پاکستان سمیت دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقدامات کیلئے مارچ

اپ ڈیٹ 20 ستمبر 2019

ای میل

کراچی میں فن کار اور اساتذہ سمیت طلبہ نے مارچ میں شرکت کی—فوٹو:ثنا علی
کراچی میں فن کار اور اساتذہ سمیت طلبہ نے مارچ میں شرکت کی—فوٹو:ثنا علی

گلوبل وارمنگ روکنے سے متعلق فوری اقدامات کے لیے پوری دنیا اور پاکستان بھر میں شہریوں کی جانب سے کلائمیٹ ایکشن ناؤ کے زیر انتظام مارچ کیے گئے۔

پاکستان کے 26 سے زائد شہروں اور علاقوں میں مارچ کیے گئے جن میں مردان، مٹھی، ٹھٹہ، قصور، کوٹلی، چاغی، قلعہ عبداللہ، پشاور، چترال، گلگت وغیرہ بھی شامل ہیں۔

مارچ کے منتظمین کے مطابق فیصل آباد، پشاور، گھوٹکی اور مردان میں مظاہرے کیے گئے۔

موسمیاتی تبدیلی کی رضاکار اور انتظامیہ میں شامل مہربانو راجا کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ 3 بجے پریس کلب پر جمع ہوں گے اور مارچ کا آغاز 4 بجے ہوگا، اسی وقت کراچی کے فریئر ہال پر بھی مارچ کا آغاز کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ مارچ نوجوانوں کی جانب سے ہوگا جو سب سے زیادہ متاثر ہیں اور وہ ہی اس کی قیادت کریں گے، اس میں اسکول کے بچے بھی شامل ہوں گے'۔

کراچی میں مظاہرین 4 بچے فریئر ہال میں پہنچنا شروع ہوئے جہاں یاسر حسین اور زہرا زیدی سمیت فن کاروں اور اساتذہ نے کراچی سٹیزن لیگ سے پروگرام کا آغاز کردیا۔

شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے ثقافت کے حوالے سے معروف نام شیما کرمانی نے کہا کہ 'اس پروگرام میں سب کو شامل ہونا چاہیے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی سے ہم سب متاثر ہورہے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ مارچ کا مقصد موسمیاتی تبدیلی سے حکومت کا آگاہ کرنا ہے کیونکہ وہ اس حوالے سے فیصلوں کے ذمہ دار ہیں۔ مارچ میں شامل افراد نے نعرے لگائے کہ 'ہم کیا چاہتے؟، موسمیاتی انصاف'۔

ایس ایم بی فاطمہ جناح کی 15 سالہ طالبہ رمشا نے بھی شہریوں سے خطاب کیا اور کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ شہریوں کو سانس لینے کے لیے تازہ ہوا دستیاب نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر لوگ اپنے خاندان اور اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں تو انہیں ماحولیات کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا ضرور معلوم ہونا چاہیے'۔

سینیٹر شیری رحمٰن سمیت معروف شخصیات اور سیاسی رہنما بھی مارچ میں شامل تھے اور انہوں نے کلائمیٹ مارچ میں عوام سے شرکت کا مطالبہ کیا تھا۔

اس حوالے سے دنیا بھر میں 5 ہزار سے زائد تقریبات منعقد کیے گئے جو ممکنہ طور پر دنیا میں اجتماعی طور پر اقدامات کے لیے سب سے بڑی کال تصور کی جارہی ہے جس کا آغاز سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ہیش ٹیگ #climatestrike سے ہوا تھا۔

گلوبل وارمنگ کے حوالے سے اسٹرائیک پر نیو یارک کے 1800 اسکولوں کے 11 لاکھ بچوں کو اسکول سے چھٹی کی اجازت دے دی گئی تھی۔

اس مہم کے ذریعے دنیا بھر کے نوجوانوں نے بڑی عمر کے افراد سے ماحولیاتی تبدیلی کو سنجیدگی سے لینے کا مطالبہ کیا۔

ان کا مطالبہ ہے کہ سیاست دان اور تجارت سے وابستہ افراد گلوبل وارمنگ کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں جس کے لیے سائنس دانوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

آسٹریلیا

آسٹریلیا کے دارالحکومت سڈنی کے علاوہ کینبیرا میں ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔

ریلیوں کے منتظمین کے مطابق تقریباً 3 لاکھ مظاہرین سڑکوں پر آئے— فوٹو: اے پی
ریلیوں کے منتظمین کے مطابق تقریباً 3 لاکھ مظاہرین سڑکوں پر آئے— فوٹو: اے پی

آسٹریلوی مظاہرین نے دنیا کی تمام اقوام سے گرین ہاؤس گیس کے اخراج کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔

ریلیوں کے منتظمین کے مطابق تقریباً 3 لاکھ مظاہرین سڑکوں پر آئے۔

بھارت، فلپائن

نئی دہلی اور ممبئی میں اسکول کے بچوں نے ریلیاں نکالیں جبکہ فلپائن میں ہزاروں افراد نے سمندر کی سطح کے بڑھنے اور خوف ناک طوفانوں میں اضافے پر احتجاج کیا۔

200 سے زائد نوجوانوں نے تھائی لینڈ میں وزارت ماحولیات کے دفتر کی جانب مارچ کیا —فوٹو: اے پی
200 سے زائد نوجوانوں نے تھائی لینڈ میں وزارت ماحولیات کے دفتر کی جانب مارچ کیا —فوٹو: اے پی

منیلا میں 23 سالہ ینا پالو کا کہنا تھا کہ 'یہاں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کے بارے میں جاننے والے کئی افراد موجود ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نہیں جانتے کہ ہم ماحولیاتی تبدیلی سے لڑنے میں سب سے آگے ہیں یا نہیں، مگر امید کرتے ہیں کہ ہم ہوں'۔

تھائی لینڈ

200 سے زائد نوجوانوں نے تھائی لینڈ میں وزارت ماحولیات کے دفتر کی جانب مارچ کیا اور حکومت سے اس کے خلاف اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔

نوجوان مظاہرین نے مارچ کرتے ہوئے ہماری دھرتی کو بچاؤ کے نعرے بھی لگائے — فوٹو: رائٹرز
نوجوان مظاہرین نے مارچ کرتے ہوئے ہماری دھرتی کو بچاؤ کے نعرے بھی لگائے — فوٹو: رائٹرز

نوجوان مظاہرین نے مارچ کرتے ہوئے 'ہماری دھرتی کو بچاؤ' کے نعرے بھی لگائے اور دفتر کے باہر پہنچ کر مردہ ہونے کی اداکاری کی۔

جرمنی

جرمنی میں گزشتہ ایک برس کے دوران موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے بڑے پیمانے پر ریلیاں نکالی گئیں اور اس مارچ میں بھی شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ جنوب مغربی شہر فریبرگ میں 17 ہزار لوگ جمع ہوئے تھے جو دنیا بھر میں 500 شہروں میں ہونے والے مارچ کا حصہ تھے۔

جرمنی کے دارالحکومت برلن اور معاشی مرکز فرینکفرٹ میں بھی مظاہرین سڑکوں پر آئے اور روڈ بلاک کیا تاکہ ملک کے سبزے کو پہنچنے والے نقصان کو اجاگر کیا جائے جس کا ایک بڑا ذریعہ ٹرانسپورٹ بھی ہے۔

رپورٹ کے مطابق احتجاج کے باعث پڑنے والے دباؤ پر جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے جرمنی کی گرین ہاؤس سے خارج ہونے والی گیس کو کم کرنے کے لیے ایک پیکج کا منصوبہ بنایا ہے جس کا اعلان جلد کیا جائے گا۔