سندھ: ویکسین نہ ہونے پر سگ گزیدگی کا شکار بچہ ماں کی گود میں دم توڑ گیا

اپ ڈیٹ 18 ستمبر 2019

ای میل

صوبہ سندھ میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین نہ ہونے پر 10 سالہ بچہ تڑپتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گیا۔

شکارپور سے تعلق رکھنے والے خاندان پر یہ برا وقت اس وقت آیا جب ان کے 10 سالہ بچے میر حسن کو کتے نے کاٹ لیا اور وہ اس کے علاج کے لیے ضلع کے سرکاری و نجی طبی مراکز میں لے جاتے رہے۔

مجبور والدین کو ہسپتالوں کے چکر لگانے کے باوجود اپنے بیٹے کے علاج کے لیے ویکسین نہ مل سکی، جس کے بعد والدین اینٹی ریبیز (کتے کے کاٹنے کی ویکیسن) لگوانے کے لیے کمشنر آفس پہنچے۔

مزید پڑھیں: پاکستان سگ گزیدگی سے کس طرح پاک ہوسکتا ہے؟

تاہم وہاں موجود ڈاکٹروں نے بھی بچے کے علاج سے انکار کردیا اور اسے ناقابل علاج قرار دے دیا۔

اس حوالے سے مقامی عہدیدار کا کہنا تھا کہ شکار پور میں ویکسین کم ہے، اس ضلع اور جیکب آباد سے لوگ ہمارے پاس ویکسین کروانے آتے ہیں لیکن ہمارے پاس ویکسین کی کمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ریبیز مثبت ہوجاتا ہے تو دنیا میں کہیں بھی اس کا علاج نہیں ہوتا۔

بعد ازاں ویکسین نہ ملنے پر بچے کی ماں روتے ہوئے دہائیاں دیتی رہی، اسی اثنا میں 10 سالہ بچے نے تڑپتے ہوئے اپنی ماں کی گود میں دم توڑ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: سگ گزیدگی روکنا آسان لیکن اختتام خوفناک - یہ حکومتی ریڈار پر کیوں نہیں؟

بچے کی موت پر غمزدہ والد کا کہنا تھا کہ ہم علاج کے لیے مختلف علاقوں میں ہسپتال کا چکر لگاتے رہے، جہاں ڈاکٹرز نے انجیکشن لگائے اور جب بچے کو بخار ہوا تو اسے سلطان کوٹ لے گئے جہاں اسے ڈرپ لگائی گئی۔

والد نے کہا کہ اس کے بعد ہم بچے کو لے کر گھر آگئے تھے اور بچے نے ایک نوالہ ہی کھایا تھا کہ اسے الٹی ہوگئی۔

بچے کے بارے میں بتاتے ہوئے بے بس والد کا کہنا تھا کہ عیدالاضحیٰ سے 2 روز قبل ہی بچے کو کتے نے کاٹا تھا، جس کی ویکسین کے لیے ہم مختلف ہسپتالوں میں گئے لیکن ویکسین فراہم نہیں کی گئی۔