شاہد آفریدی کا زیادتی کرنے والوں کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 18 ستمبر 2019

ای میل

سابق کپتان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے بیان جاری کیا — فائل فوٹو/اے پی
سابق کپتان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے بیان جاری کیا — فائل فوٹو/اے پی

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے وزیر اعظم عمران خان سے زیادتی کے ملزمان کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کردیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ 'اب عمران خان مدینہ کی ریاست کو چلانے کا وقت آپہنچا ہے، جو سندھ اور پنجاب میں ہورہا ہے، اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے'۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا نام لیے بغیر وزیر اعظم عمران خان سے سوال کیا کہ 'کیا پنجاب میں آپ کی ٹیم میں بہتر، تجربہ کار بندہ نہیں؟'

ان کا کہنا تھا کہ 'مدینہ کی ریاست میں زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی دی جاتی، وقت آگیا ہے کہ ہمیں بھی یہی کرنا ہوگا'۔

مزید پڑھیں: قصور: 3 بچوں کا ریپ اور مبینہ قتل کے بعد علاقہ مکینوں کا پرتشدد مظاہرہ

اپنی ٹوئٹ کے ساتھ انہوں نے قصور کا ہیش ٹیگ #Kasur استعمال کیا۔

واضح رہے کہ قصور میں والدین ایک مرتبہ پھر اپنے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے پریشانی کا شکار ہیں جہاں ویڈیو اسکینڈل اور زینب قتل کیس کے بعد ایک مرتبہ پھر بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے کا انکشاف ہوا ہے۔

گزشتہ روز صوبہ پنجاب کے شہر قصور سے لاپتہ ہونے والے 3 بچوں کی لاشیں برآمد کی گئیں۔

قصور سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران اغوا کیے گئے 3 بچوں کی لاشیں چونیاں کے علاقے سے برآمد ہوئیں۔

قتل کیے گئے دو بچوں کی باقیات اور ایک بچے کی لاش چونیاں انڈسٹریل اسٹیٹ کے علاقے سے ملیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے بچوں کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کر کے ان کی لاشیں پھینک دی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: نوشہرہ میں 9 سالہ بچی ریپ کے بعد قتل

مقامی افراد کے مطابق گزشتہ ایک سے دو ماہ کے دوران علاقے سے 5 بچے لاپتہ ہوئے جن میں سے 3 کی لاشیں مل گئی ہیں جبکہ دو بچے اب بھی لاپتہ ہیں لیکن پولیس کا کہنا تھا کہ مذکورہ عرصے میں تین بچے لاپتہ ہوئے۔

ایک بچے کی شناخت 8 سالہ سفیان کے نام سے ہوئی ہے جبکہ 2 ناقابل شناخت بچوں کی لاشیں ایک ماہ سے زائد پرانی ہونے کے سبب ناقابل شناخت ہیں اور ان کی شناخت کے لیے ڈی این اے کی مدد لی جائے گی۔

پولیس نے لاشیں تحویل میں لے کر شواہد اکٹھے کر لیے اور واقعے کی تحقیقات شروع کردیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ قصور میں بچوں کے قتل کا کوئی واقعہ رپورٹ ہوا ہو بلکہ اس سے قبل گزشتہ سال قصور کی رہائشی زینب کی لاش ایک کچرا کنڈی سے ملی تھی۔

قصور کی رہائشی 6 سالہ زینب 4 جنوری 2018 کو لاپتہ ہوئی تھی اور 9 جنوری کو ایک کچرا کنڈی سے ان کی لاش ملی جس پر ملک بھر میں شدید احتجاج اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔