سلامتی کونسل کیوں نہیں سمجھ رہی کہ آج حالات 1998 جتنے ہی خراب ہیں

اپ ڈیٹ 24 ستمبر 2019

ای میل

1998ء میں پاکستان اور بھارت کی جانب سے کیے جانے والے ایٹمی دھماکوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والے کشیدہ حالات پوری دنیا نے دیکھے۔ حتیٰ کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ان حالات کا فوری نوٹس لینے پر مجبور ہوگئی۔

6 جون 1998ء کو سلامتی کونسل نے 1172 قرارداد منظور کی جس میں دونوں ملکوں سے کہا گیا کہ وہ تناؤ ختم کرنے کے لیے تمام اہم معاملات پر مذاکرات کی راہ اپنائیں۔ چند دن قبل صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 5 مستقل ممبران کے وزرا جنیوا میں اکٹھا ہوئے اور دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کے طریقوں پر غور کیا۔

جنیوا میں ہونے والے اس اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں وزرا نے اس بات کی توثیق کی کہ وہ ’دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت اور تعاون کو فروغ دینے کی خاطر پاکستان اور بھارت کی ایک ایسے طریقہ کار کے تحت معاونت کرنے کے لیے تیار ہیں جو دونوں کو قابل قبول ہوں۔ وزرا نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ کشمیر جیسے بنیادی مسائل کے باہمی طور پر قابلِ قبول حل تلاش کرنے اور تنازع کی راہ لینے کے بجائے اعتماد قائم کرنے کی کوششوں کے لیے براہِ راست مذاکراتی عمل شروع کرنے پر زور دیتے رہیں گے۔‘

انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ’دونوں ریاستوں کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے دونوں فریقین کی درخواست پر اعتماد سازی اور تحفظ کے فروغ سے جڑے اقدامات کے لیے ہر ممکنہ سہولت فراہم کریں گے۔‘

1998ء میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے تتازع کے حل کے لیے پُرامن طریقہ کار اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی اور سہولت کاری کے ذریعے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری طور پر اقدامات اٹھائے گئے تھے۔

8 جولائی 1998ء کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری نے اپنے خط کے ذریعے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے صدر کو مطلع کیا کہ اس وقت کے بھارتی وزیرِاعظم اٹل بہاری واجپائی نے 30 جون 1998ء کو سیکریٹری جنرل کے نام لکھے گئے خط میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے آغاز پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح انہوں نے اپنے خط میں اس بات کا بھی اظہار کیا کہ پاکستانی حکومت بھی کشمیر جیسے اہم مسئلے سمیت دونوں ملکوں کے درمیان دیگر مسائل کو نمٹانے اور ان کا حل تلاش کرنے کے لیے بھارت کے ساتھ مذاکرات کی خواہاں ہے۔

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے الحاق کی غیرقانونی کوشش کے بعد آج نئی دہلی کو جس قدر شدید ردِعمل کا سامنا ہے اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

غالب خیال یہ ہے کہ بھارت کے اس غیر منصفانہ اقدام سے فلسطینی انتفاضہ طرز کی ایک طویل المدت مسلح مزاحمت کی راہ ہموار ہوگی جس کی وجہ سے غیر ملکی قوتوں کی توجہ بھارت کے پیدا کردہ بحران کی طرف جاسکتی ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے اگر اپنی ازلی فطرت کے مطابق کشمیریوں کے ساتھ ظلم و جبر کو جاری رکھا تو اسے روکنے کے لیے عالمی پیمانے پر واحد مؤثر علاج کے طور پر دہشتگردی اور مذہب کے نام پر جنگوں میں زبردست اضافہ ہوگا۔

جنوبی ایشیا میں ایک بار پھر مئی 1998ء جیسے کشیدہ حالات ہیں جو پہلے جیسے اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔

لہٰذا یہ جائزہ لینا ٹھیک رہے گا کہ موجودہ حالات میں 4 جون 1998ء کو سلامتی کونسل کے 5 مستقل ممبران کی وہ پیش کش کس قدر قابلِ اطلاق ہے جس میں انہوں نے تناؤ میں کمی لانے اور اعتماد سازی اور تحفظ کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکنہ اقدامات میں معاونت فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

سابقہ اور موجودہ حالات میں بحران کی شدت اور اس سے امن اور سلامتی کے لیے پیدا ہونے والے خدشات یکساں نوعیت کے ہیں، لہٰذا 5 مستقل ممبران کو مخلصانہ اقدامات کرنے کے لیے کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے تاکہ وہ عالمی امن و سلامتی کو بحال رکھنے کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اقدامات کرکے 1998ء میں کیے گئے اپنے وعدے کا بھرم رکھ سکیں۔

اگرچہ 1998ء کا یہ عہد پرانا تو ہے لیکن یہ نہایت مخلصانہ انداز میں کسی مدت کا اشارہ دیے بغیر کیا گیا تھا۔ مشترکہ اعلامیہ کے ذریعے جس انداز میں یہ عہد کیا گیا تھا اس سے مستقل ممبران کی جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی صورتحال پر تشویش صاف ظاہر ہوتی ہے۔ دراصل حالات کی یہی وہ سنگینی تھی جس نے ان ممبران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق (اور ذمہ دار اسٹیک ہولڈرز ہونے کے ناطے آزادانہ طور پر) اپنے تمام تر اختیارات کے ذریعے معاونت کے لیے رضامندی اور اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کا بھرپور عزم ظاہر کیا۔

اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی جانب سے کی گئی درخواست کے بعد سیکریٹری جنرل نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے صدر کے نام 8 جولائی 1998ء کو خط لکھا جس میں سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری جنرل نے دونوں فریقین کے درمیان اختلافات ختم کروانے کے لیے پرامن مصالحتی ماحول پیدا کرنے کی کوششوں کے حوالے سے صدر کو آگاہ کیا۔

اس خط میں 30 جون 1998ء کو بھارتی وزیرِاعظم کی جانب سے سیکریٹری جنرل کو لکھے گئے اس خط کا بھی خاص طور پر ذکر کیا گیا جس میں بھارتی وزیرِاعظم نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے آغاز پر بھارت کی رضامندی ظاہر کی تھی۔ بھارت کی یہ رضامندی مذاکرات کے ذریعے تمام تنازعات حل کرنے کے بھارتی ریاست کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔

دو طرفہ مذاکراتی عمل پر پاکستان کی رضامندی کا بھی تذکرہ کیا گیا۔ باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے والے مذاکراتی عمل پر دونوں ریاستوں کی باہمی رضامندی ایک ایسا معاہدہ تصور کیا گیا جس کے تحت دونوں فریقین اپنے تمام مسائل کو باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے پابند ہیں۔

وقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے اور تیزی سے بگڑتی صورتحال ایسے حالات کی طرف لے جا رہی ہے جہاں اسٹیک ہولڈرز عالمی طاقتوں میں اعتماد کھو بیٹھیں گے اور معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے لیں گے پھر چاہے اس کا نتیجہ بہتر نکلے یا بدتر۔

وقت آگیا ہے کہ سلامتی کونسل کے 5 مستقل ممبران اپنے عزم کی لاج رکھیں اور مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل تک پہنچنے میں دونوں فریقین کو سہولت فراہم کرے۔


یہ مضمون 22 ستمبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔