطلاع دی۔

خیال رہے کہ پیر کو بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ایک صدارتی حکم کے ذریعے کشمیریوں سے وہ خصوصی حیثیت واپس لے لی تھی جو انہیں 7 دہائیوں سے ملی ہوئی تھی، اس کے علاوہ مقبوضہ وادی میں غیرمعینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کرکے منتخب رہنماؤں کو نظر بند کردیا گیا تھا۔

بھارت نے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کردیا تھا اور اس کے خاتمے سے پورے بھارت سے تعلق رکھنے والے لوگ اب مقبوضہ کشمیر میں جائیداد لے سکیں گے اور وہ وہاں مستقل طور پر رہائش اختیار کرسکیں گے۔

مزیدپڑھیں: بھارتی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی، مقبوضہ کشمیر پر غیرقانونی اقدام پر احتجاج

اس تمام صورتحال پر امریکا نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ نئی دہلی ان اقدامات کو اندرونی معاملات قرار دیتا ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان مورگس اورٹاگس نے کہا تھا کہ'جموں اور کشمیر میں ہونے والے واقعات پر گہری نظر رکھی جارہی ہے جبکہ ہم بھارت کی جانب سے جموں اور کشمیر سے اس کی آئینی حیثیت واپس لینے کے فیصلے اور بھارت کے اس ریاست کو وفاق کے زیرِ انتظام 2 علاقوں میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں'۔