آصف زرداری کو جیل میں سہولیات فراہم کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

اپ ڈیٹ 06 ستمبر 2019

ای میل

جج راجہ جواد عباس نے جعلی اکاؤنٹس کیس کی مزید سماعت بھی 19 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی — فائل فوٹو: اے ایف پی
جج راجہ جواد عباس نے جعلی اکاؤنٹس کیس کی مزید سماعت بھی 19 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: احتساب عدالت کے قائم مقام جج نے سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے جیل میں سہولیات فراہم کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے جعلی اکاؤنٹس کیس کی مزید سماعت 19 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

احتساب عدالت نے 16 اگست کو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو اپنے خرچ پر ایئر کنڈیشنر، فریج، انٹرنیٹ اور ایک تیماردار کی سہولیات سے استفادہ کرنے کی اجازت دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: آصف زرداری، فریال تالپور کو جیل میں 'اے کلاس' سہولیات دینے کی درخواست مسترد

تاہم اڈیالہ جیل انتظامیہ نے سابق صدر کو اپنے خرچ پر بھی یہ سہولیات رکھنے کی اجازت نہیں دی۔

جس پر ان کی قانونی ٹیم نے احتساب عدالت میں درخواست دائر کر کے جیل انتظامیہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے کی استدعا کی تھی۔

جس کے جواب میں جیل سپرنٹنڈنٹ نے عدالت کو بتایا کہ جیل انتظامیہ نے اس معاملے پر محکمہ قانون سے رائے طلب کی ہے۔

ان کے مطابق آصف زرداری کو ادویات رکھنے کے لیے آئس باکس کی سہولت فراہم کی گئی ہے جبکہ ٹی وی اور اخبارات بھی میسر ہیں۔

جیل سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ آصف علی زرداری کو علاج معالجے کی سہولت بی فراہم کی جارہی ہے اور خصوصی تیماردار تعینات کرنے کے بجائے طبی عملہ 24 گھنٹے ان کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: آصف زرداری کو جیل میں فراہم کردہ سہولیات کی تفصیلات طلب

رپورٹس کے مطابق ایئرکنڈیشننگ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے جیل انتظامیہ حکومت پنجاب کی ہدایات کا انتظار کررہی ہے۔

عدالتی سماعت کے دوران آصف زرداری روسٹروم پر آئے اور کہا کہ انہیں پہلے جیل میں ایئر کنڈیشنگ کی سہولت فراہم کی گئی تھی لیکن اس مرتبہ عدالتی احکامات کے باوجود جیل انتظامیہ یہ سہولیات نہیں دے رہی۔

عدالت سے واپس جاتے ہوئے آصف زرداری نے سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکار کو دھکا دیا اور کہا کہ میری بہن سے دور ہو، خیال رہے کہ فریال تالپور بھی جعلی اکاؤنٹس کیس میں ملزم ہیں اور اس سلسلے میں عدالت میں پیش ہوئی تھیں۔

کیس کا پس منظر

2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روہے بتائی گئی تھی۔

اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔

اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: یو اے ای کی کاروباری شخصیت وعدہ معاف گواہ بن گئی

آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔

بعد ازاں اس کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔

تاہم 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور معاملے پر نظرثانی کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا تھا۔

بعدازاں نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے سیکریٹری آفتاب میمن، شبیر بمباٹ، حسن میمن اور جبار میمن کو گرفتار کر کے 14 روزہ ریمانڈ بھی حاصل کیا تھا، ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ان ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا۔

اس سلسلے میں 20 مارچ کو آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے پارک لین اسٹیٹ کرپشن کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں نیب کے سامنے پیش ہوکر اپنے بیانات قلم بند کرائے تھے۔

مزید پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: نیب نے ساڑھے 10 ارب روپے کی پلی بارگین منظور کرلی

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے یہ کیس نیب کے سپرد کرتے ہوئے 2 ماہ میں تحقیقات کا حکم دیا تھا اور نیب نے اس کے لیے مشترکہ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کی تھی، جس کے سامنے آصف زرداری پیش ہوئے تھے۔

15 مارچ کو کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی نیب کی درخواست منظور کی تھی۔

جس کے بعد اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے اس کیس میں نامزد آٹھوں ملزمان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 8 اپریل تک ملتوی کی تھی اور 9 اپریل کو احتساب عدالت نے باقاعدہ طور پر جعلی بینک اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کا آغاز کیا۔

احتساب عدالت کے رجسڑار نے بینکنگ کورٹ سے منتقل کئے جانے والے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد اسے احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کی عدالت میں منتقل کیا تھا۔

مذکورہ کیس میں آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی ضمانت قبل از گرفتاری میں مسلسل توسیع ہوتی رہی تاہم آصف زرداری کو 10 جون جبکہ ان کی بہن کو 14 جون کو گرفتار کرلیا تھا جنہین بالترتیب 15 اگست اور 12 اگست کو ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔