آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع

اپ ڈیٹ 19 اگست 2019

ای میل

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر 2016 کو پاک فوج کی قیادت سنبھالی تھی — فائل فوٹو/ رائٹرز
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر 2016 کو پاک فوج کی قیادت سنبھالی تھی — فائل فوٹو/ رائٹرز

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کردی گئی۔

وزیراعظم آفس سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد سے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید 3 سال کے لیے آرمی چیف مقرر کردیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق آرمی چیف کی مدت میں توسیع کا فیصلہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا۔

خیال رہے کہ 29 نومبر 2016 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد ان کی جگہ پاک فوج کی قیادت سنبھالی تھی، انہیں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے فوج کا سربراہ تعینات کیا تھا۔

مزید پڑھیں: جنرل قمر جاوید باجوہ نئے آرمی چیف مقرر

واضح رہے کہ پاکستان کی سول حکومت کی تاریخ میں دوسری مرتبہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی ہے۔

ان سے قبل سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی تھی اور اس وقت ملک میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ

لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں انسپکٹر جنرل آف ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن تعینات تھے، یہ وہی عہدہ ہے جو آرمی چیف بننے سے قبل جنرل راحیل شریف کے پاس تھا۔

قمر جاوید باجوہ آرمی کی سب سے بڑی 10ویں کور کو کمانڈ کرچکے ہیں جو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔

جنرل قمر باجوہ کینیڈین فورسز کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج (ٹورنٹو)، نیول پوسٹ گریجویٹ یونیورسٹی مونٹیری (کیلی فورنیا)، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں۔

فوجی سربراہ کو کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں معاملات کو سنبھالنے کا وسیع تجربہ ہے، بطور میجر جنرل وہ فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کی سربراہی کرچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جنرل قمر باجوہ نے پاک فوج کی کمان سنبھال لی

انہوں نے 10ویں کور میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر بھی بطور جی ایس او خدمات انجام دی ہیں۔

کشمیر اور شمالی علاقوں میں تعیناتی کا وسیع تجربہ رکھنے کے باوجود کہا جاتا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ دہشت گردی کو پاکستان کے لیے ہندوستان سے بھی بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں انڈین آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ کے ساتھ بطور بریگیڈ کمانڈر کام کرچکے ہیں جو وہاں ڈویژن کمانڈر تھے۔

وہ ماضی میں انفینٹری اسکول کوئٹہ میں کمانڈنٹ بھی رہ چکے ہیں اور ان کے ساتھی کہتے ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو توجہ حاصل کرنے کا شوق نہیں اور وہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔

ان کے ماتحت کام کرنے والے ایک افسر کے مطابق وہ انتہائی پیشہ ور افسر ہیں، ساتھ ہی بہت نرم دل بھی ہیں جبکہ ان کو غیر سیاسی اور انتہائی غیر جانبدار سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے 16 بلوچ رجمنٹ میں 24 اکتوبر 1980 کو کمیشن حاصل کیا، یہ وہی رجمنٹ ہے جہاں سے ماضی میں تین آرمی چیف آئے ہیں اور ان میں جنرل یحیٰ خان، جنرل اسلم بیگ اور جنرل کیانی شامل ہیں۔

مختلف ادوار میں رہنے والے آرمی چیفس