بھارت کا چاند پر پہنچنے کا مشن ایک مرتبہ پھر ناکام

اپ ڈیٹ 07 ستمبر 2019

ای میل

چندریان 2 نامی خلائی مشن بھارت کا اب تک سب سے پرجوش منصوبہ تھا —تصویر: اے ایف پی
چندریان 2 نامی خلائی مشن بھارت کا اب تک سب سے پرجوش منصوبہ تھا —تصویر: اے ایف پی

بھارت کا چاند کی سطح پر اترنے کا خواب ایک مرتبہ پھر اس وقت چکنا چور ہوگیا جب اس کے خلائی جہاز کا چاند پر اترنے سے پہلے ہی رابطہ ٹوٹ گیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق چندریان 2 نامی خلائی مشن بھارت کا اب تک سب سے پرجوش منصوبہ تھا جس کی وجہ اس کی کافی کم لاگت یعنی ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہونا تھی۔

جولائی میں مشن روانہ کرتے ہوئے بھارت کو امید تھی کہ وہ امریکا، روس اور چین کے بعد کامیابی سے چاند پر اترنے والا چوتھا ملک اور اس کے قطب جنوب تک پہنچنے والا پہلا ملک بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت چاند کی جانب دوسری بار مشن بھیجنے میں کامیاب

اس مشن سے قبل بھارت نے 2008 میں بھی چاند پر خلائی مشن بھیجا تھا، تاہم وہ مشن کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔

تاہم ہفتے کی علی الصبح جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور کروڑوں افراد سانسیں روکے بھارتی خلائی پروگرام کے بانی سے منسوب خلائی جہاز ’وکرم‘ کے چاند کی سطح پر اترنے کا منظر دیکھ رہے تھے کہ اس وقت صرف 2.1 کلومیٹر کے فاصلے پر اس کا رابطہ زمین سے ٹوٹ گیا۔

چاند کی سطح پر اترنے میں ناکامی پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس مشن کے سربراہ کو دیر تک گلے لگا کر تسلی دیتے نظر آئے۔

خیال رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بنگلور میں چاند پروگرام کے کمانڈ سینٹر میں خلائی مشن کے چاند کی سطح پر اترنے کا تاریخی منظر دیکھنے کے لیے موجود تھے۔

اس بارے میں انڈین ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے چیئرمین نے کہا کہ ’وکرم منصوبے کے مطابق اترنے والا تھا اور اس کی کارکردگی بھی معمول کے مطابق تھی‘۔

مشن کی ناکامی سے ساکت و جامد رہ جانے والے آپریشن روم میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بعدازاں لینڈر سے زمینی اسٹیشن کا رابطہ منقطع ہوگیا تاہم اس حوالے سے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا جارہا ہے‘۔

مزید پڑھیں: بھارت 2022 تک پہلا انسان بردار خلائی مشن بھیجنے کا خواہشمند

اسرو کی جانب سے مزید کہا گیا کہ چندریان 2 (چاند گاڑی2) بالکل صحیح حالت میں چاند کے مدار میں چکر لگا کر معمول کے مطابق کام کررہا تھا اور محفوظ تھا۔

ریسرچ ادارے کی جانب سے چاند کی سطح پر پہنچنے کی براہِ راست نشریات جاری تھیں، جس میں دیکھا گیا تھا کہ جب کنٹرول اسٹیشن کو وکرم کی جانب سے سگنلز موصول ہونا رک گئے تو سائنسدان یک دم پریشان نظر آئے اور پورے کمرے میں سناٹا چھا گیا۔

دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جو ایک کامیاب مشن کا تمغہ حاصل کرنے کے لیے پُرامید تھے اس واقعے کے بعد خطاب کرتے ہوئے اپنے 5 کروڑ ٹوئٹر فالوورز کو تسلی دینے والے نظر آئے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کا خلائی مشن اتنی تاخیر سے چاند پر کیوں پہنچے گا؟

خیال رہے کہ چین جنوری میں وہ پہلا ملک بنا تھا جو چاند کے دور دراز مقام پر اترنے میں کامیاب ہوا تھا، اسی قسم کی کوشش اسرائیل کی جانب سے اپریل میں کی گئی تھی جس کا نتیجہ آخری لمحات میں خلائی جہاز کا انجن فیل ہوجانے کے سبب چاند کی سطح پر تباہ ہونے کی صورت میں نکلا تھا۔

یہ بات مدِ نظر رہے کہ بھارتی خلائی ادارہ (اسرو) 15 اگست 1969 کو وجود میں آنے کے بعد سے اب تک کئی ریموٹ سینسنگ سیٹیلائٹس، فلکیاتی دوربینیں اور موسمی سیٹیلائٹس زمین کے گرد بھیج چکا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سیارہ مریخ اور چاند کے گرد بھی اپنی خلائی گاڑیاں بھیج چکا۔