بھارت کا یوم آزادی: مقبوضہ کشمیر، پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ

اپ ڈیٹ 15 اگست 2019

ای میل

بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت کو بھی نظر بند کررکھا ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی
بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت کو بھی نظر بند کررکھا ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی

مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے آج 15 اگست 2019 کو بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ منایا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ بھارتی حکومت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کا اعلان کیا تھا اور مقبوضہ وادی میں ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کو معطل کرکے کرفیو نافذ کردیا تھا۔

بھارت نے خصوصی حیثیت تبدیل کرکے مقبوضہ وادی میں مزید ہزاروں فوجی تعینات کیے تھے اور وادی کو جیل میں تبدیل کردیا تھا جبکہ 12 روز سے جاری کرفیو کے باعث مقبوضہ کشمیر کے عوام بد ترین مشکلات کا شکار ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا 73واں یوں آزادی 'یوم یکجہتی کشمیر' کے طور پر منایا گیا

بھارتی فوج کے محاصرے میں پھنسے لوگ خوراک اور ادویات کی قلت کاشکار ہیں اور کشمیری بچوں کو بھی دودھ کی فراہمی تک بند ہے۔

ملک کی حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے مقبوضہ جموں اور کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے 14 اگست کو پاکستان کے یوم آزادی کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے جبکہ 15 اگست کو بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔

ملک کی قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف آج دنیا بھر میں مقیم پاکستانی یوم سیاہ منائیں گے۔

اس حوالے سے پاکستان اور مقبوضہ کشمیر سمیت مختلف ممالک میں بھارتی سفارتخانوں کے سامنے احتجاج کیا جائے گا جبکہ قومی پرچم سرنگوں رہے گا اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ریلیاں نکالی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: مودی ہم تیار ہیں، اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے، وزیراعظم عمران خان

علاوہ ازیں لاہور میں گورنر ہاؤس سے پنجاب اسمبلی تک مارچ کرکے مقبوضہ وادی کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔

بھارت کشمیر میں بد ترین ظلم کررہا ہے، وزیر خارجہ

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں ریلی سے خطاب میں کہنا تھا کہ بھارت کشمیر میں بدترین ظلم کررہا ہے اور ساتھ ہی بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو چیلنج دیا تھا کہ وہ بھارتی یوم آزادی پر مقبوضہ وادی میں کرفیو ختم کرکے عوامی رائے جان لیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری بھی کوپن ہیگن پہنچ چکے ہیں جہاں وہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ریلی میں شرکت کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق لندن میں بھارت مخالف مظاہروں کے باعث سیکیورٹی کو بھی ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔

14 اگست بطور 'یوم یکجہتی کشمیر'

گزشتہ روز پاکستانی قوم نے 14 اگست 2019 کو اپنا 73واں یوم آزادی منایا تھا اور حکومت نے یوم آزادی کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کے اعلان کیا تھا۔

حکومت پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے یوم آزادی کے موقع پر خصوصی ’لوگو’ جاری کیا جس میں ‘کشمیر بنے گا پاکستان’ کا نعرہ درج تھا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے یوم آزادی کے موقع پر قوم کے نام جاری پیغام میں اپیل کی تھی کہ وہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کریں۔

مزید پڑھیں: ملک بھر میں یوم آزادی کی تقریبات، پاکستان کی بقا اور سلامتی کیلئے دعائیں

اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں پرچم کشائی کی مرکزی تقریب منعقد ہوئی تھی جس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی مہمان خصوصی تھے، یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی نے کہا تھا کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے۔

علاوہ ازیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر شہروں میں بھی پرچم کشائی کی تقریبات منعقد ہوئیں تھی۔

اس کے علاوہ بھارت کے شہر نئی دہلی میں قائم پاکستانی ہائی کمیشن میں بھی یوم آزادی کی تقریب کا انعقاد ہوا تھا، جس میں ہائی کمشنر سید حیدر شاہ نے پاکستان کا پرچم لہرایا اور تقریب کے شرکا کو یوم آزادی کے حوالے سے مبارک باد پیش کی تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ وادی کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک کا یوم آزادی، آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرکے منایا تھا اور اپنے خطاب وزیراعظم کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بہت بڑی اسٹریٹجک غلطی کردی جو اسے بہت مہنگی پڑے گی۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ اب میں دنیا میں کشمیر کا سفیر بنوں گا اور اگر جنگ ہوئی تو اس کی ذمہ داری عالمی برادری پر ہوگی۔