امارات کا مودی کے لیے اعلیٰ ترین اعزاز! کس نے کس کو دھوکا دیا؟

26 اگست 2019

ای میل

جب مقبوضہ جموں و کشمیر کے 70 لاکھ مسلمان مسلسل تیسرے ہفتے تالا بندی اور کرفیو کی زد میں تھے، کھانے پینے کی اشیا اور دوا کی کمی کی وجہ سے انسانی المیہ جنم لے چکا تھا، عین اسی وقت عرب دنیا کے اہم ترین ملک متحدہ عرب امارات نے کشمیریوں پر ظلم ڈھانے والے نریندر مودی کو بلا کر اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نواز دیا۔

متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زاید جو ’ایم بی زیڈ‘ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، نے مودی کے گلے میں ایوارڈ ڈالنے کے بعد متحدہ عرب امارات کے بانی شیخ زاید بن سلطان النہیان کی تصویر کے سامنے کھڑے ہوکر فوٹو گرافرز کو پوز دیا اور مودی سے کہا کہ آپ اس ایوارڈ کے حق دار ہیں۔

اماراتی ولی عہد نے مودی کو گلے لگایا اور کہ آپ اس ایوارڈ کے حق دار ہیں
اماراتی ولی عہد نے مودی کو گلے لگایا اور کہ آپ اس ایوارڈ کے حق دار ہیں

مودی کو اس ایوارڈ کا حق دار عربوں کی کس ضرورت اور مجبوری نے بنایا؟ کس نے کیا سودا کیا اور کیا بیچا اور کس نے کس کو دھوکا دیا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو مسلم دنیا میں ہر فرد کے ذہن میں ابھر رہے ہیں۔

  • پاکستان میں یمن جنگ اور امارات کے حکمران خاندان کی ایک شہزادی کے قصے زیرِ بحث ہیں۔
  • عرب دنیا کا عام مسلمان اسے فلسطین کی طرح کشمیر کا سودا سمجھ رہا ہے۔
  • افریقی مسلمان اسے عرب آمریتوں کا پرانا کھیل قرار دیتے ہیں۔
  • عرب دنیا میں آمریتوں کے مخالف اس عمل کو عرب آمروں کے اندرونی خوف سے جوڑ رہے ہیں۔
  • دنیا میں معاملات کو معیشت کی نظر سے دیکھنے والے عرب دنیا اور انڈیا کے تجارتی حجم کو زیرِ بحث لا رہے ہیں۔

یہ ساری باتیں اپنی جگہ درست ہیں لیکن عرب آمریتوں کے مفادات آپس میں پرانی دشمنیوں کو بھی جگا چکے ہیں۔ کشمیر پر عرب دنیا میں ردِعمل مختلف رہا۔ سعودی عرب نے کشمیری مسلمانوں کی کھل کر حمایت تو نہ کی لیکن عرب امارات کے حکمرانوں کی طرح اس مشکل وقت میں مودی کو بلا کر کشمیریوں کے زخموں پر نمک بھی نہیں چھڑکا۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دفاعی پارٹنر ہیں، لیکن ان کے درمیان اختلافات عرب امارات کے وجود میں آتے ہی پیدا ہوگئے تھے جو حالات کے جبر کے تحت دبے رہے۔ سعودی عرب اور امارات کے درمیان 2 مسائل روزِ اول سے موجود ہیں، یعنی برابری اور سرحدی قضیہ۔

سعودی عرب اور عرب امارات دونوں یمن کی جنگ میں اکٹھے کودے اور پاکستان کی طرف سے فوج نہ بھجوانے کے فیصلے پر سب سے زیادہ تنقید بھی امارات نے کی اور پاکستان کو ایک طفیلی ریاست کا طعنہ بھی دیا۔

کشمیری مسلمانوں کے مسائل اپنی جگہ، مگر متحدہ عرب امارات کو تو اپنے مسائل کی فکر ستا رہی ہے۔ اگرچہ مودی کو ایوارڈ سے نوازنے کا فیصلہ اپریل میں کیا گیا تھا لیکن ایوارڈ دینے کا وقت آگے بڑھانا ضروری نہیں سمجھا گیا بلکہ اس تقریب کو کچھ خاص ملکوں کے لیے پیغام رسانی کا ذریعہ سمجھا گیا۔

پاکستان تک تو پیغام صاف اور واضح لفظوں میں پہنچ گیا ہے، اور امید ہے کہ عرب شیوخ کو ضرورت سے زیادہ پروٹوکول دینے والے حکمرانوں کی خوش فہمی بھی اب دُور ہوچکی ہوگی۔

متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زاید نے مودی کو ایوارڈ سے نواز کر بہترین بزنس ڈیل کی۔ محمد بن زاید یمن کی بندرگاہوں سے لے کر قرن افریقا تک بحر ہند اور اس سے بھی آگے عرب امارات کے تجارتی مفادات کو دیکھ رہے ہیں۔ اس قدر وسیع مفادات میں کشمیر کے 70 لاکھ مسلمانوں کا درد محسوس کرنے کا وقت بھلا کس کے پاس ہے؟

امارات نے مودی کو ایوارڈ سے نواز کر بہترین بزنس ڈیل کی
امارات نے مودی کو ایوارڈ سے نواز کر بہترین بزنس ڈیل کی

امت مسلمہ کا درد محسوس کرنا ہے تو سعودی شاہی خاندان محسوس کرے جس نے ہمیشہ مسلم دنیا کی قیادت کا نہ صرف خواب دیکھا بلکہ اسی نکتے پر مسلم دنیا میں مفادات کو پروان بھی چڑھایا۔ متحدہ عرب امارات نے تو اپنے مفادات کے لیے قریب ترین اتحادی اور دفاعی پارٹنر سعودی عرب کو بھی یمن جنگ میں اکیلا چھوڑ دیا ہے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دفاعی پارٹنر ہیں، لیکن ان کے درمیان اختلافات عرب امارات کے وجود میں آتے ہی پیدا ہوگئے تھے جو حالات کے جبر کے تحت دبے رہے۔

سعودی عرب کو یمن جنگ میں دھکا دینے والا بھی عرب امارات ہی تھا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اماراتی ولی عہد کو اپنا سرپرست مان کر ان کے اشاروں پر چلتے رہے اور اب بھی حال یہ ہے کہ محمد بن سلمان کے اردگرد امارات کے وفاداروں کا جمگھٹا ہے جو محمد بن سلمان کے تمام ارادوں اور فیصلوں سے اماراتی شیخوں کو بروقت آگاہ رکھتے ہیں۔

محمد بن سلمان اماراتی ولی عہد کو اپنا سرپرست مان کر ان کے اشاروں پر چلتے رہے
محمد بن سلمان اماراتی ولی عہد کو اپنا سرپرست مان کر ان کے اشاروں پر چلتے رہے

اگرچہ سعودی شاہی خاندان کو اماراتی شیخوں کے عزائم پر تحفظات ہیں اور شدید بے چینی کی کیفیت ہے لیکن محمد بن سلمان اس وقت سیاہ و سفید کے مکمل مالک بنے بیٹھے ہیں اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قصور بھی صرف سعودی شاہی خاندان میں پائی جانے والی بے چینی کو دنیا کے سامنے لانا اور محمد بن سلمان کے فیصلوں پر امارات کے حکمران خاندان کے اثر و رسوخ کی مخالفت کرنا تھا۔ جمال خاشقجی نے یمن جنگ میں سعودی مفادات کے خلاف پالیسیوں کی نشاندہی اگست 2017ء میں ایک کالم میں کردی تھی۔

متحدہ عرب امارات کا یمن جنگ کا مقصد یمن میں بندرگاہوں پر کنٹرول حاصل کرنا تھا۔ متحدہ عرب امارات یمن کے سابق آمر علی عبداللہ صالح کے بیٹے کو یمن میں برسرِاقتدار لانا چاہتا تھا۔ یمن جنگ میں یہ مقصد حاصل ہوتا نظر نہ آیا تو عرب امارات نے راہ بدل لی۔

اس سال جون میں عرب امارات نے یمن سے فوج نکالنے کا اعلان کیا اور جنوبی یمن میں علیحدگی پسند قوتوں کی مدد شروع کردی۔ جنوبی یمن کے علیحدگی پسند شمالی یمن سے الگ ہو کر اپنی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ عرب امارات نے سعودی عرب کا اتحادی ہوتے ہوئے بھی تمام توجہ جنوبی یمن پر دی اور جنوبی یمن کی بندرگاہوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد فوج واپس لے گیا۔ اب عرب امارات علیحدگی پسندوں کی 90 ہزار فوج کو ہتھیار اور رقم دے کر جنوبی یمن کو اپنے لیے محفوظ بنائے ہوئے ہے۔ جبکہ سعودی عرب کا یمن کا مسئلہ وہیں کا وہیں ہے۔ سعودی عرب کے لیے اصل پریشانی شمالی یمن کے حوثی باغی ہیں جو سعودی سرحدی صوبوں میں تیل کی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کا یمن جنگ کا مقصد یمن میں بندرگاہوں پر کنٹرول حاصل کرنا تھا
متحدہ عرب امارات کا یمن جنگ کا مقصد یمن میں بندرگاہوں پر کنٹرول حاصل کرنا تھا

عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی یمن کی عبوری کونسل عدن کی بندرگاہ چھڑانے کے بعد سعودی حمایت یافتہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کے کنٹرول میں صوبہ ابیان کا محاصرہ کیے ہوئے ہے۔ صدر عبد ربہ منصور ہادی کے وزیرِ داخلہ احمد المصیری نے عدن چھوڑنے سے پہلے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا ’اس سے پہلے کہ وہ مجھے ڈی پورٹ کریں میں جا رہا ہوں اور میں انہیں ہم پر فتح کی مبارکباد دیتا ہوں، لیکن یہ یاد رہے کہ ہم واپس آنے کے لیے جا رہے ہیں‘۔

یہ پیغام جنوبی یمن کے علیحدگی پسندوں اور ان کے سرپرست عرب امارات کے لیے تھا۔ احمد المصیری نے کہا کہ جنوبی یمن کے علیحدگی پسندوں نے عرب امارات کے بھجوائے گئے کرائے کے فوجیوں اور 400 آرمرڈ گاڑیوں کے ساتھ عدن پر قبضہ کیا۔

متحدہ عرب امارات یمن کی عدن بندرگاہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کی نظریں اب حدیدہ بندرگاہ پر ہیں۔ جنوبی یمن میں اپنی مرضی کی حکومت بناکر عرب امارات باب المندب کو بھی اپنی بحری تجارت کے لیے محفوظ بنا رہا ہے۔ لہٰذا ایک بار پھر یہاں یہ سوال ضرور اٹھنا چاہیے کہ اس صورتِ حال میں سعودی عرب کو یمن کی طویل جنگ سے کیا ملا؟

عرب ریاستوں کی لڑائی اور مفادات یمن تک محدود نہیں بلکہ لڑائی بحیرہ احمر کے دونوں طرف کی بندرگاہوں اور منڈیوں پر قبضے کی بھی ہے۔ سوڈان کی حالیہ بغاوت اور سیاسی بحران عربوں کی مداخلت کا نتیجہ ہے اور یہاں بھی متحدہ عرب امارات ہی بظاہر فاتح ہے۔ یمن جنگ میں سوڈان نے بھی فوج بھجوائی تھی۔ مگر صدر عمر البشیر کی اسلام پسندوں اور اخوان المسلمین کے ساتھ مبینہ ہمدردیاں ان کو لے ڈوبیں اور عربوں نے یمن میں کام کرنے والے سوڈانی جرنیلوں کو ساتھ ملا لیا۔

2011ء کی عرب بہار کے نتیجے میں مصر میں اخوان کی حکومت بننے کے بعد عرب آمروں میں عدم تحفظ پیدا ہوا اور انہوں نے عرب بہار کے نتائج کو بدلنے پر توانائیاں اور رقم خرچ کی۔ عرب امارات نے مصر میں فنڈنگ کرکے محمد مرسی کی حکومت گرانے میں کردار ادا کیا۔

2017ء میں قطر کے مقاطعہ میں عرب ریاستوں نے افریقی مسلم ریاستوں کو بلیک میل کرکے مقاطعے پر مجبور کیا۔ 2014ء میں ترکی کے البیراک گروپ نے صومالیہ میں موغادیشو کی بندرگاہ کے حقوق حاصل کیے۔ عرب امارات نے اس کے جواب میں نیم خود مختار صومالی علاقوں میں 2 بندرگاہوں کا انتظام سنبھالنے کے معاہدے کیے۔ 2017ء میں ترکی اور 2018ء میں قطر نے سوڈان میں بندرگاہیں تعمیر کرنے کے معاہدے کیے۔

بحیرہ احمر اصل میں بحر ہند کی ایک خلیج ہے جو عرب ملکوں اور افریقا کو الگ کرتی ہے۔ عرب دنیا کے افریقا کے ساتھ رابطے پرانے ہیں لیکن قطر اور ترکی بھی اس خطے میں اپنا آپ منوانا چاہتے ہیں۔ آج کی بحری تجارت کا 8 فیصد باب المندب سے گزرتا ہے خوا وہ سوئز کینال سے آ رہا ہو یا سوئز کینال کی طرف جا رہا ہو۔

عرب امارات نے صومالی علاقے میں بربرہ اور بوساسو کی بندرگاہوں کا انتظام سنبھالنے کے علاوہ اریٹیریا میں عصب بندرگاہ پر بحری اڈا بھی بنا لیا ہے۔ اس طرح عرب امارات یمن کی عدن بندرگاہ کے ذریعے بحیرہ احمر کے دوسرے کنارے پر 6 بندرگاہوں پر کنٹرول حاصل کرچکا ہے۔

سعودی عرب نے اریٹیریا اور ایتھوپیا کے درمیان 20 سال پرانی دشمنی پر ثالثی کی اور تنازع ختم کرایا مگر فائدہ عرب امارات نے اٹھایا۔ 2015ء میں یمن جنگ شروع کرنے کے بعد سے سعودی عرب اور عرب امارات بحیرہ احمر کے دونوں طرف اتحادیوں کی تلاش میں تھے۔ پچھلے سال دسمبر میں سعودی عرب نے مصر، جبوتی، صومالیہ، سوڈان، یمن اور اردن کے نمائندوں کا اجلاس بلایا اور بحیرہ احمر اتحاد کا اعلان کیا۔

بحیرہ احمر اصل میں بحر ہند کی ایک خلیج ہے جو عرب ملکوں اور افریقا کو الگ کرتی ہے۔ عرب دنیا کے افریقا کے ساتھ رابطے پرانے ہیں لیکن قطر اور ترکی بھی اس خطے میں اپنا آپ منوانا چاہتے ہیں۔

قرن افریقا بین الاقوامی فورسز کے اڈوں کے حوالے سے اب دنیا کا سب سے بڑا فوجی مرکز بن چکا ہے۔ جاپان، فرانس، امریکا، اٹلی اور چین کا ایک ایک اڈہ بھی اس علاقے میں موجود ہے۔ سوڈان کے برطرف صدر عمر البشیر کی سب سے بڑی غلطی ترکی اور قطر کو بندرگاہوں کی تعمیر کی دعوت دینا تھا، کیونکہ اس دعوت کے بعد وہ اب تاریخ کا حصہ بن چکے۔ صومالیہ نے قطر کے معاملے پر غیر جانبداری کا فیصلہ کیا تو سعودی عرب نے اس کی امداد بند کردی۔

یمن جنگ میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بھی غیر جانبداری کا فیصلہ کیا تھا اور اس کا انجام بھی سب کے سامنے ہے۔ عرب امارات دبئی کی بندرگاہ کے مقابلے میں گوادر کو بھی ناپسند کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں عرب امارات چاہ بہار کو اپنے مفادات کے لیے بہتر تصور کرتا ہے۔ بھارت کے عزائم بھی گوادر کے حوالے سے ڈھکے چھپے نہیں۔

عرب امارات دبئی کی بندرگاہ کے مقابلے میں گوادر کو بھی ناپسند کرتا ہے
عرب امارات دبئی کی بندرگاہ کے مقابلے میں گوادر کو بھی ناپسند کرتا ہے

عرب امارات کا مقصد بحر ہند، بحیرہ احمر اور قرن افریقا میں بحری، تجارتی اور اسٹریٹیجک مفادات کا تحفظ ہے۔ اس لیے ایران کے معاملے پر بھی عرب امارات اور سعودی موقف میں اختلاف ہے۔

چند ہفتے پہلے سعودی اور اماراتی تیل ٹینکروں پر سمندر میں مبینہ حملے ہوئے تو سعودی عرب نے فوری الزام ایران پر لگا دیا لیکن عرب امارات نے اس سے نہ صرف گریز کیا بلکہ عرب امارات نے تیل ٹینکروں پر حملے کے بعد اپنا 7 رکنی اعلیٰ سطح کا وفد تہران بھیجا جس نے ایرانی حکام سے سمندری راستوں کی حفاظت اور سرحدی معاملات سے متعلق دیگر ایشوز پر بھی بات کی۔

عرب امارات کا یمن کے بعد ایران ایشو پر سعودی عرب سے راستے الگ کرنا مشرق وسطیٰ میں بگڑتے اور نئے بنتے اتحادوں کی طرف اشارہ ہے۔ ایران کے ساتھ کسی بھی تصادم کی صورت میں عرب امارات اپنا دامن صاف بچا لے گا۔

دوسری طرف سعودی ولی عہد امریکی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور سعودی مفادات محمد بن سلمان کے اتحادیوں کی وجہ سے داؤ پر لگ چکے ہیں۔ شاہی خاندان میں ان امور پر بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان ناکام پالیسیوں کی وجہ سے کسی بھی وقت امریکی صدر کی حمایت کھو سکتے ہیں اور صدر ٹرمپ کا مزاج پہلے ہی انہیں ناقابلِ اعتماد اتحادی ثابت کرتا ہے۔

شاہی خاندان میں یہ سوچ پائی جا رہی ہے کہ محمد بن سلمان کا امریکا سے اتحاد ٹوٹنا ہی ہے تو ان کے بادشاہ بننے سے پہلے ٹوٹ جائے تو بہتر رہے گا۔

ان حالات میں سعودی عرب بھی مفادات کے تحفظ کی فکر میں ہے۔ پاکستان کو دفاعی پارٹنر اور دیرینہ اتحادی ہونے کے ناطے سعودی عرب سے توقعات ہیں لیکن ریاض کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ پاکستان کو بنتے بگڑتے اتحادوں کے درمیان اپنے لیے محفوظ راستہ نکالنا ہوگا۔