مقبوضہ کشمیر: احتجاج کے دوران زخمی ہونے والا شخص دم توڑ گیا

اپ ڈیٹ 05 ستمبر 2019

ای میل

میڈیا نے احتجاج کے دوران متعدد ہلاکتوں کی رپورٹ کی تھی تاہم حکام اس کی تردید کر رہے ہیں — اے پی/فائل فوٹو
میڈیا نے احتجاج کے دوران متعدد ہلاکتوں کی رپورٹ کی تھی تاہم حکام اس کی تردید کر رہے ہیں — اے پی/فائل فوٹو

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کے دوران زخمی ہونے والا شخص ایک ماہ کے بعد دم توڑ گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق متنازع خطے کے مرکزی شہر سری نگر کے 18 سالہ اسرار احمد خان منگل کی رات کو ہسپتال میں ایک ماہ قبل لگے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

جموں و کشمیر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ کا کہنا تھا کہ 'امن و امان کی صورتحال، جہاں مشتعل ہجوم پتھراؤ کر رہے تھے، میں اسے کسی نوکیلی چیز سے چوٹ لگی تھی'۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی فیصلے پر تنقید، سری نگر کے میئر نظربند

ان کا کہنا تھا کہ 'چند مظاہرین کے مطابق اسرار احمد خان کو آنسو گیس کا شیل لگا تھا تاہم پولیس کو شک ہے کہ اسے پتھر آکر لگا تھا'۔

میڈیا نے احتجاج کے دوران متعدد ہلاکتوں کی رپورٹ کی تھی تاہم حکام اس کی تردید کرتے رہے۔

خیال رہے کہ 5 اگست کو بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے قبل ہی وادی میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کردی تھی جبکہ ہزاروں اضافی فوجی بھی وہاں بھیج دیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: مسئلہ کشمیر پر تمام فریق تحمل سے کام لیں، امریکا

اس کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو بھی نظر بند کردیا گیا تھا۔

تاہم اس خصوصی حیثیت کے خاتمے کے چند گھنٹوں بعد ہی عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی سمیت جموں اینڈ کشمیر پیپلز کانفرس کی قیادت سجاد لون اور عمران انصاری کو بھی گرفتار کرلیا تھا۔

بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی میں لگائے گئے اس لاک ڈاؤن کو 32 روز ہوچکے ہیں، جس کے باعث وہاں لوگ محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔