حرمین شریفین کو خطرہ ہوا تو پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گا، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 19 ستمبر 2019

ای میل

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل عمران خان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات ہوئی —فوٹو: حکومت پاکستان ٹوئٹر
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل عمران خان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات ہوئی —فوٹو: حکومت پاکستان ٹوئٹر

وزیر اعظم عمران خان نے تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد سعودی عرب کو پاکستان کی جانب سے مکمل تعاون و حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ حرمین شریفین کے تقدس اور سلامتی کو خطرہ ہونے کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل عمران خان 2 روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب کے شہر جدہ پہنچے اور سعودی ولی عہد سمیت سعودی اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقات کر کے مقبوضہ کشمیر اور خطے کی سنگین صورتحال کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم عمران خان کی سعودی فرمان روا شاہ سلمان سے ملاقات

وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تخریبی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے اپنے مکمل وسائل کے ساتھ تعاون و حمایت کی یقین دہانی کرائی۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تخریبی سرگرمیوں کا مقصد پورے خطے کی سلامتی اور استحکام کو تہس نہس کرنا ہے، انہوں نے ایسی کارروائیوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس ملاقات کے حوالے سے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر تصاویر شیئر کیں اور بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد کو بھارت کی جانب 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد وادی میں جاری سفاکیت سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اقتصادی تعلقات میں پائیدار تعلقات سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا۔

عمران خان کی سعودی فرمان روا شاہ سلمان سے ملاقات

علاوہ ازیں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی سعودی فرمان روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

دوران ملاقات عمران خان نے سعودی تیل کی رسدگاہوں پر حملے کی مذمت کی اور یقین دلایا کہ حرمین شریفین کے تقدس اور سلامتی کو خطرہ ہونے کی صورت میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

وزیر اعظم نے شاہ سلمان کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔

اس ضمن میں سعودی فرمان روا شاہ سلمان نے مسئلہ کشمیر پر دیرینہ حمایت اور یکجہتی کا اعادہ کیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر خزانہ حفیظ شیخ، معاون خصوصی اوور سیز پاکستانی ذوالفقار بخاری، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر راجہ علی اعجاز بھی ملاقات میں موجود تھے۔

وزیراعظم کی جدہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے ملاقات

وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب میں مقیم مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ممتاز پاکستانیوں سے جدہ میں ملاقات کی اور کہا کہ میرا مقصد اقوام متحدہ جانے سے قبل سعودی قیادت کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرنا تھا۔

عمران خان نے باور کرایا کہ ’ہم سب کو ملکر مسئلہ کشمیر پوری دنیا میں اجاگر کرنا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم نے پہلے سے بھانپ لیا تھا کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں اپنے حقوق نہیں ملیں گے جو کہ آج بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے اقدامات سے ثابت ہو چکا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے اور پوری دنیا ہمارے بیانیے کو تسلیم کرچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں ہماری مدد کی اور اب پاک سعودی تعلقات ایک نئے سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں قرضوں کے بوجھ میں تلے معیشت ورثے میں ملی تاہم ہر شعبے میں اصلاحات لا رہے ہیں جس کی وجہ سے بہت مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ سرمایہ کاری کو فروغ دینا اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے قانونی اصلاحات لا رہے ہیں تاکہ ان کے سرمایہ کو تحفظ حاصل ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت کاروبار میں آسانیاں پیدا کر رہی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو ترغیب ملے۔

رائل ٹرمینل پر وزیراعظم عمران خان کا استقبال

اس سے قبل جدہ کے رائل ٹرمینل پر مکہ کے گورنر خالد الفيصل بن عبدالعزيز نے وزیراعظم عمران خان کا استقبال کیا، اس موقع پر سعودی عرب میں تعینات پاکستان کے سفیر راجہ علی اعجاز، قونصل جنرل خالد مجید، سعودی حکام اور قونصلیٹ کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔

قبل ازیں دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک جاری بیان میں بتایا تھا کہ وزیراعظم نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس میں شرکت سے پہلے سعودی عرب کا دورہ کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ وزیراعظم مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

یاد رہے کہ بھارتی حکومت نے 5 اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے قبل وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں لاک ڈاؤن اور کرفیو نافذ کردیا تھا جبکہ کئی لاکھ بھارتی فوجی موجود ہونے کے باجود اضافی نفری کو مقبوضہ کشمیر میں بھیجا گیا تھا۔

مذکورہ اقدام کے بعد سے اب تک سابق وزرائے اعلیٰ، سیاستدانوں، سمیت 4 ہزار افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ وادی میں روزانہ کی بنیاد پر احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے اور اب تک 700 سے زائد مظاہرے ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب دفتر خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ رواں برس فروری میں سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے بعد سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کے تمام شعبوں میں تعلقات تیزی سے فروغ پارہے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دونوں فریقین پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے مختلف پہلوؤں پر بھی بات چیت کریں گے۔

خیال رہے کہ روایتی طور پر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات خاصے گرمجوش اور باہمی دلچسپی پر مبنی ہیں۔

وزیراعظم کا حالیہ دورہ دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کو نئی جہت بخشے گا اور اس سے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ حاصل ہوگا۔

دفتر خارجہ کے مطابق 19 اور 20 ستمبر کو سعودی عرب کا دورہ کرنے کے بعد وزیراعظم نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس میں شرکت کریں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال عمران خان، وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد 18 ستمبر کو پہلی مرتبہ 2 روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب گئے تھے۔