جذبہءِ قربانی کا تقاضا

11 اگست 2019

ای میل

ہزارہا برس قبل حضرت ابراہیمؑ نے اطاعت و حبِ خداوندی کی خاطر اپنے محبوب بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی قربانی دینے کے لیے زمین پر لٹایا تھا۔

انسانی تاریخ میں قربانی کی ایسی اعلیٰ ترین مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ حضرت ابراہیمؑ حکمِ الہی کی تکمیل کی خاطر دنیا میں عزیز ترین بیٹے کو ذبح کرنے ہی لگے تھے کہ خدا نے ان کی اطاعت و فرمانبرداری سے خوش ہو کر قربانی کے لیے حضرت اسماعیلؑ کی جگہ دنبہ بھیج دیا اور حضرت ابراہیمؑ کو اپنا دوست (خلیل اللہ) قرار دیا۔

اس قربانی کی یاد تازہ رکھنے کے لیے اسے رکن حج بنا دیا گیا۔ حکمِ خدا کی اطاعت کی علامت کے طور پر پیار اور خیال کے ساتھ جانوروں کو لایا جاتا ہے اور انہیں راہِ خدا میں قربان کیا جاتا ہے۔

یہ قربانی ’اسلام‘ (اطاعت) اور ہماری آمادگی کو ظاہر کرتی ہے کہ ہم حکمِ خدا پر اپنی محبوب شے کو بھی قربان کرنے سے ذرا بھی دریغ نہیں کریں گے۔ یہ ہمارا وعدہ ہے کہ ہم اپنی آرزؤں، خواہشوں، مقاصد اور ہماری دنیاوی آزادی کی قربانی دیتے ہوئے احکاماتِ الہی پر چلیں گے۔ یعنی دیانتداری اور نیکی و حق کی راہ پر چلیں گے۔

گزشتہ برسوں کے دوران کئی موقعوں پر ایسا پایا گیا ہے کہ اطاعتِ خداوندی اور اپنی خودغرضانہ خواہشات کی قربانی کا ہمارا جذبہ دولت کی نمائش، قربانی کے لیے لائے جانے والے جانوروں اور حد سے زیادہ گوشت کھانے کے عمل پر بے دھیانی میں بدل سا گیا ہے۔ مہنگے سے مہنگے جانور کی خریداری کو اب اکثر باعثِ فخر سمجھا جاتا ہے اور اس کی نمائش نہ صرف اپنے محلوں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی کی جارہی ہوتی ہے۔

جانور بیچنے والے اپنے معصوم جانوروں کے جسم پھلانے کے لیے مختلف اقسام کے ٹیکے لگاتے ہیں تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ داموں پر بیچا جاسکے۔ بعض اوقات تو بے خبر خریداروں کو بیمار جانور بیچ کر چونا بھی لگایا جاتا ہے۔

جانوروں کے سامنے ہی دیگر کو ذبح کیا جانا جانوروں کی جانب روا رکھی جانے والی بے حسی کی کافی عام مثال ہے۔ ایسے موسمی قصائی بھی عام ہیں جنہیں یہ تک علم نہیں ہوتا کہ جانور کو کس طرح ذبح کیا جائے کہ انہیں کم سے کم تکلیف ہو۔ پھر وہ جب اپنی تیز دھار چھریوں کو جانور پر رکھتے ہیں تو لوگوں کا رش لگ جاتا ہے۔

ہم ان جانوروں کے لیے رحم دلی اور نرم دلی روا رکھنے کے بجائے ہم ان کے لیے اپنے اندر ذرا بھی احساس نہیں رکھتے۔

ہم میں سے کتنے ایسے لوگ ہیں جو اس حوالے سے غور کرتے ہیں کہ آخر ہم یہ قربانی کس کی یاد میں کر رہے ہیں، اور ہم میں سے کون اس تجربے کو تصور کرنے کی جرات کرتا ہے جس سے حضرت ابراہیمؑ اُس قربانی کی تیاری کے وقت گزرے تھے؟ تو پھر یہ سوچ اس سنت ابراہیمی کو پورا کرنے کے ہمارے طریقہ کار میں کس طرح ظاہر ہونی چاہیے؟

روز مرہ کی زندگی میں قربانی کا مطلب ہوتا ہے ہر اس چیز کو ترک کردینا جس پر نفس ہمیں مائل کرنے کی کوشش کرتا ہے، یعنی ہر وہ چیز جس کے بارے میں ہمیں پتہ ہو کہ وہ درست لیکن وقتی راحت کا باعث بننے کی وجہ سے ہم اس کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔

ایسی ہر چیز کو ترک کرنا اور راہِ خدا پر چلنا ہی جذبہ قربانی کا نام ہے۔ کیا ہم حُب خدا کے لیے اس زندگی کی راحتیں ترک کرنے کے لیے تیار ہیں؟ اب جب کہ ہم عید الاضحیٰ کے قریب ہیں تو کیا ہم اس جذبے کو ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی کا حصہ بنا سکتے ہیں؟

رسول اللہ ﷺ جانوروں سے شفقت و نرمی سے پیش آتے تھے۔ انہوں نے جانوروں کو ذبح کرنے کے ظالمانہ طریقہ یا زندہ جانور سے گوشت کے ٹکڑے کاٹنے سے منع فرمایا تھا۔ آپﷺ نے جانوروں کو ذبح کرنے کے حوالے سے ہدایت کی تھی کہ انہیں پانی دیا جائے، چھریوں کو ان کی نظر سے دُور تیز کیا جائے، جانوروں کو دیگر جانوروں کے سامنے ذبح نہ کیا جائے اور یہ عمل تیزی سے ہونا چاہیے۔

رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کی جانوروں سے شفقت کا یہ عالم تھا کہ جن جانوروں پر ظلم کیا گیا ہوگا وہ روزِ قیامت ان پر ظلم کرنے والوں کے خلاف گواہی دیں گے۔

عید الاضحیٰ کے دوران ایک عام نظارہ سڑکوں کا خون آلود ہونا اور اوجھڑیوں پر مکھیوں کا بھنبھنانا ہوتا ہے۔ اس کا سدِباب آسانی سے کیا جاسکتا ہے مگر صرف تب جب ہمارے اندر قربانی کا جذبہ موجود ہو۔

ایک ایسی مذہبی روایت جس پر دوسروں کو نقصان پہنچا کر عمل کیا جائے، وہ مطلوبہ نتائج کے الٹ نتائج پیدا کرتی ہے۔

تمام جانور اللہ نے پیدا کیے ہیں۔ اس نے ان میں سے کچھ کو انسانوں کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔ کچھ کو انسان کی غذا بنایا ہے تو کچھ کو بار برداری کے لیے۔ کچھ جانور قدرت کا حصہ ہیں جو ماحول کی خوبصورتی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔

ہر نوع کا زندگی کی اس لڑی میں اپنا کردار ہے۔ انسانوں کے پاس جانوروں پر ظلم کرنے کا بالکل ویسے ہی کوئی جواز نہیں ہے جیسے دوسرے انسانوں پر ظلم کرنے کا۔ لیکن وہ گوشت کی خاطر جانوروں کی جان لے سکتے ہیں وہ بھی کچھ شرائط کے تحت۔ قرآن میں ان شرائط کو بیان کیا گیا ہے۔

جو لوگ حج نہیں کرتے، قربانی ان پر واجب نہیں ہے۔ اگر ہم حضرت ابراہیمؑ کی قربانی کو واقعی یاد کرنا چاہتے ہیں تو ہم ایک نسبتاً خاموش تر قربانی کرسکتے ہیں، انسانی طریقہ کار اپنا سکتے ہیں اور خون اور اوجھڑیوں کو سڑکوں پر پھیلنے کو روک سکتے ہیں۔ ہم یہ بھی کر سکتے ہیں کہ کسی جگہ قربانی کے لیے پیسے دے دیں تاکہ گوشت ان لوگوں میں تقسیم ہوجائے جو اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔

قربانی کا مقصد یہ ہے کہ اللہ اس کے سامنے جھکنے کی ہماری خواہش سے راضی ہوجائے۔ قرآن (22:37) میں ہے کہ نہ خون اور نہ ہی گوشت اس تک پہنچتا ہے، اس کے نزدیک صرف مومنوں کی نیک نیتی قابلِ قبول ہے۔

یہ مضمون 9 اگست 2019ء کو شائع ہوا۔