کسی بھی جارحیت کو ناکام بنانے کیلئے مکمل تیار ہیں، آرمی چیف

اپ ڈیٹ 24 اگست 2019

ای میل

پاک فوج کے سربراہ نے افسران و جوانوں سے خطاب کیا—فوٹوَ: آئی ایس پی آر
پاک فوج کے سربراہ نے افسران و جوانوں سے خطاب کیا—فوٹوَ: آئی ایس پی آر

پاک فوج کے سپہ سالار نے کہا ہے کہ ہم مشرقی سرحد پر خطرے سے آگاہ ہیں اور کسی بھی 'مس ایڈونچر' یا جارحیت کو ناکام بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گلگت میں فارمیشن ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور یادگارِ شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔

آرمی چیف نے گلگت میں فارمیشن ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا—فوٹو: آئی ایس پی آر
آرمی چیف نے گلگت میں فارمیشن ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا—فوٹو: آئی ایس پی آر

بعدازاں چیف آف آرمی اسٹاف نے خطاب کیا، جس میں انہوں نے دنیا کے بلند ترین میدان جنگ پر موسمی، زمینی اور دشمن کے چیلنجز کے باوجود افسران اور جوانوں کی تیاری اور جذبے کی تعریف کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ مشرقی سرحد پر کسی بھی خطرے سے باخبر ہیں، اس خطرے کا تعلق مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال سے ہے اور ہم کسی بھی مس ایڈوینچر یا جارحیت کو ناکام بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات

خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر سے متعلق 5 اگست کے اقدامات کے بعد خطے کی مجموعی صورتحال کشیدہ ہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور اس اقدام سے ایک روز قبل ہی وادی میں کرفیو نافذ کردیا تھا جبکہ وہاں تمام مواصلاتی رابطے بھی منقطع کردیے گئے تھے۔

بھارتی حکومت کے ان اقدامات کے فوری بعد سے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 20 روز سے کرفیو جاری ہے اور دیگر پابندیاں برقرار ہیں جبکہ بھارتی فوجیوں کی بڑی تعداد نے وادی کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے 5 اگست کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ فوری طور پر مسترد کیا تھا۔

بعدازاں 7 اگست کو قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے اہم اجلاس میں بھارت سے دوطرفہ تجارت کو معطل کرنے اور سفارتی تعلقات کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے تحت پاکستان میں 73واں یومِ آزادی، یومِ ٰیکجہتی کشمیر کے طور پر منایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع

علاوہ ازیں 15 اگست کو بھارت کے یومِ آزادی پر ملک بھر یوم سیاہ منایا گیا تھا، اس دوران تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا تھا اور بھارت مخالف احتجاج اور مظاہرے کیے گئے تھے۔

اس کے علاوہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خط لکھ کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر سے مطالبہ کی تھی جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

جس کے بعد 16 اگست کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 50 سال میں پہلی مرتبہ مسئلہ کشمیر پر غور کے لیے تاریخی مشاورتی اجلاس طلب کیا تھا۔

یہی نہیں بلکہ 20 اگست کو پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ عالمی عدالت انصاف لے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔