شمالی کوریا کے وزیر خارجہ نے مائیک پومپیو کو ’زہریلا پودا‘ قرار دے دیا

اپ ڈیٹ 23 اگست 2019

ای میل

واشنگٹن ہتھیاروں کی تخفیف تک شمالی کوریا پر پابندی برقرار رکھے گا — فائل فوٹو: اے ایف پی
واشنگٹن ہتھیاروں کی تخفیف تک شمالی کوریا پر پابندی برقرار رکھے گا — فائل فوٹو: اے ایف پی

شمالی کوریا کے وزیر خارجہ نے امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کو امریکی سفارت کاری کا 'زہریلا پودا' قرار دے دیا جبکہ ساتھ ہی پابندیوں کے ذریعے پیانگ یانگ کو تبدیلیوں پر مجبور کرنے کے خواب کو توڑنے کے عزم کا اظہار بھی کردیا۔

امریکی خبررساں ادارے ’ اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کے وزیر خارجہ ری یونگ ہو نے ایک انٹرویو کے دوران مائیک پومپیو کے بیان کے جواب میں احتجاجاً یہ بیان دیا۔

خیال رہے کہ مائیک پومپیو نے رواں ہفتے کہا تھا کہ واشنگٹن ہتھیاروں کی تخفیف تک شمالی کوریا پر پابندی برقرار رکھے گا۔

وزیر خارجہ ری یونگ ہو نے کہا کہ وہ مائیک پومپیو کے لاپروا بیان کو ایسے جانے نہیں دیں گے کیونکہ وہ جوہری مذاکرات کی ممکنہ بحالی سے قبل سامنے آئے ہیں۔

مزید پڑھیں: شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ

انہوں نے کہا کہ 'مائیک پومپیو ایک ڈھیٹ شخص ہیں کیونکہ انہوں نے پیانگ یانگ کے دورے کے دوران شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی تخفیف اور دو طرفہ تعلقات میں بہتری کی بھیک مانگی تھی'۔

شمالی کوریا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ شمالی کوریا مذاکرات اور محاذ آرائی دونوں کے لیے تیار ہے، ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا، شمالی کوریا پر پابندیاں عائد کرتا رہا تو پیانگ یانگ، واشنگٹن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بننے کی کوشش جاری رکھے گا۔

انہوں نے واشنگٹن ایگزامنر سے انٹرویو کے دوران امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ امریکا تاریخ کی سخت ترین پابندیاں برقرار رکھے گا، اس کے علاوہ چیئرمین کم اور شمالی کوریا کے رہنماؤں کو آمادہ کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا کہ جوہری ہتھیاروں کی تخفیف ان کے لیے صحیح چیز ہے۔

خیال رہے کہ دو روز قبل شمالی کوریا میں امریکی سفیر نے کہا تھا کہ امریکا شمالی کوریا میں ہمارے ہم منصبوں سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا کا حالیہ ہفتوں میں میزائل کا پانچواں تجربہ

اس سے قبل رواں برس اپریل میں شمالی کوریا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مائیک پومپیو کو جوہری مذاکرات سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

واضغ رہے کہ رواں برس فروری میں ویتنام میں منعقد دوسرے سربراہی اجلاس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کورین لیڈر کم جونگ اُن کے درمیان جوہری مذاکرات سے متعلق ملاقات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئی تھی۔

بعدازاں جون میں ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ اُن نے کوریا کی سرحد پر ملاقات کی تھی اور مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کیا تھا۔