شانگلہ میں 10 سالہ بچی کا ریپ، '2 ملزمان' گرفتار

اپ ڈیٹ 10 ستمبر 2019

ای میل

واقعے کے خلاف مقدمہ دوسرے روز درج کیا گیا تھا — فائل فوٹو: ڈان نیوز
واقعے کے خلاف مقدمہ دوسرے روز درج کیا گیا تھا — فائل فوٹو: ڈان نیوز

خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ میں پولیس نے چھٹی جماعت کی طالبہ سے ریپ کے الزام میں 2 مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا۔

ضلع شانگلہ کے علاقے لنلونی میں پیش آنے والے مذکورہ واقعے سے متعلق ایف آئی آر درج ہونے کے بعد گرفتاری عمل میں آئی۔

مزید پڑھیں: شانگلہ میں 5 سالہ بچی ریپ کے بعد قتل

اس حوالے سے بتایا گیا کہ آلپوری پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں نے لنلوئی علاقے میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر سلطان ولی اور رحمٰن الدین کو حراست میں لے لیا۔

مشتبہ ملزمان کے خلاف مقدمہ واقعے کے اگلے روز درج ہوا تھا۔

واقعے کے حوالے سے بتایا گیا کہ 10 سالہ متاثرہ لڑکی اپنے والد تازہ گل کے ہمراہ آلپوری پولیس اسٹیشن پہنچی اور زیر حراست مشتبہ ملزمان کے خلاف بیان دیا کہ اسکول سے گھر جاتے ہوئے ملزمان نے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔

متاثرہ لڑکی کے بیان کے مطابق ’دونوں ملزمان سلطان ولی اور رحمٰن الدین لڑکی کو پکڑ کر کھیتوں میں لے گئے جہاں انہوں نے بچی کا ریپ کیا‘۔

یہ بھی پڑھیں: کوہستان اسکینڈل کیس: مدعی پر 3 بچوں کو جلاکر قتل کرنے کا الزام

متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ ’ریپ کے بعد ملزمان نے چاقو دیکھا کر دھمکی دی اور 200 روپے ہاتھ میں تھما کر کہا کہ اگر کسی کو بتایا تو قتل کردیں گے‘۔

لڑکی کے مطابق ’وہ گھر پہنچی تو والدین موجود نہیں تھے اور جب وہ گھر آئے تو سارا واقعہ انہیں سنایا‘۔

اس ضمن میں پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ آلپوری میں ضلعی ہسپتال کے ڈاکٹروں نے لڑکی کے ساتھ ریپ کی تصدیق کردی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے دونوں ملزمان کے خلاف دفعہ 376، 506، 48 اور 53 کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا۔

واضح رہے کہ دو برس قبل ضلع شانگلہ میں ہی 5 سالہ بچی کو مبینہ طور پر ریپ نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر قتل کردیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا: 5 سالہ لڑکی کا ریپ کے بعد قتل

علاوہ ازیں 2017 میں علاقے الپوری میں ایک خاتون نے اپنی بہو سے مبینہ ریپ کرنے پر اپنے ہی شوہر کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

سال 2016 میں خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے علاقے عشورآباد میں ایک 5 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر ریپ کے بعد گلے میں پھندا لگا کر ہلاک کردیا گیا تھا۔

واقعہ عیدالفطر کے تیسرے روز پیش آیا تھا، مقتولہ کے والد کا کہنا تھا کہ ان کے گھر میں فرج نہیں، اس لیے ان کی بیٹی جمعے کے روز پڑوس سے برف لینے کے لیے گھر سے باہر نکلی تھی۔