33 ہزار فٹ سے بغیر پیراشوٹ گرنے والی خاتون زندہ کیسے بچ گئیں؟

اپ ڈیٹ 08 اگست 2019

ای میل

— فوٹو بشکریہ بی بی سی
— فوٹو بشکریہ بی بی سی

انسان کتنی بلندی سے گر کر زندہ بچ سکتا ہے ؟ ویسے تو ایک یا 2 منزلہ عمارت سے نیچے گرنا بھی جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے مگر ایک خوش قسمت خاتون 33 ہزار فٹ کی بلندی سے گر کر بھی بچ گئی تھیں۔

جی ہاں واقعی سربیا میں پیدا ہونے والی ائیرہوسٹس ویسنا ویولوک 26 جنوری 1972 کو اسٹاک ہوم سے بلغراد کی جانب جانے والے طیارے سے اتنی بلندی سے نیچے زمین پر گری تھیں۔

درحقیقت یہ اپنی نوعیت کا عجیب عالمی ریکارڈ ہے جس میں کوئی 33 ہزار 330 فٹ کی بلندی سے بغیر پیراشوٹ کے گر کر کر زندہ بچ گیا۔

اس وقت ویسنا کی عمر 22 سال تھی اور انہیں ائیرہوسٹس کے طور پر کام کرتے ہوئے 8 ماہ ہی ہوئے تھے۔

لندن میں سفر کے دوران انگلش سیکھنے کے بعد انہیں ہوا بازی سے محبت ہوئی تھی اور انہوں نے ایک دوست کو ائیرہوسٹس کی شکل میں دنیا کا سفر کرتے دیکھا تو خود بھی یہ کام کرنے لگیں۔

1971 میں یوگوسلاویہ کی قومی فضائی کمپنی میں ائیرہوسٹس کی حیثیت سے شمولیت بھی عجیب انداز سے اختیار کی، کیونکہ وہ لو بلڈپریشر کا شکار تھیں تو طبی معائنے سے قبل انہوں نے کافی کے متعدد کپ نوش کیے تاکہ بلڈپریشر مستحکم رہ سکے۔

یہ طریقہ کام کرگیا اور وہ تربیت کے لیے منتخب کرلی گئیں۔

8 ماہ بعد وہ کمپنی کی اسٹاک ہوم سے بلغراد جانے والی پرواز کے عملے کا حصہ بن گئیں جو کوپن ہیگن پر اسٹاپ اوور کرتا تھا۔

ویسنا ویولوک کی جوانی کی تصویر — یوٹیوب ویڈیو اسکرین شاٹ
ویسنا ویولوک کی جوانی کی تصویر — یوٹیوب ویڈیو اسکرین شاٹ

26 جنوری کو یہ پرواز کوپن ہیگن ائیرپورٹ پر اترا اور سہ پہر کو 3:15 بجے کو دوبارہ پرواز کرگیا اور 46 منٹ وہ سانحہ پیش آیا۔

4 بجے کے بعد طیارے کے سامان والے حصے میں ایک بم دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں طیارے کے ٹکڑے ہوگئے اور وہ 33 ہزار 330 فٹ سے نیچے زمین پر جاگرا، جس میں سوار 28 مسافر اور عملے کے افراد ہلاک ہوگئے اور صرف ویسنا ہی زندہ بچ سکیں۔

وہ ظیارے کے ٹکڑے ہونے کے بعد کھانے کی ٹرالی میں پھنس گئی تھیں اور چیکوسلاوکیہ کے علاقے Srbská Kamenice میں گری تھیں، جہاں انہیں برونو ہونکی نامی شخص نے دریافت کیا جو کہ جنگ عظیم دوم کے دوران طبی رضاکار رہ چکا تھا۔

زمین سے ٹکرانے کے بعد ائیرہوسٹس کی 2 ٹانگیں ٹوٹ گئی تھیں جبکہ کھوپڑی اور پسلیوں سمیت متعدد جگہوں پر فریکچر ہوئے تھے، برونو نے انہیں پراگ کے ہسپتال تک پہنچایا، جہاں انہوں نے متعدد دن کوما میں گزارے۔

کھوپڑی کے فریکچر کے ساتھ وسینا کو برین ہیمرج بھی ہوا تھا جس سے یادداشت غائب ہوگئی تھی اور ایک ماہ تک کچھ بھی یاد نہیں تھا، بس یہ یاد تھا کہ وہ پرواز کے دوران مسافروں کو خوش آمدید کہہ رہی تھی اور بس۔

ہسپتال میں زیرعلاج — یوٹیوب ویڈیو اسکرین شاٹ
ہسپتال میں زیرعلاج — یوٹیوب ویڈیو اسکرین شاٹ

تاہم ہسپتال میں والدین کو دیکھنے یادداشت کسی حد واپس آئی جبکہ ہسپتال میں 10 ماہ تک گزارنے کے بعد وہ پھل چلنے پھرنے لگیں۔

ڈاکٹروں کو توقع نہیں تھی کہ کوما سے اٹھنے کے بعد وہ زیادہ عرصے زندہ رہ سکے گی مگر خاتون نے سب کو حیران کردیا۔

چہل قدمی کے دوران پہلی چیز جو انہوں نے مانگی وہ سیگریٹ تھی جبکہ صحت یابی کا عمل مختصر اور بہت زیادہ کامیاب ثابت ہوا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ طیارے میں خاتون کی پوزیشن نے دھماکے کے بعد گرنے کے دوران زندگی بچانے میں مدد دی، وہ اس وقت طیارے کے پچھلے حصے میں کھانے کی ٹرالی میں پھنس گئی تھیں اور جہاز کا وہ حصہ جہاں گرا وہ لکڑی اور برف سے بھری پہاڑی علاقہ تھا جبکہ لو بلڈپریشر کے عارضے نے زمین سے ٹکڑانے کے اثر سے دل کو بچایا۔

ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد وہ ایک بار پھر ائیرہوسٹس کے طور پر کام کرنے لگی تھیں اور 1990 میں احتجاجی مظاہروں میں شرکت پر انہیں برطرف کیا گیا۔

2008 میں نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا 'میں بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی تھی اور ڈاکٹروں پھر مجھے جوڑا، کسی کو توقع نہیں تھی کہ میری زندگی اتنی لمبی ہوگی'۔

ان کا انتقال 2016 میں ہوا — اے پی فوٹو
ان کا انتقال 2016 میں ہوا — اے پی فوٹو

1985 میں ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز نے اتنی بلندی سے پیرا شوٹ کے بغیر بچنے والے فرد کے طور درج کیا۔

یادداشت متاثر ہونے کے بعد خاتون کو طیارے سے گرنے یا دھماکے کیے بارے میں کچھ یاد نہیں رہا، ان کا انتقال 66 سال کی عمر میں 2016 میں ہوا۔