سیاست میں آنے کیلئے دل بہت چاہتا ہے، شاہد آفریدی

اپ ڈیٹ 21 ستمبر 2019

ای میل

شاہد آفریدی نے قومی اتحاد پر زور دیا—فوٹو: ڈان نیوز
شاہد آفریدی نے قومی اتحاد پر زور دیا—فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ ملک سے بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کے لیے کام کرنے کی اشد ضرورت ہے جبکہ سیاست میں آنے کے لیے پیش کش بھی ہورہی ہے اور دل بھی چاہتا ہے۔

ڈان نیوز کو خصوصی انٹرویو میں شاہد آفریدی نے کھیل کے علاوہ سیاست پر سوالوں کے جواب دیے اور کہا کہ 'اس ملک نے مجھے جو عزت، پیار اور نام دیا ہے اس ملک کے لیے میں، میرے بچے اور میرا خاندان سب کچھ قربان ہے'۔

سیاست کے حوالے سے اپنے بیانات پر ان کا کہنا تھا کہ 'کسی کے بھی حوالے سے کیا اچھا ہے اس پر بات کرنی چاہیے، عدالتوں کو فیصلے کرنے دیں، آپ اپنی حکومت کریں اور اپنی کارکردگی دکھائیں، باتیں بہت ہوگئیں لیکن اس وقت بے روزگاری اور تعلیم پر جو مسئلے ہیں ان پر کام کرنا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں:شاہد آفریدی کا زیادتی کرنے والوں کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ

انہوں نے کہا کہ 'جو خواب ہم لوگوں نے دیکھیں ہیں یا دکھائے گئے ہیں ان پر کام ہونا چاہیے، یہ ضروری ہے'۔

شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ 'جہاں تک سیاست میں آنے کی بات ہے تو دل بہت چاہتا ہے کہ آؤں اور کافی پیش کش بھی آتی ہیں لیکن فی الحال فاؤنڈیشن کے تحت کام کررہا ہوں اور وہ کام کرنا چاہتا ہوں جو ایک سیاست دان کی ذمہ داری ہے'۔

تعلیم ہوگی عام ہر بیٹی کے نام

فاؤنڈیشن کا تعارف کرواتے ہوئے انہوں نے کہا کہ '2012 میں جب میرے والد کا انتقال ہوا تو دل چاہتا تھا کہ اپنے والد کے نام پر کچھ کرو تو اپنے لوگوں کے لیے اور اپنے گاؤں سے چھوٹا سا ہسپتال یا کلینک کا پائلٹ پروجیکٹ سے شروع کیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے اتنا کچھ نہیں سوچا تھا کہ فلاحی ادارہ، پانی کا کام اور تعلیم بھی شروع کردوں گا اتنا زیادہ نہیں سوچا تھا لیکن ہمت بڑھتی گئی لوگوں نے تعاون کیا، صرف پاکستان نہیں بلکہ امریکا، کینیڈا، بحرین دبئی اور جنوبی افریقہ گئے وہاں لوگوں بہت مدد کی'۔

مزید پڑھیں:پاکستان کرکٹ بورڈ کا شاہد آفریدی فاؤنڈیشن سے معاہدہ

شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ 'یہ سارے کام حکومت سطح کے ہیں، فلاحی ادارے اسی لیے بنتے ہیں کیونکہ ریاست ڈلیور نہیں کرپاتی ہیں، ہمارے ہاں بے روزگاری اور تعلیم کے میدان میں دو بڑے مسائل ہیں اسی لیے ہم نے تعلیم ہوگی عام ہر بیٹی کے نام سے پروجیکٹ شروع کیا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'بہت سارے گاؤں ایسے ہیں جہاں وائی فائی پہلے پہنچا لیکن تعلیم نہیں پہنچی ابھی تو اور ان گاؤں میں زیادہ تر لڑکوں کو پڑھایا جاتا ہے لڑکیوں کو نہیں پڑھایا جاتا یا زیادہ سے زیادہ مدرسے تک بھیج دیتے ہیں، مدرسہ بالکل ہونا چاہیے لیکن ساتھ میں دنیاوی تعلیم بھی ضروری ہے'۔

وزیراعظم عمران خان اور موجودہ حکومت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 'عمران بھائی نے جو امیدیں دلائی ہیں اورعوام کو ان سے جو امید ہے اس کے لیے ہماری دعا ہے لیکن وزیراعظم جوکوئی بھی ہو ہمیں اس وقت ایک قوم بننے کی ضرورت ہے'۔

شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ 'پاکستان چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے، ہمیں اس وقت نہیں پتہ ہمارا دوست ہے کون، جو دوست ہیں وہ ناراض بیٹھے ہوئے ہیں اور ہم اس وقت اکیلے ہیں، قومی اسی وقت اٹھ سکتی ہیں جب آپس میں اتحاد ہو'۔

'وقار یونس کو مداخلت نہیں کرنا چاہیے'

قومی ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ مصباح الحق، باؤلنگ کوچ وقار یونس اور کپتان سرفراز کے درمیان کام کرنے کے تعلق کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ 'تینوں کو میں جانتا ہوں کہ سرفرا گزارا کرلے گا اور میری دعا ہے کہ مصباح اور وکی بھائی آپس میں کرلیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وقار یونس کو بطور ہیڈ کوچ میں نے بہت پہلے فیل کردیا تھا، باؤلنگ کوچ کے طور پر انہیں یہ فیصلہ بہت پہلے کرنا چاہیے تھا اور میں امید کرتا ہوں کہ وکی بھائی باؤلنگ کوچ کے طور پر صرف باؤلرز پر ہی توجہ دیں گے'۔

شاہد آفریدی نے وقار یونس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'وہ مصباح کے کام میں مداخلت نہ کریں اور نہیں کرنا چاہیے اس لیے کہ ان کا کام باؤلنگ کوچ کے طور پر ہے، امید ہے کہ وکی بھائی لڑکوں سے اچھی کارکردگی لائیں گے'۔

یہ بھی پڑھیں:شاہد آفریدی کا سرفراز کو ٹیسٹ ٹیم کی قیادت چھوڑنے کا مشورہ

محمد عامر کی جانب سے ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ اور وہاب ریاض کا کچھ آرام لینے کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑی کو اپنا معلوم ہونا چاہیے وہ اگر ٹیسٹ نہیں لیکن ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں ہمیں لمبا لے کر چل سکتے ہیں تو کیوں نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں تو عمرگل سے کہتا تھا کہ تم ٹیسٹ کرکٹ چھوڑ دو کیونکہ تم زور لگاؤ گے تو خراب ہوں گے لیکن انہوں نے میری بات نہیں سنی اور اب کہتے ہیں آپ نے ٹھیک کہا تھا'۔

کشمیر میں انسانیت کا خون ہو رہا ہے

شاہد آفریدی نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے حوالے سے کہا کہ 'ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ظلم ہورہا ہے ظالم کی حکمرانی ہے، کشمیر میں انسانیت کا خون ہور ہا ہے، بیٹیاں، مائیں، بزرگ اور جوان مارے جارہے ہیں اور یہ ظلم ہو رہا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اب ظلم چاہیے کسی مذہب کے خلاف ہو وہ ظلم ہے اور ظالم ظالم ہی ہے، آپ کو اپنی آواز اٹھانی پڑے گی، کشمیر میں 45 یا 46 دن ہوگئے ابھی تک وہ لوگ گھروں کے اندر ہیں یہ تو اللہ کو معلوم ہوگا کہ ان کے اوپر کیا گزر رہی ہے'۔

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان نے کہا کہ 'ہمارا فرض ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اور مودی یہ حرکتیں کرکے ہندوستان کا نام دنیا میں خراب کررہا ہے اس سے پہلے کبھی کسی وزیراعظم نے نہیں کیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم وہاں کرکٹ کھیلتے رہے ہیں ہندوستان میں بہت سارے لوگ بڑے پڑھے لکھے اور سمجھدار ہیں اور پاکستان کے لوگوں سے بڑا پیار کرتے ہیں جس طرح ہم وہاں کے لوگوں سے کرتے ہیں'۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ 'مودی اور اس کے پیروکار مجھے نہیں معلوم ہندوستان کو کس طرف لے کر جانا چاہ رہے ہیں'۔