وفاقی وزارتوں میں 150 کھرب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

اپ ڈیٹ ستمبر 20 2019

ای میل

آڈٹ کیے گئے فنڈز مالی سال 18-2017 کے تھے جسے آڈٹ سال 19-2018 کہا جاتا ہے — فائل فوٹو/اے ایف پی
آڈٹ کیے گئے فنڈز مالی سال 18-2017 کے تھے جسے آڈٹ سال 19-2018 کہا جاتا ہے — فائل فوٹو/اے ایف پی

اسلام آباد: آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز میں عوامی فنڈز کے آڈٹ سال 19-2018 کے درمیان 150کھرب 67 ارب کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق آئین کے آرٹیکل 171 کے تحت پارلیمنٹ میں پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں اے جی پی نے خلاف قواعد و ضوابط، کمزور اندرونی سطح پر کنٹرول، عوامی فنڈز کی زیادہ ادائیگیوں اور غفلت کی طویل فہرست کی نشاندہی کی۔

آڈٹ کیے گئے فنڈز مالی سال 18-2017 کے تھے جسے آڈٹ سال 19-2018 کہا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: وفاقی محکموں میں 58 کھرب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

وفاقی حکومت کے آڈٹ سال 2018 کے اکاؤنٹس میں آڈٹ اعتراضات گزشتہ سال کے 58 کھرب کے مقابلے میں 87 فیصد زیادہ ہے جو عوامی رقم پر مالیاتی کنٹرول کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔

یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ حکومت نے 2 ارب ڈالر (280 ارب روپے) کے عالمی بانڈز 8.25 فیصد اور 7.25 فیصد شرح سود پر وفاقی کابینہ کے بجائے وزیر اعظم کی منظوری سے بڑھائے جبکہ قواعد کے مطابق اس کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جانی تھی۔

اضافی شرح سود کی وجہ سے کرائے گئے آڈٹ میں 280 ارب روپے کی پوری رقم کو بغیر سوالات اٹھائے خلاف ضابطہ اور ناجائز قرار دیا گیا۔

اس طرح کی زیادہ تر بڑی رقوم پبلک اکاؤنٹس کمٹی کی جانب سے ریگولرائز کی جاتی ہے کیونکہ ان میں زیادہ تر کرپشن یا غبن شامل ہوتا ہے۔

صدر مملکت کو بھی جمع کرائی جانے والی اے جی پی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کے انکشافات 50 میں سے 40 وفاقی اداروں کے عوامی فنڈز کی اسکروٹنی کے بعد سامنے آئے اور اس میں 10 لاکھ روپے سے کم اخراجات کو شامل نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی آڈٹ رپورٹ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

ان کا کہنا تھا کہ نظر ثانی کیے گئے سال کے دوران 4.9 ارب روپے کی رقم بازیاب کی گئی جسے وفاقی فنڈ میں جمع کرادیا گیا ہے۔

اے جی پی نے اندرونی کنٹرول میں کمزوریوں کے کل 39 کیسز کی نشاندہی کی جس میں 145 کھرب 60 ارب روپے متعدد وزارتوں اور ڈویژنز اور بیرون ممالک میں متعلقہ اداروں کے شامل تھے، ان میں سے چند کو 51 کمزور مالیاتی انتضامات کے کیسز میں شامل کیا گیا جن کی لاگت 147 کھرب روپے تھی، اس کے علاوہ 293 ارب روپے کے اخراجات میں بے ضابطگیاں اور خلاف قواعد ادائیگی کے 237 کیسز کی بھی نشاندہی کی گئی۔

186 ارب روپے کی بازیابی کے 56 کیسز تھے جبکہ 1 ارب روپے سے متعلق 4 کیسز کا ریکارڈ آڈیٹر کے مطالبے پر فراہم نہیں کیا گیا تھا۔

آڈیٹر جنرل پاکستان نے وزارت خزانہ اور اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریوینیو (اے جی پی آر) کی جانب سے 99 ارب روپے سے زائد کی سپلیمنٹری گرانٹ کے حوالے سے غلط بیانی پر بھی سوالات اٹھائے جو وفاقی حکومت کے موثر مالیاتی انتظامات کی یقین دہانی کے لیے ضروری ہیں۔

آڈیٹر کے مطابق اس سے 'سنگین خدشات' پیدا ہوسکتے ہیں کیونکہ اس میں آئین کے آرٹیکل 80-84 کی خلاف ورزی کی گئی ہے کیونکہ وزارت نے سپلیمنٹری گرانٹس کو بجٹ اکاؤنٹس میں پرنٹ نہیں کیا جو کُل سپلیمنٹری گرانٹس کا 94.32 فیصد بنتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مالی سال 18-2017 کے دوران اکاؤنٹس کی درستگی کے لیے سپلیمنٹری گرانٹس 105 کھرب 10 ارب رہی تاہم ان میں سے صرف 599 ارب روپے کے مجازی اخراجات کے شیڈول میں پرنٹ کیے گئے اور 99 کھرب 62 ارب کے غیر مجازی اخراجات کو چھوڑ دیا گیا۔

اے جی پی کا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ کو تمام سپلیمنٹری گرانٹس کو قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کرنا تھا تاہم ایسا نہیں کیا گیا اور تمام بڑی رقم رپورٹ نہ ہوسکیں اور وزارت خزانہ کا جواب ناقابل دفاع ثابت ہوا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سپلیمنٹری گرانٹس کو متعدد وزارتوں اور ڈویژنز کو حتمی تاریخ کے وصول کے بعد کیا گیا تھا جس کی وجہ سے اسے کتابچہ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

اس کے علاوہ اے جی پی نے نشاندہی کی کہ وزارتوں اور ڈویژنز کو 36 کھرب 43 ارب روپے کے اضافی اخراجات انہیں دستیاب حتمی گرانٹس میں سے کیے گئے جبکہ وزارتوں کے سربراہان اور پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کو سپلیمنٹری گرانٹس یا مختص کیے گئے بجٹ میں سے ایسے اضافی اخراجات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

ان میں 34 کھرب 80 ارب روپے کے مقامی قرضے بھی شامل تھے۔

اے جی پی نے متعدد وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے بچائے گئے 411 ارب روپے واپس نہ کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا جس کی وجہ سے فنڈز میں کمی سامنے آئی۔

یہ مالیاتی قواعد کی خلاف ورزی تھی جس کے تحت بچائی گئی تمام رقم کو فوری طور پر یا ہر سال کی 15 مئی سے قبل فنڈز میں جمع کرانی لازمی ہوتی ہیں۔

اے جی پی نے نشاندہی کی کہ 55 ارب روپے کی نیشنل فنانس کمیشن کے تحت صوبوں ادائیگی میں تاخیر کی گئی جس کی وجہ سے جمع کرنے کے چارجز بڑھے اور بلوچستان کو 35 ارب روپے کی غیر مجازی اضافی ادائیگی کی گئی۔