راولپنڈی: 45 لڑکیوں کو ’ریپ‘ کا نشانہ بنانے والے میاں بیوی گرفتار

اپ ڈیٹ 16 اگست 2019

ای میل

ملزمان سے 10 واقعات کی ویڈیوز برآمد کی گئیں — فوٹو: شٹراسٹاک
ملزمان سے 10 واقعات کی ویڈیوز برآمد کی گئیں — فوٹو: شٹراسٹاک

راولپنڈی پولیس نے 45 لڑکیوں کو اغوا کر کے انہیں ریپ کا نشانہ بنانے والے میاں بیوی کو گرفتار کرلیا۔

تھانہ سٹی پولیس نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی طالبہ کی درخواست پر تحصیل گوجر خان سے تعلق رکھنے والے ملزمان کو گرفتار کیا۔

پولیس حکام کے مطابق طالبہ کو 3 اگست کو گورنمنٹ گورڈن کالج راولپنڈی میں ورکشاپ میں شرکت کے بعد گھر واپس جاتے ہوئے اغوا کرکے ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔

درخواست گزار کی نشاندہی پر پولیس نے گلستان کالونی میں واقع گھر میں چھاپہ مار کر لڑکیوں کو ریپ کا نشانہ بنانے والے میاں بیوی کو گرفتار کیا۔

مزید پڑھیں: راولپنڈی: 22 سالہ لڑکی کے 'ریپ' میں ملوث 3 پولیس اہلکار گرفتار

ملزمان کو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرنے کے بعد ملزمہ کرن کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا جبکہ پولیس نے ملزم قاسم کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا۔

پولیس نے بتایا کہ دورانِ تفتیش ملزمہ اور اس کے شوہر نے انکشاف کیا کہ اس کی اہلیہ لڑکیوں کو ورغلا کر گلستان کالونی میں واقع کرائے کے گھر میں لے جاتی تھی جہاں وہ انہیں ریپ کا نشانہ بناتا اور اہلیہ ویڈیوز بناتی تھی۔

سی پی او فیصل رانا نے بتایا کہ ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اب تک 45 لڑکیوں کو ریپ کا نشانہ بنا کر ان کی ویڈیوز بنائیں۔

ملزمان نے یہ انکشاف بھی کیا وہ ویڈیوز بنا کر بین الاقوامی پورن سائٹ پر بھاری معاوضے کے عوض فروخت کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کے ساتھ ریپ: سابق کانسٹیبل کو 2 مرتبہ سزائے موت

پولیس نے دونوں میاں بیوی کے قبضے سے برآمد ہونے والے موبائل فونز سے ویڈیوز برآمد کرلیں جبکہ اغوا اور زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

پولیس نے ملزمان سے 10 واقعات کی ویڈیوز اور ہزاروں تصاویر بر آمد کیں اور جائے وقوع پر موجود شواہد کو ٹیسٹ کے لیے بھجوا دیا گیا۔

سی پی او فیصل رانا نے بتایا کہ ایس پی راول ڈویژن کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ جتنی ویڈیوز برآمد ہوئیں ان بچیوں کے والدین کو تلاش کیا جائے اور ہر واقعے کا الگ، الگ مقدمہ درج کر کے ملزمان کو الگ الگ چالان کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔