مہوش حیات سکھر میں نئے اسکولوں کے قیام کے لیے لندن میں دوڑیں گی

اپ ڈیٹ 19 اگست 2019

ای میل

اداکارہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کم عمری میں بچیوں کی شادیاں کرنے اسے انہیں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے — اسکرین شاٹ
اداکارہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کم عمری میں بچیوں کی شادیاں کرنے اسے انہیں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے — اسکرین شاٹ

اداکارہ مہوش حیات جہاں ان دنوں ہولی وڈ و بولی وڈ میں پاکستان کو غلط انداز میں پیش کیے جانے پر عالمی سطح پر آواز اٹھانے میں مصروف ہیں۔

وہیں انہوں نے کچھ دن قبل بولی وڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا کو بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے بجائے جنگ کو ہوا دینے کے معاملے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اور اب انہوں نے پاکستان میں صحت اور تعلیم پر کام کا آغاز کردیا ہے۔

مہوش حیات کو عالمی فلاحی ادارے ’پینی اپیل‘ نے اپنا خیر سگالی سفیر مقرر کیا ہے جو پاکستان سمیت دنیا بھر کے 30 ممالک میں صحت اور تعلیم کے حوالے سے کام کرتا ہے۔

اسی ادارے کے تحت اب مہوش حیات پاکستان کے صوبہ سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر میں 5 نئے اسکول بنانے کے لیے لندن میں ہونے والی میراتھن میں دوڑیں گی۔

’پینی اپیل‘ نے اپنے بیان میں بتایا کہ مہوش حیات سندھ کے ضلع سکھر میں اسکولوں کے قیام کے لیے برطانوی دارالحکومت میں آئندہ برس ہونے والی میراتھن ریس میں دوڑیں گی۔

یہ میراتھن ریس ایک چیئرٹی دوڑ ہوگی، جس کے ذریعے حاصل ہونے والے فنڈز کو سکھر میں اسکولوں کی تعمیر پر خرچ کیا جائے گا۔

مہوش حیات اس دوڑ میں لگ بھگ 27 میل تک دوڑیں گی، ان کے ساتھ اسی ریس میں کئی معروف شخصیات بھی دوڑیں گی۔

مہوش حیات نے عالمی ادارے کی جانب سے سفیر مقرر کیے جانے پر خوشی کا اظہار کیا اور لوگوں سے درخواست کی کہ وہ سکھر میں اسکولوں کے قیام کے لیے ان کی مدد کریں۔

اداکارہ نے لوگوں سے اسکولوں کے قیام کے لیے فنڈز جمع کرانے کی بھی اپیل کی۔

دوسری جانب انہوں نے اسی حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں اب بھی کم عمر بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔

مہوش حیات کا کہنا تھا کہ سندھ میں بہت بڑی تعداد میں بچیاں بھی اسکول نہیں جاتیں اور ان کی شادیاں بھی کم عمری میں کی جاتی ہے جس کی وجہ سے آگے چل ان کر بچیوں کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ انہیں عالمی فلاحی ادارے کے ساتھ کام کرنا بہت اچھا لگ رہا ہے اور انہیں توقع ہے کہ وہ ملک کے غریب بچوں کے لیے کچھ نہ کچھ بہتر کر سکیں گی۔