آصف زرداری کو جیل میں فراہم کردہ سہولیات کی تفصیلات طلب

اپ ڈیٹ 04 ستمبر 2019

ای میل

سابق صدر آصف زرداری جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار ہیں —فائل فوٹو: اے پی
سابق صدر آصف زرداری جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار ہیں —فائل فوٹو: اے پی

اسلام آباد: احتساب عدالت کے قائم مقام جج نے اڈیالہ جیل انتظامیہ سے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو دی گئی سہولیات کی تفصیلات طلب کرلیں۔

واضح رہے کہ جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری 5 ستمبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق جج راجا جواد عباس حسن نے آصف زرداری کے وکیل سردار لطیف خان کھوسہ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کی، اس درخواست میں جیل انتظامیہ کے خلاف عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

اس سے قبل جیل انتظامیہ کی جانب سے احتساب عدالت کو بتایا گیا تھا کہ انہوں نے عدالتی حکم سیکریٹری داخلہ کو بھیج دیا اور وہ اس سلسلے میں محکمہ داخلہ کے جواب کے منتظر ہیں۔

مزید پڑھیں: آصف زرداری، فریال تالپور کو جیل میں 'اے کلاس' سہولیات دینے کی درخواست مسترد

گزشتہ ہفتے سابق صدر آصف علی زرداری کو طبی معائنے کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لے جایا گیا تھا، جہاں ہسپتال انتظامیہ نے ان کے معمول کے ٹیسٹ کیے تھے۔

عدالت میں دائر درخواست میں ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے کہا کہ آصف زرداری کو 2008 میں صدر مملکت بننے سے قبل بھی جیل میں 'اے' کلاس سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔

تاہم اب جیل انتظامیہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کررہی ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کے موکل بوڑھے ہوگئے ہیں اور مختلف بیماریوں کا سامنا کر رہے ہیں ان کی مکمل دیکھ بھال نہیں کی جارہی۔

ان کے مطابق آصف زرداری اپنے سیل میں ایک ملازم (اٹینڈینٹ) کو خود رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریاستی خرچ پر آصف علی زرداری کو 'اے' کلاس سہولیات فراہم کرنے کی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔

تاہم عدالت نے انہیں اپنے ذاتی خرچ پر مختلف سہولیات فراہم کرنے یا ان کے سیل میں اُن چیزوں کے استعمال کی اجازت دی تھی۔

16 اگست کو دیے گئے اس فیصلے کے مطابق سابق صدر کو اپنے ذاتی خرچ پر اپنے سیل میں فرج، ایئرکنڈیشنر، انٹرنیٹ کنیکشن اور ایک ذاتی ملازم رکھنے کی اجازت تھی، ساتھ ہی عدالت نے اُن کے جوڈیشل ریمانڈ میں 5 ستمبر تک توسیع کردی تھی۔

علاوہ ازیں لطیف کھوسہ کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے اڈیالہ جیل انتظامیہ سے عدالتی احکامات کی روشنی میں انہیں فراہم کی گئی سہولیات کی تفصیلات مانگ لیں۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: فریال تالپور، آصف زرداری کے ریمانڈ میں 5 ستمبر تک توسیع

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جعلی اکاؤنٹس کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری مسترد ہونے کے بعد 10 جون کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق صدر آصف زرداری کو گرفتار کیا تھا۔

وہ جعلی اکاؤنٹس کیس سے متعلق مختلف انکوائریز کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ رواں سال کے اوائل میں عدالت عالیہ میں جمع کروائی گئی نیب رپورٹ کے مطابق آصف زرداری کم از کم 8 انکوائزیز کا سامنا کر رہے تھے۔

آصف زرداری جعلی اکاؤنٹس، پارک لین کمپنی اور غیرقانونی ٹھیکہ دینے سے متعلق ریفرنسز میں ملزم ہیں جبکہ دیگر انکوائریز گنے کے کاشتکاروں کی سبسڈی کا ناجائز استعمال، توشہ خانہ سے گاڑیاں لے کر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے درآمدی ڈیوٹی کی ادائیگی، جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے بحریہ ٹاؤن سے 8 ارب 30 کروڑ روپے کی لین دین اور زرداری گروپ کی جانب سے جے وی اوپال میں کک بیکس کی وصولی سے متعلق ہیں۔