رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر مشروط ضمانت پر رہا

ای میل

حامیوں کا کہنا ہے کہ کوریئر سے بھیجے گئے آرڈر کی وجہ سے رہائی میں تاخیر ہوئی۔ — فوٹو: سراج الدین
حامیوں کا کہنا ہے کہ کوریئر سے بھیجے گئے آرڈر کی وجہ سے رہائی میں تاخیر ہوئی۔ — فوٹو: سراج الدین

خڑقمر کیس میں گرفتار اراکین اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو ضمانت منظور ہونے کے بعد خیبرپختونخوا کی ہری پور جیل سے رہا کردیا گیا۔

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) اور جیل ذرائع کے مطابق خڑقمر حملہ کیس میں پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت ملنے کے بعد انہیں رہا کیا گیا ہے۔

رہائی کے بعد علی وزیر اور محسن داوڑ کا ان کی جماعت کے کارکنان نے جیل سے باہر آنے کے بعد استقبال کیا اور پھر انہیں لے کر پشاور کے لیے روانہ ہوگئے۔

مذکورہ ارکین اسمبلی کے ایک حمایتی نے ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہری پور جیل کے باہر 6 گھنٹوں تک اپنے لیڈر کی رہائی کا انتظار کیا۔

مزید پڑھیں: ’محسن داوڑ، علی وزیر کے خلاف ادارے قانون کے مطابق ایکشن لیں گے‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جیل حکام کو ملزمان کی رہائی کا عدالتی حکم نامہ شام 6 بجے موصول ہوگیا تھا تاہم ان کی رہائی آدھی رات کو ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ عدالتی حکم نامہ کوریئر سروس کے ذریعے بھیجا گیا، جس کی وجہ سے ان کی رہائی میں تاخیر ہوئی جبکہ وہ دونوں اپنے اہل خانہ سے ملنے کے لیے اب پشاور روانہ ہوچکے ہیں۔

خیال رہے کہ 18 ستمبر کو جسٹس ناصر محفوظ کی سربراہی میں پشاور ہائی کورٹ کی بنوں بینچ نے دوران سماعت 10 لاکھ روپے فی کس ضمانتی مچلکے جمع کروانے پر گرفتار اراکین اسمبلی کی مشروط ضمانت منظور کی تھی۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں ملزمان کو ملک سے باہر سفر کرنے سے روک دیا تھا جبکہ انہیں مہینے میں ایک مرتبہ پولیس اسٹیشن میں حاضری کا حکم بھی دیا۔

یہ بھی پڑھیں: محسن داوڑ، علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر پر حکومت نے جھوٹ بولا، بلاول بھٹو

اپنے تفصیلی فیصلے میں بینچ کا کہنا تھا کہ ’یہ ضمانت ایک ماہ کے لیے دی گئی ہے جو اراکین اسمبلی کے ’اچھے عمل‘ سے مشروط ہے، تاہم ایک ماہ کی مدت پوری ہونے سے قبل انہیں پشاور ہائی کورٹ میں ضمانت کے لیے نئی درخواست دائر کرنی ہوگی۔‘

خڑقمر واقعہ

یاد رہے کہ 26 مئی 2019 کو شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں خڑقمر چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا تھا جس میں 5 فوجی اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔

اس واقعے سے متعلق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ چیک پوسٹ پر ایک گروہ نے اراکین قومی اسمبلی محسن جاوید داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں منظم انداز میں حملہ کیا۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق چیک پوسٹ پر حملے کا مقصد گرفتار کیے جانے والے مبینہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو چھڑوانے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔

مزید پڑھیں: ’بویا واقعے کے تانے بانے گزشتہ ماہ چیک پوسٹ حملے سے ملتے ہیں‘

بیان میں کہا گیا تھا کہ چیک پوسٹ میں موجود اہلکاروں پر براہ راست فائرنگ کی گئی جس پر اہلکاروں نے تحفظ کے لیے جواب دیا۔

پاک فوج کے مطابق چیک پوسٹ پر براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں 5 اہلکار زخمی ہوئے جبکہ جوابی کارروائی میں 3 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 10 زخمی ہوئے تھے۔

محکمہ انسداد دہشت گردی عدالت نے دونوں اراکین اسمبلی کو گرفتار کرکے بنوں کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) میں پیش کیا جہاں عدالت نے دونوں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر پشاور جیل منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

10 جون کو خیبرپختونخوا کے اراکین قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: محسن داوڑ، علی وزیر کی ضمانت کے لیے عدالت میں درخواست

محسن داوڑ اور علی وزیر کے خلاف 7 جون کو سی ٹی ڈی پولیس اسٹیشن میں ڈوگا ماچا میں آئی ای ڈی دھماکے کا کیس بھی درج کرلیا گیا تھا جس میں پاک فوج کے ایک لیفٹننٹ کرنل، ایک میجر، ایک کیپٹن اور ایک حوالدار شہید ہوگئے تھے۔

بعد ازاں اگست میں بنوں کی انسداد دہشت گردی عدالت نے دونوں اراکین اسمبلی کو ڈوگا ماچا آئی ای ڈی دھماکا کیس میں ضمانت دے دی تھی۔

خیال رہے کہ خڑ قمر واقعے کے روز سیکیورٹی اداروں نے علی وزیر کو گرفتار کرلیا تھا جبکہ جائے وقوع سے فرار ہونے والے محسن داوڑ نے کچھ روز بعد خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کیا تھا۔