جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست سننے والا سپریم کورٹ کا بینچ تحلیل

اپ ڈیٹ 17 ستمبر 2019

ای میل

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر ہے—فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر ہے—فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر دائر صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرنے والا عدالت عظمیٰ کا 7 رکنی بینچ، ججز پر اعتراض کے بعد تحلیل ہوگیا اور نئے بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس آف پاکستان کو بھیج دیا گیا۔

عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس طارق مسعود، جسٹس فیصل عرب، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل پر مشتمل 7 رکنی بینچ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔

اس دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل دینے کا آغاز کیا۔

سماعت کے آغاز پر جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل منیر اے ملک سے مکالمہ کیا کہ مجھے خوشی ہوئی کہ آپ عدالت آئے، جس پر جواب دیا گیا کہ چیف جسٹس کے تقریر کے موقع پر آپ اور جسٹس باقر موجود نہیں تھے۔

مزید پڑھیں: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کون ہیں؟

منیر ملک نے کہا کہ بار کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، پوری قوم کی نظریں اس بینچ پر لگی ہوئی ہیں، اس درخواست میں کچھ حساس معاملات ہیں، جن پر بات ہوئی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل نے کہا کہ چیف جسٹس نے عدالتی سال کے آغاز کی تقریب سے خطاب کیا تھا اور کہا تھا کہ احتساب کا عمل غیر متوازن ہے اور پولیٹیکل انجینئرنگ کا تاثر مل رہا ہے۔

وکیل نے کہا کہ احتساب کا عمل جوڈیشل انجینئرنگ کے لیے بھی استعمال ہو رہا ہے، میرے موکل کی ہدایت ہے کہ عدلیہ کا تشخص خراب نہیں ہونا چاہیے۔

اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے منیر اے ملک نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے سب کچھ قربان کردیں گے، ہم اہل ججز کی فل کورٹ بنانے کی استدعا کرتے ہیں، اس لیے سپریم جوڈیشل کونسل کے اراکین فل بینچ کا حصہ نہ ہوں۔

منیر اے ملک نے کہا کہ کوئی بھی ایسا جج جس کا ذاتی مفاد اس کیس سے نہ جڑا ہو اسے شامل کیا جائے، جن ججز کے مفادات اس سے جڑے ہیں وہ اس بینچ کا حصہ نہ ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ایک ریفرنس خارج

اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ 'کون سا جج متعصب ہوسکتا ہے'، جس پر منیر اے ملک نے کہا کہ 'میں یہ نہیں کہہ رہا کہ کوئی بھی جج متعصب ہے'۔

منیر اے ملک کی بات پر جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ 'میں یہ باور کرانا چاہتا ہوں کہ اس عدالت کا کوئی بھی جج متعصب نہیں'۔

اس دوران منیر اے ملک نے کہا کہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد ہونا ضروری ہے، عدلیہ پر اگر اعتماد نہ ہو تو انصاف نہیں ہوسکتا، انصاف ہوتا ہوا دکھائی دینا چاہیے، جس پر کونسے عوامل سے جج کی جانبداری ثابت ہوتی ہے، اس عدالت کا ہر جج اپنی ذمہ داری آئین اور قانون کے مطابق ادا کرتا ہے۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ جج کی جانبداری کا کہہ کر آپ غلط جانب جا رہے ہیں، ہم تعصب یا جانبداری پر مزید دلائل سننا چاہتے ہیں۔

اس پر وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ 'جن ججز نے چیف جسٹس بننا ہے، ان کی دلچسپی ہے، اس بینچ کے 2 ججز ممکنہ چیف جسٹس بنیں گیے، ان دو ججز کا براہ راست مفاد ہے'، جس پر جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے جسٹس خواجہ کا فیصلہ موجود ہے، اس فیصلے کے مطابق جج بطور جج کسی کو نہیں جانتا، آپ کو کسی جج کے رویے میں تعصب نظر آئے تو ہمیں بتائیں، کارروائی کے آغاز میں یہ اعتراض نہ اٹھائیں، اس اعتراض سے لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد بھی مجروح ہوگا'۔

مزید پڑھیں: ’حکومت جسٹس فائز عیسیٰ کو نہیں ہٹاسکتی، فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل کرے گی‘

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ بینچ سے الگ ہونا ایک جج کا اختیار ہے، جج کا ذاتی مفاد نہیں، ججز پر تعصب کا الزام عائد کرنا افواہوں کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔

منیر اے ملک نے کہا کہ بینچ میں موجود 2 مستقبل کے چیف جسٹس فل کورٹ کا حصہ نہیں بن سکتے، اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ 4 سال بعد چیف جسٹس بننے والے ججز پر تعصب کا الزام عائد نہیں کر سکتے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالتی فیصلے موجود ہیں کسی جج کو مقدمہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، اس پر منیر اے ملک ان ججز کے کندھوں پر ذمہ داری ہے وہ خود فیصلہ کریں، جس جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کا نقطہ ان ججز نے سن لیا ہے، وہ خود فیصلہ کر لیں گے۔

دوران سماعت جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس آئے تو سینئر جج کونسل کا چئیرمین ہوتا ہے، جس پر وکیل نے کہا کہ ادارے کے تحفظ کے لیے یہ اعتراض اٹھایا گیا، ایک مقدمہ میں جسٹس اجمل نے مقدمہ سننے سے انکار کیا، اس پر جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ اس مقدمے میں جسٹس اجمل یہاں آئندہ کے چیف جسٹس تھے۔

اپنے دلائل کو جاری رکھتے ہوئے وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ اگر کسی کا براہ راست مفاد ہے تو معاملہ کوڈ آف کنڈکٹ (ضابطہ اخلاق) کا ہے، اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کسی کا ممکنہ چیف جسٹس بننا مستقبل قریب کی بات نہیں، یہ برسوں کی بات ہے، جس پر وکیل نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج کو تمام ممکنات سے پرہیز کرنا چاہیے۔

اس موقع پر سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ ہوا، جس کے بعد سماعت ہوئی تو جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ کچھ ججز بینچ کا حصہ نہیں بننا چاہتے، ہم سوچ رہے کہ مقدمہ چیف جسٹس کو بھیج دیں۔

یہ بھی پڑھیں: سینئر ججز کے خلاف حکومتی ریفرنس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل احتجاجاً مستعفی

بعد ازاں جسٹس طارق مسعود نے کہا کہ ہم پہلے ہی ذہن بناچکے تھے کہ بینچ میں نہیں بیٹھنا۔

اس کے ساتھ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم نے جو حلف اٹھایا ہے تمام حالات میں اس کا پاس رکھنا ہوتا ہے، ہمارے ساتھی جج کی جانب سے ہمارے بارے میں تحفظات افسوسناک ہیں۔

اس دوران سپریم کورٹ نے دونوں ججز جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس سردار طارق مسعود بینچ سے الگ ہوگئے، جس سے 7 رکنی بینچ تحلیل ہوگیا۔

دونوں ججز کے بینچ سے علیحدہ ہونے پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نئے بینچ کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھیج رہے ہیں، ان سے جلد سماعت کی بھی استدعا کی جائے گی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست

خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کا سامنا کرنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس ریفرنس کو چیلنج کیا تھا اور عدالت عظمیٰ سے معاملے پر فل کورٹ بنانے کی استدعا کی تھی۔

انہوں نے اپنی درخواست فل کورٹ کی تشکیل کے لیے عدالتی مثالیں دیتے ہوئے کہا تھا کہ فل کورٹ بنانے کی عدالتی نظیر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بنام ریاست کیس میں موجود ہے۔

اپنے اعتراضات کی حمایت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ ان کے خلاف ریفرنس 427 (دوسری درخواست) پر سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنے فیصلے میں 'تعصب' ظاہر کیا اور وہ منصفانہ سماعت کی اپنی ساخت کھوچکی ہے۔

اپنی درخواست میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ وہ کوئی بھی ریفرنس کا سامنا کرنے کو تیار ہیں اگر وہ قانون کے مطابق ہو لیکن انہوں نے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ اور بچوں کو مبینہ طور پر اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے موقف اپنایا تھا کہ درخواست گزار کی اہلیہ اور بچوں پر غیرقانونی طریقے سے خفیہ آلات اور عوامی فنڈز کے غلط استعمال کرکے سروے کیا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنسز

واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا۔

ریفرنس میں دونوں جج صاحبان پر اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزمات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا پہلا نوٹس برطانیہ میں اہلیہ اور بچوں کے نام پر موجود جائیدادیں ظاہر نہ کرنے کے حوالے سے صدارتی ریفرنس جاری کیا گیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا دوسرا شو کاز نوٹس صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے خطوط پر لاہور سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ کی جانب سے دائر ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا۔

ریفرنس دائر کرنے کی خبر کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو خطوط لکھے تھے، پہلے خط میں انہوں نے کہا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی مختلف خبریں ان کی کردارکشی کا باعث بن رہی ہیں، جس سے منصفانہ ٹرائل میں ان کے قانونی حق کو خطرات کا سامنا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے تو اس کی نقل فراہم کردی جائے کیونکہ مخصوص افواہوں کے باعث متوقع قانونی عمل اور منصفانہ ٹرائل میں ان کا قانونی حق متاثر اور عدلیہ کے ادارے کا تشخص مجروح ہو رہا ہے۔

صدر مملکت کو اپنے دوسرے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ انہوں نے لندن میں موجود جائیدادوں سے متعلق کچھ نہیں چھپایا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 8 صفحات پر مشتمل خط میں اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر مملکت اپنے اختیارات کے تحت اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آئین کی پیروی کی جائے۔

لندن میں 3 جائیدادیں رکھنے کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے لکھا تھا کہ وہ خود پر اور اپنے خاندان کے خلاف تحقیقات کے طریقے پر صبر کرلیں لیکن کیا یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی سلب کرنے کا باعث نہیں ہورہا۔

خط میں انہوں نے کہا تھا کہ جج ایسا کچھ ہونے کی اجازت نہیں دیتے اور اپنے آئینی حلف کے مطابق وہ آئین کی حفاظت اور اس کا دفاع کرتے ہیں۔