ایل او سی پر اشتعال انگیزی، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی

ای میل

یہ خلاف ورزیاں کسی بھی تزویراتی غلطی کا باعث بن سکتی ہیں، ترجمان دفتر خارجہ — فائل فوٹو / ڈان
یہ خلاف ورزیاں کسی بھی تزویراتی غلطی کا باعث بن سکتی ہیں، ترجمان دفتر خارجہ — فائل فوٹو / ڈان

پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو چوبیس گھنٹے میں دوسری بار دفتر خارجہ طلب کرکے بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بلااشتعال فائرنگ پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر گورو اہلو والیا کو دفتر خارجہ طلب کیا اور بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے لیپا اور بٹل سیکٹرز میں سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی شدید مذمت کی۔

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ بھارتی قابض افواج مسلسل ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی معاہدے 2003 کی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں، بھارت کی مسلسل خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و استحکام کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں اور یہ خلاف ورزیاں کسی بھی تزویراتی غلطی کا باعث بن سکتی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کو اپنی مسلح افواج کو جنگ بندی کا احترام کرنے کا کہا اور ورکنگ باؤنڈری اور ایل او سی پر امن کو بحال رکھنے کا پابند بنانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت، اقوام متحدہ کے مبصر مشن کو سلامتی کونسل کی قراردادوں میں موجود مینڈیٹ کے مطابق کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔

مزید پڑھیں: ایل او سی پر جارحیت، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر دفتر خارجہ طلب

واضح رہے کہ چوبیس گھنٹے کے دوران ایل او سی پر بھارت کی اشتعال انگیزی سے پاک فوج کے 4 جوان شہید ہو چکے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر کی نازک صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارتی فوج نے ایل او سی پر فائرنگ کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کی فائرنگ سے نائیک تنویر، لانس نائیک تیمور اور سپاہی رمضان شہید ہوئے جبکہ پاک فوج نے موثر جواب دیتے ہوئے 5 بھارتی فوجیوں کو ہلاک کردیا۔

بعد ازاں ترجمان پاک فوج نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں بتایا کہ ایل او سی پر بھارتی فورسز کی فائرنگ سے پاک فوج کا مزید ایک جوان شہید ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ سپاہی محمد شیراز، ایل او سی کے بٹل سیکٹر میں بھارتی فائرنگ کی زد میں آئے۔