پارلیمان سے متفقہ قرار داد منظور، مقبوضہ کشمیر پر بھارتی اقدامات کی مذمت

اپ ڈیٹ 07 اگست 2019

ای میل

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ایوان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا—فوٹو:ڈان نیوز
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ایوان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا—فوٹو:ڈان نیوز

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور وادی میں کرفیو کے نفاذ سمیت بھارتی حکومت کے دیگر اقدامات کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخرامام نے ایوان کے مشترکہ اجلاس میں بھارتی اقدامات کے خلاف مشترکہ قرارداد پیش کی۔

فخر امام نے ایوان میں قرار داد کا متن پڑھ کر سنایا۔

  • ایوان کا مشترکہ اجلاس بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت کو ختم کرنے کے لیے غیرقانونی اقدامات کی متفقہ طور پر مذمت کرتا ہے۔

  • انہوں نے کہا کہ ایوان، مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کو بھارتی آئین کے آرٹیکل 35 اے کے خاتمے کے ذریعے تبدیل کرنے کی مذمت کرتا ہے۔

  • قراداد میں بھارتی حکومت کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بلااشتعال فائرنگ، شیلنگ اور آزاد کشمیر میں شہریوں پر کلسٹر بم کے استعمال جبکہ بھارتی زیر تسلط کشمیر میں اضافی فوجیوں کی تعیناتی اور دیگر حالیہ اقدامات کی مذمت کی گئی۔

  • قرارداد میں زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ جموں و کشمیر عالمی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایجنڈا ہے لہٰذا بھارت کے غیر قانونی اقدامات جموں اور کشمیر کی متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کرسکتے۔

  • بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کی تبدیلی اور اس کے ساتھ کشمیریوں سے متعلق آرٹیکل کے تحت مستقل شہریت، جائیداد کے حصول، روزگار تعلیم سمیت دیگر انسانی حقوق کو دبانے کے اقدامات کی مخالفت کی جاتی ہے۔

  • قرارداد میں زور دیا جاتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو اس طرح کے اقدامات سے ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔

  • ایوان اس قرارداد کے ذریعے مطالبہ کرتا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں قتل، تشدد، جبری گرفتاریوں، جبری گم شدگیوں، شہریوں پر پیلٹ گنز کے حملے اور ریپ کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بند کردے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ کی معطلی کو ختم کیا جائے، کرفیو اٹھایا جائے، گھیراؤ، سرچ آپریشنز ختم کیے جائیں اور بھارت کشمیری قیادت کو فوری رہا کرے جبکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق کو بحال کیا جائے۔

  • قرارداد کے متن کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا گیا ہے کہ اس معاملے کو دیکھا جائے اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل انکوائری کے لیے ایک کمیشن تشکیل دے، ساتھ ہی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اعلیٰ سطح کا غیر معمولی اجلاس فوری طلب کرے اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر مقبوضہ کشمیر میں جبر کو ختم کرنے کے لیے مداخلت کرے۔

  • ایوان نے انٹر پارلیمنٹری یونین (آئی پی یو) اور ورلڈ پارلیمنٹس پر زور دیا کہ وہ بھارتی پارلیمنٹ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی خلاف ورزی اور مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی اقدامات کی سہولت کاری پر باز پرس کرے۔

  • پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی قرارداد میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھارت کو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرنے والے خطرات کی وجہ بننے والی غیر ذمہ دارانہ اور یک طرفہ کارروائیوں سے خبردار کرے۔

اس موقع پر ایوان میں موجود سینیٹ اور قومی اسمبلی کے تمام اراکین نے اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر چین سے تبادلہ خیال ہوا ہے، وزیرخارجہ

قبل ازیں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بھارتی فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے غیرقانونی اقدام کرتے ہوئے خود اس مسئلے کو انٹرنیشنلائز کردیا ہے اور اب ہم اس معاملے کو اقوام متحدہ لے کر جارہے ہیں جس کے حوالے سے چین سے تبادلہ خیال ہوا ہے۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے غیرقانونی اقدام کی پاکستان میں بھرپورمذمت کی گئی اور مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت نے بھی بھارتی اقدام کوتسلم نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مودی سرکار نے مسئلہ کشمیر مزید پیچیدہ کردیا، مقبوضہ کشمیرکی حیثیت تبدیلی کے اقدام کی بھارت میں بھی مخالفت کی گئی اور بھارت کے اس اقدام سے مسئلہ کشمیر ایک بار پھر توجہ حاصل کرچکا ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بھارتی فیصلے نے تمام کشمیری دھڑوں کو متحد کردیا ہے اور مودی سرکارکے فیصلے کے بعد بھارت نواز کشمیری اپنے ماضی پر پچھتا رہے ہیں اور بھارت خود اقوام متحدہ میں کشمیریوں سے حق خودارادیت کاوعدہ کرچکا ہے۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اس معاملے کو دیکھنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم بھارت سے تجارت کو منسوخ کر رہے ہیں۔

ساتھ ہی شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ان فیصلوں کو وزیر اعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی دیکھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں طویل مشاورت کے بعد 5 فیصلے کیے گئے جس میں پہلا فیصلہ یہ کہ ہم اس ایوان کی آرا اور دونوں طرف کے اراکین کے جذبات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بھارت سے سفارتی تعلقات کو محدود کررہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم فی الفور بھارت سے دو طرفہ تجارت منسوخ کررہے ہیں اور بھارت کے ساتھ دو طرفہ تعلقات پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا ہے اور یہ کمیٹی اس معاملے کو دیکھے گی۔

انہوں کہا کہ کشمیریوں کی امنگ اور پاکستان کے تاریخی موقف کے مطابق فیصلہ کیا گیا ہے چونکہ انہوں نے تمام حدود کو از سرنو کھول دیا ہے تو ہم نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کے اراکین میں ایک ہمارا پرانا اسٹریٹجک حلیف چین ہے جس کے ساتھ ہماری مشاوت ہوئی ہے اور ہورہی ہے جبکہ ہوسکتا ہے کہ اس قرار داد کے بعد چینی قیادت سے مزید مشاورت کے لیے بیجنگ سے رابطہ کروں۔

انہوں نے کہا کہ اس سال 14 اگست کو پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا دن منائے گی، ہم اپنی آزادی کا دن ان کے حق خود ارادیت، جذبہ اور تحریک سے منسلک کررہے ہیں اور یک زبان ہو کر آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کی گلی گلی، کوچہ کوچہ، کریہ کریہ گونج اٹھے گی کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مشترکہ اجلاس میں کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے بھی لگائے جس کا تمام اراکین نے پرجوش جواب دیا۔

’پاکستان، بھارت سے سفارتی تعلقات منقطع کردے‘

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جب بھارت پاکستان سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتا، اس کے نزدیک ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے تو پھر ان کے سفیر صاحب پاکستان میں کیا کررہے ہیں، ہمیں بھارت سے سفارتی تعلقات منقطع کردینے چاہئیں۔

جنگ مسلط کی گئی تو ہمارا بچہ بچہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑے گا، فواد چوہدری — فوٹو: ڈان نیوز
جنگ مسلط کی گئی تو ہمارا بچہ بچہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑے گا، فواد چوہدری — فوٹو: ڈان نیوز

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو پاکستان کا بچہ بچہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اس کا مقابلہ کرے گا۔

فواد چوہدری نے جذباتی انداز میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ میں بتانا چاہتا ہوں کہ اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہمارا بچہ بچہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جنگ لڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ہندوستان سے بات ہو ہی نہیں سکتی تو پھر ایک دوسرے کے سفرا کو رکھ کر اخراجات کیوں کیے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی، صدارتی فرمان جاری

انہوں نے کہا میں ایوان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ کشمیر کو فلسطین نہیں بننے دینا چاہیے، آج بھارت بھی کشمیریوں کے ساتھ ایسا ہی کر رہا ہے جیسا فلسطین میں اسرائیل نے کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی برادری کشمیر کے معاملے پر اپنی ذمہ داری ادا کرے، کیونکہ اگر یہ جنگ ہوئی تو اس کی حدت پوری دنیا کی ممالک کے دارالحکومت محسوس کریں گے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ہمیں جنگ اور امن دونوں کے لیے تیار رہنا چاہیے، ہندوستان کو یہ پیغام جانا چاہیے کہ ہم پہلے بھی کشمیر کے لیے کٹ مرے تھے اور کل بھی کٹ مریں گے۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ میں ایک گاؤں میں گیا جہاں ایک 23 سالہ نوجوان کو مارٹر گولہ لگا تھا، جس کا صرف چہرہ باقی رہ گیا تھا، اس کے بوڑھے باپ کو میں نے دیکھا اس کی آنکھ میں آنسو نہیں تھا مگر ماں تو ماں ہوتی ہے، ماں کے آنسو بہہ رہے تھے۔ فواد چوہدری اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انتہائی جذباتی ہوگئے۔

انہوں نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سے، اس ایوان سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہوں کہ اپنی سیاست کے پیچھے ہمارے بچوں کی لاشوں کی بے حرمتی نہ کریں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ کل جو اس اسمبلی میں ہوا اور آج جو ہورہا ہے، اس سے دنیا کو اچھا پیغام نہیں جارہا، اس معاملے میں حکومت کی بھی غلطی ہے۔

وفاق وزیر ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ کل جب وزیراعظم عمران خان نے ایوان میں سوال اٹھایا کہ کیا میں بھارت پر حملے کا اعلان کردوں تو اس وقت شہباز شریف اور بلاول بھٹو کو کھڑا ہوکر کہنا چاہیے تھا کہ قدم بڑھاؤ عمران خان ہم تمہارے ساتھ ہیں مگر یہ بات نہیں ہوئی، اس موقع پر ایوان تقسیم تھا۔

سانحہ کشمیر بھی سانحہ مشرقی پاکستان جیسا ہے، آصف علی زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کشمیریوں کی قربانیوں کی وجہ سے وجود میں آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان کی جنگ میں ہمیں شکست ہوئی لیکن میں اس کے محرکات میں نہیں جانا چاہتا۔

سندھ اور بنگال نے پاکستان بنایا، آصف علی زرداری — فوٹو: ڈان نیوز
سندھ اور بنگال نے پاکستان بنایا، آصف علی زرداری — فوٹو: ڈان نیوز

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ’سانحہ کشمیر بھی سانحہ مشرقی پاکستان جیسا ہی ہے، آج قائداعظم محمد علی جناح کے دو قومی نظریے کو وہ کشمیری رہنما بھی مان رہے ہیں جو پہلے ان ہی لوگوں کے ساتھ تھے۔‘

سابق صدر کا کہنا تھا کہ ہمیں تاریخ پر نظر رکھنی چاہیے، ہم جانتے ہیں کہ ان کی سوچ کیسی ہے۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ ’سندھ اور بنگال نے پاکستان بنایا آپ نے کچھ نہیں کیا، آپ کو نکالا گیا، آپ وہاں سے بھاگ کر آئے اور ہم نے پناہ دی اور آپ ہماری آنکھوں پر ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’دنیا آپ کی نہیں بلکہ کسی اور کی پوزیشن دیکھ کر آپ سے بات چیت کر رہی ہے ، کیونکہ انہیں افغانستان میں آپ کی نہیں بلکہ ان کی ضرورت ہے۔‘

سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’لوگ کہتے ہیں کہ مجھ پر ابو ظہبی اور چین جانے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں، میں نے کشمیریوں سے ملاقاتیں کی ہیں، میں ان کو جانتا ہوں وہ لوگ سیاسی طور پر زندہ ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیں: بولی وڈ شخصیات کا بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا معاملہ اگر میرے دوری اقتدار میں ہوتا تو میری پہلی پرواز، ابوظہبی، پھر بیجنگ، پھر ماسکو اور پھر تہران جاتی جہاں میں ان کے صدرو کے ساتھ کھڑا ہوتا اور وہاں سے یکجہتی لیتے ہوئے پاکستان آتا۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ انہیں کشمیریوں پر فخر ہے جو اپنے شہیدوں کو پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفن کرتے ہیں، کسی کی مجال نہیں ہے کہ انہیں روک سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں کوئی ایسا گھرانہ نہیں ہے جہاں شہادت نہیں ہوئی ہو یا اس گھرانے کا کوئی نقصان نہ ہوا ہو۔

آصف علی زرداری نے کہا ایک دن آئے گا جب تاریخ لکھے گی کہ میں نے ایسا کہا تھا اور یہ ہو کر ہی رہا۔

تمام معاملے کے لیے پاکستان تیار نہیں تھا، راجا ظفرالحق

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجا ظفر الحق نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’مسئلہ کشمیر انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے، بھارت کے اقدام پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان تیار نہیں تھا، راجا ظفر الحق — فوٹو: ڈان نیوز
پاکستان تیار نہیں تھا، راجا ظفر الحق — فوٹو: ڈان نیوز

ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے آئینی ترامیم کے لیے پہلے تیاری مکمل کی اور پھر تسلی ہونے کے بعد یہ اقدام کیا۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے راجاظفر الحق کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوا کہ تمام معاملے کے لیے پاکستان تیار نہیں تھا، ہمیں پہلے ہی دیکھ لینا چاہیے تھا کہ اس کے کیا نتائج ہوں گے۔

اپوزیشن لیڈر سینیٹ کا کہنا تھا کہ ایک سیاست دان نے انٹرویو میں کہا تھا کہ کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم ہونا چاہیے اور بھارت نے بلکل اسی طرح اسے 3 حصوں میں تقسیم کردیا۔

مزید پڑھیں: آرٹیکل 370 کے خاتمے سے کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں رہے گا، وزیراعظم آزاد کشمیر

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو بھی اپنے فرائض پورے کرنے چاہیے تھے، مسئلہ کشمیر پر بنائی گئی کمیٹی زیادہ مؤثر کردار ادا نہیں کر سکے گی۔

بھارت اب گلگت بلتستان کا مطالبہ کرے گا، سراج الحق

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے اجلاس بلانا اچھی بات ہے لیکن بہتر یہ ہوتا کہ حکومت اپنی تیاری کے ساتھ آتی۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ انہوں نے اب تک اجلاس میں جتنے رہنماؤں کو سنا ہے جنہوں نے یہی کہا کہ وزیراعظم قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں لیکن قدم بڑھانا ہوگا۔

کشمیر چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے، سراج الحق — فوٹو:ڈان نیوز
کشمیر چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے، سراج الحق — فوٹو:ڈان نیوز

جماعت اسلامی کے سربراہ نے کہا کہ کشمیر وہ بدقسمت حصہ ہے جسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1846 میں سکھ حکمران کو فروخت کیا تھا، لیکن یہ ایک ایسی عظیم قوم ہے جس کی جدوجہد کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ چار ایٹمی قوتوں میں گھرے ہوئے کشمیری شہری اس صورتحال میں پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ کشمیر کا رقبہ دنیا کے 114 ممالک سے زیادہ جبکہ اس کی آبادی دنیا کے 112 ممالک سے زیادہ ہے جو بھارت، پاکستان اور چین کے زیر انتظام ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کشمیری ہیں جو جشن یوم آزادی پاکستان جوش و خروش سے مناتے ہیں، یہ بھارتی غلامی کو رد کرتے ہیں، اپنی قبروں پر پاکستانی پرچم سجاتے ہیں اور ان کے بارے میں بین الاقوامی ادارے کہتے ہیں کہ یہ چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ ہم کشمیریوں کا صرف اس لیے ساتھ نہیں دیتے کہ یہ خطہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرے، بلکہ ناحق مارے جانے والے مسلمانوں کی حفاظت کرنے سے متعلق قرآنی احکامات بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر پاکستانی شوبز شخصیات کا احتجاج

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا یہ منصوبہ آج کا نہیں ہے بلکہ اس کی تیاری پہلے سے جاری تھی کیونکہ بھارت کنٹرول لائن پر باڑ لگا کر دیوار برلن تیار کر رہا تھا اور ہمارے حکمران خاموش بیٹھے تھے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارتی اقدامات یہیں ختم نہیں ہوں گے بلکہ وہ بعد میں گلگت بلتستان کا مطالبہ کریں گے، اس نے پہلے ہی پاکستان میں آنے والے دریاؤں کا رخ ڈیم بنا کر تبدیل کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے لیے لڑنا پاکستان کے لیے لڑنا اور مرنا ہے کیونکہ بھارت کا اگلا ہدف پاکستان ہی ہوگا۔

سراج الحق نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ اگر جنوبی سوڈان، یوگوسلاویا میں گوریلا جنگ کامیاب ہوئی، مشرقی تیمور کی تحریک کامیاب ہوئی اور ایک نیا ملک بنا تو کشمیر کا مسئلہ کیوں حل نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: بھارت کی ‘دہشت گردی’ کی وارننگ پر سیاحوں کی واپسی

انہوں نے تجویز دی کہ مسئلہ کشمیر پر حکومت پاکستان ایک بین الاقوامی کانفرنس بلوائے اور تمام اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل 120 وفود بنا کر دنیا میں بھیجے اور اس موقع سے فائدہ اٹھائے۔

6 ماہ میں پاک ۔ بھارت جنگ دیکھ رہا ہوں، شیخ رشید احمد

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ تاریخ میں ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں جب سیاست دان غلط فیصلے کرتے ہیں اور علیحدہ راستے نکلتے ہیں، تاہم مودی نے جو فیصلہ کیا ہے اس سے کشمیروں میں مزید جوش پیدا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری اب چپ ہو کر نہیں بیٹھے گا اور وہ گھروں سے نکلے گا، آئندہ 6 ماہ کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔

شیخ رشید احمد نے کہا کہ کشمیر نے سری نگر میں ترامیم اس کی جغرافیہ کی وجہ سے کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب گلی گلی میں برہان وانی موجود ہے، جو لوگ سمجھتے تھے کہ کوئی راستہ نکل سکتا ہے اب اس فیصلے کے وجہ سے بند ہوگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج

انہوں نے کہا کہ آج شملہ معاہدہ ختم ہوگیا، آج کنٹرول لائن ختم ہوگئی، آج عبداللہ ایکارڈ ختم ہوگیا اب وہاں پر بھارتی ترانے بجیں گے۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ اب ہمیں دیکھنا ہے کہ عرب دنیا کیا ردعمل دے گی؟

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے راستے ختم کر دیئے گئے ہیں، اب کشمیر میں جنگ ہوگی کیونکہ مودی نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ وہ مسلمانوں کو زیر عتاب لائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نریندر مودی نے کسی مسلمان سے ووٹ نہیں مانگا جبکہ اس نے اپنا ایک بھی مسلمان نمائندہ انتخابات میں کھڑا نہیں کیا جو اس کی مسلمان مخالف سوچ کی عکاس ہے۔

شیخ رشید احمد نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت اب آزاد کشمیر پر حملہ کرنے والا ہے اور آئندہ 6 ماہ کے دوران کشمیر کا فیصلہ ہونے والا ہے۔

بھارت کے ساتھ پاکستان کی امن پالیسی ناکام ہوگئی، خواجہ آصف

مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے ہمیں اپنے خطاب کے دوران تاریخ بتائی، تاہم اس تاریخ کا مطلب ہوتا ہے اس سے سبق حاصل کیا جائے۔

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ اپنی امن پالیسی جاری رکھی لیکن ہو ناکام ہوگئی، پاکستان مقبوضہ کشمیر سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ ہم نے بھارت سے رابطے کرنے کی کوششیں کیں لیکن ان کی جانب سے کوئی رد عمل نہیں دیا گیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے امید لگائی تھی کہ نریندر مودی وزیراعظم منتخب ہوکر ہمیں کشمیر کا حل دے گا، تاہم اس نے جو حل دیا ہے وہ پوری دنیا نے دیکھ لیا ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیریوں سے ان کے حقوق چھین لے گا اور اس معاملے میں یہ اکیلا نہیں ہے بلکہ اسے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بتا کر گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر آفریدی اور گمبھیر آمنے سامنے

ان کا کہنا تھا کہ جو ممالک معاشی طور پر کمزور ہوجاتے ہیں جو وہ تنہا ہوجاتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ ایسا ہی ہوا ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آج کشمیریوں کو ایل او سی کے اس جانب دھکیلا جائے گا اور یہ وہی ڈرامہ ہورہا ہے جو اسرائیل نے فلسطین میں مسلمانوں کے ساتھ کیا اور انہیں اردن کی جانب دھکیل دیا۔

لیگی رہنما نے کہا کہ پاکستان انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے لیکن ملک کی سیاسی صفوں میں اتحاد نہیں ہے، تاہم کشمیر کا یہ معاملہ ہم سے تقاضا کر رہا ہے کہ ہم سفارتی سطح پر بالخصوص اسلامی دنیا میں اسے اٹھائیں۔

انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا حکومت حل ہی نہیں چاہتی ہے نہ ہی اس کی سمت میں کچھ کرنا چاہتی ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جو ہونا تھا وہ ہو گیا ہے، کشمیری وہاں نامساعد حالات میں ہیں، 1989 سے اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 اور 35اے کیا ہے؟

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معاملے میں پاکستان کی پالیسی ناکامی کا شکار ہوچکی ہے۔

لیگی ہنما کا کہنا تھا کہ اب یہ بات صرف قرارداد تک محدود نہیں رہنی چاہیے، اس مسئلے پر ہماری تقسیم جمع میں تبدیل ہوجانی چاہیے جس سے کشمیر میں ایک اچھا پیغام جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی و اخلاقی بدحالی ہے، ایسے میں نہ آپ کشمیریوں کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ ہی دنیا آپ کی مدد کرے گی۔

اسرائیل نے جو فلسطین میں کیا بھارت مقبوضہ کشمیر میں کررہا ہے،شیریں مزاری

وزیر انسانی حقوق اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ 'بھارت نے خود تسلیم کیا تھا کہ کشمیر، پاکستان اور بھارت میں تنازع ہے، اب بھارت کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقدام مجرمانہ فعل بنتا ہے اور بھارت نے عالمی سطح پر جنگی جرم کیا ہے۔'

بھارت مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا ارادہ رکھتا ہے، شیریں مزاری —فوٹو: ڈان نیوز
بھارت مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا ارادہ رکھتا ہے، شیریں مزاری —فوٹو: ڈان نیوز

انہوں نے کہا کہ 'شملہ معاہدے میں واضح لکھا ہے کہ بھارت، کشمیر کی یکطرفہ حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا جبکہ بھارتی سپریم کورٹ نے 2016 میں ایک فیصلہ دیا تھا کہ کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے، بھارتی حکومت نے خود ہی اپنے آئین کی دھجیاں اڑائی ہیں، بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی دھجیاں اڑائی ہیں جس سے پاکستان کو فوری طور پر عالمی برادری کو آگاہ کرنا چاہیے۔'

ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ 'صدر سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریز کو بھی خط لکھا گیا ہے، انسانی حقوق کونسل مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آزادانہ کمیشن بنائے، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کے لیے بھی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ اسرائیل نے جو فلسطین میں کیا وہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کر رہا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن کیسے آئے گا جب بھارت جنگ کی تیاری کر رہا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ اس نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر کلسٹر بم استعمال کر کے عالمی معاہدے کی خلاف ورزی کی۔'

امریکا کشمیر سے بھارت کو پیچھے دھکیلے، مولانا اسعد محمود

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا اسعد محمود نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے دورہ امریکا کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش کی نوید سنائی لیکن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایسا اقدام کیا جس کا ہمارے وزیراعظم کو بھی علم نہیں تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ بھارت اتنا بڑا اقدام اٹھائے اور پاکستان کو اس کا ادراک بھی نہ ہو۔

مولانا اسعد محمود کا کہنا تھا کہ امریکا افغانستان کو زیر نہیں کر سکا تو اس سے کمزور بھارت کشمیریوں کو کیسے زیر کر سکے گا؟ کشمیری اپنے حق خود ارادیت کے لیے جنگ لڑتے رہیں گے اور پاکستان سفارتی سطح پر ان کی حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو کشمیر سے پیچھے دھکیلے، کیونکہ عالم اقوام یہ جانتے ہیں بھارت نے مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

مزید پڑھیں: او آئی سی کا کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اظہار تشویش

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس بلا کر حکومت اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش کر رہی ہے، ہم نے اس حکومت کے رویے کے برداشت کیا، لیکن جیسے ہی قومی مفاد کی بات آئی تو ہم نے ان کا ساتھ دیا جس پر تمام اپوزیشن جماعتیں تعریف کی مستحق ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے مگر وزیراعظم کے ساتھ نہیں،مشاہداللہ خان

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تو حکومتی بینچوں سے انہیں روکنے کی کوشش کی گئی جس پر اجلاس میں گرما گرمی ہوئی۔

مشاہد خان نے کہا کہ 'کل جتنی فلائٹ وزیراعظم عمران خان کی تاخیر کا شکار ہوئی، کوئی فلائٹ اتنی تاخیر کا شکار نہیں ہوئی، پہلی بار محسوس کیا کہ اپوزیشن سے پوچھا جا رہا ہے کہ میں کیا کروں، ہم سے کیا پوچھتے ہو جن سے پہلے پوچھتے تھے ان سے پوچھو۔'

انہوں نے کہا کہ 'آپ نے پوچھا میں کیا کروں تو آپ کو بتاتے ہیں کہ کیا کریں، آپ نریندر مودی کو مس کالیں مارتے تھے اور وہ اٹینڈ نہیں کرتے تھے، جب بغیر کچھ کیے کوئی چیز ہاتھ میں آجائے تو ایسا ہی ہوتا ہے، زرداری صاحب کے پاس چلے جائیں ایسا طریقہ بتائیں گے کہ مودی آپ کی کال ضرور اٹینڈ کریں گے۔'

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی صورتحال: وزیرخارجہ کا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو خط

ان کا کہنا تھا کہ 'وزیر اعظم کی امریکی صدر سے وائٹ ہاؤس میں چہل قدمی کے دوران جو بات ہوئی ساری وہیں ہوئی تھیں، آج حریت رہنما یا تو تہاڑ جیل میں ہیں یا نظر بند ہیں جبکہ چین نے جو بیان دیا وہ لداخ کے لیے ہے۔'

لیگی سینیٹر نے کہا کہ 'پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے مگر وزیر اعظم کے ساتھ نہیں، ایک ہونے کے لیے خیر سگالی کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے، ہمیں اپنی پالیسی میں بھی تبدیلی کرنا پڑیں گی، اگر آپ چاہتے ہیں کہ قوم کو ایک ہونا پڑے گا تو آپ کو سوچنا پڑے گا کہ نواز شریف جیل میں کیوں ہیں۔'