نفرت انگیز تقریر: الطاف حسین کی ضمانت میں توسیع

اپ ڈیٹ 12 ستمبر 2019

ای میل

الطاف حسین کو جون میں گرفتار بھی کیا گیا تھا — فائل فوٹو: ایم کیو ایم ویب سائٹ
الطاف حسین کو جون میں گرفتار بھی کیا گیا تھا — فائل فوٹو: ایم کیو ایم ویب سائٹ

لندن: برطانیہ کی پولیس نے مبینہ طور پر نفرت انگیز تقاریر سے متعلق کیس میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کی ضمانت میں توسیع کردی۔

وہ نفرت انگیز تقاریر سے متعلق تفتیش میں طلب کیے جانے پر پولیس اسٹیشن میں پیش ہوئے تھے۔

تاہم ضمانت کے دورانیے سے متعلق کچھ نہیں کہا گیا۔

واضح رہے کہ الطاف حسین کو برطانیہ سے بیٹھ کر پاکستان میں مبینہ طور پر نفرت انگیز تقاریر سے متعلق تفتیش میں پوچھ گچھ کے لیے دوبارہ طلب کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے ایم کیو ایم لندن کے رہنما مصطفیٰ عزیز آبادی نے تصدیق کی کہ الطاف حسین مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے ساؤتھ وارک پولیس اسٹیشن گئے۔

مزید پڑھیں: لندن: بانی ایم کیو ایم الطاف حسین ضمانت پر رہا

دوسری جانب پولیس اسٹیشن کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ 'مجھے برطانوی قانون پر بھروسہ ہے، میں نے کچھ غلط نہیں کیا اور مجھے کسی چیز کا ڈر یا خوف نہیں'۔

بانی ایم کیو ایم ساؤتھ وارک پولیس اسٹیشن میں پیش ہوئے
بانی ایم کیو ایم ساؤتھ وارک پولیس اسٹیشن میں پیش ہوئے

الطاف حسین نے کہا کہ 'یہ تمام من گھڑت کیسز ہیں اور مجھے اس کی عادت ہے'۔

اس سے قبل رواں سال جون میں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کو مبینہ طور پر نفرت انگیز تقاریر سے متعلق تفتیش کے سلسلے میں لندن میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

تاہم بعد ازاں تفتیش سے متعلق الزامات عائد کیے بغیر ہی برطانوی حکام نے انہیں ضمانت پر رہا کردیا تھا۔

اس حوالے سے یہ امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ رواں ماہ اپنی ضمانت ختم ہونے پر وہ آج پولیس کے سامنے پیش ہوں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی متوقع ہے کہ الطاف حسین کی ضمانت میں توسیع ہوجائے یا انہیں کیس میں چارج کردیا جائے۔

یاد رہے کہ جون 2019 میں الطاف حسین کی گرفتاری پر میٹروپولیٹن پولیس نے بتایا تھا کہ 60 سال سے زائد عمر کے شخص کو شمال مغربی لندن میں سنگین جرائم ایکٹ 2007 کی دفعہ 44 کے تحت دانستہ طور پر اکسانے یا جرائم میں معاونت فراہم کرنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

الطاف حسین کو پولیس اینڈ کرمنل ایویڈنس ایکٹ کے تحت حراست میں لے کر جنوبی لندن کے پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا تھا، جہاں ان سے پولیس حراست میں تفتیش کی گئی تھی۔

تاہم الطاف حسین کی ایک روز بعد ہی ضمانت پر رہائی کے بعد ایم کیو ایم لندن کے ذرائع نے ڈان کو بتایا تھا کہ حکام نے ان پر چارجز عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا لیکن وہ ٹھوس ثبوت حاصل کرنے کے لیے اپنی تفتیش جاری رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بانی ایم کیو ایم الطاف حسین لندن میں گرفتار

لندن میں رہنے والے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین 27 سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے دوران مختلف انکوائریز کا سامنا کر رہے ہیں اور انہیں پہلی مرتبہ 3 جون 2014 کو منی لانڈرنگ سے متعلق تفتیش کے دوران گرفتار کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔

2016 میں برطانوی حکام نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات ختم کردی تھیں اور انہیں وہ رقم واپس کردی تھی جو 2014 کے دوران الطاف حسین کے گھر اور دفتر پر مارے گئے چھاپوں کے دوران برآمد کی گئی تھیں۔

یہی نہیں بلکہ الطاف حسین کو ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تفتیش کے دوران بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

واضح رہے کہ عدالت کی جانب سے الطاف حسین کی میڈیا کوریج پر پابندی عائد کرنے کے علاوہ 22 اگست کو کراچی پریس کلب پر کی گئی اشتعال انگیز تقریر کے بعد پاکستان میں ان کی پارٹی کو ان سے لاتعلقی کا اعلان کرنا پڑا تھا۔