مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی فیصلے پر فوری توجہ دینا ہوگی، لِنزے گراہم

اپ ڈیٹ 08 اگست 2019

ای میل

شمیر میں بڑھتے ہوئے بحران سے متعلق پاکستانی وزیر خارجہ سے بات ہوئی، لنزے گراہم 
— فوٹو: ٹوئٹر
شمیر میں بڑھتے ہوئے بحران سے متعلق پاکستانی وزیر خارجہ سے بات ہوئی، لنزے گراہم — فوٹو: ٹوئٹر

امریکی سینیٹر لِنزے گراہم کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے سے متعلق بھارتی فیصلے پر فوری توجہ دینا ہوگی۔

ری پبلکن سینیٹر لِنزے گراہم نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے مقبوضہ کشمیر میں کشیدگی میں اضافے پر بات کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ موجودہ کشیدگی میں کمی کے لیے تعاون کرے گی۔

سینئر سینیٹر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا کہ 'کشمیر میں بڑھتے ہوئے بحران سے متعلق پاکستانی وزیر خارجہ سے بات ہوئی، کشیدگی میں مزید اضافے سے قبل کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے بھارتی فیصلے پر فوری توجہ دینا ہوگی‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ امید ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان اور بھارت دونوں کو موجودہ بحران سے نکلنے کے حل میں معاونت فراہم کرے گی‘۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا بھارت کے ساتھ تجارت معطل، سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ

لِنزے گراہم نے کہا کہ ’ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی محاذ آرائی آخری آپشن ہونا چاہیے‘۔

خیال رہے کہ امریکی سینیٹر کا مذکورہ بیان پاکستان کی جانب سے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے اور دو طرفہ تجارت معطل کرنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔

یاد رہے کہ 7اگست کو قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے اہم اجلاس میں بھارت سے دوطرفہ تجارت معطل کرنے اور سفارتی تعلقات کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

یہی نہیں بلکہ وزیراعظم عمران خان نے تمام سفارتی چینلز کو فعال کرنے اور پاک فوج کو تیار رہنے کی ہدایت بھی کی تھی۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی گئی تھی، جسے بھارت کی جانب سے مسترد کیا گیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 جولائی کو دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ان سے کہا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر ثالث کا کردار ادا کریں۔

تاہم بھارت نے امریکی صدر کے بیان کو مسترد کردیا تھا لیکن بعد ازاں ٹرمپ نے اپنے موقف کو دہرایا تھا اور کہا تھا کہ اگر مسئلہ کشمیر پر بھارت اور پاکستان درخواست کرتے ہیں تو وہ ثالثی کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پارلیمان سے متفقہ قرار داد منظور، مقبوضہ کشمیر پر بھارتی اقدامات کی مذمت

بعد ازاں وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ ہفتے بھارت کی جارحانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ' امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکیش کی، بھارتی فورسز کی جانب سے جس طرح مقبوضہ کشمیر اور ایل او سی پر صورتحال بگڑرہی ہے اب وقت ہے کہ اسے روکنے کے لیے کیا جائے ورنہ خطے میں بحران پیدا ہوسکتا ہے'۔

یاد رہے کہ 5 اگست کو بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے مقبوضہ جموں اور کشمیر کو آرٹیکل 370 کے تحت حاصل خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر رام ناتھ کووند نے منسوخی کے بل پر دستخط کردیے ہیں، اس کے علاوہ بھارتی حکومت نے کشمیر میں 4 اگست کو کرفیو نافذ کردیا تھا اور کشمیری قیادت کو نظر بند کر دیا تھا۔