مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کے زیر حراست تشدد سے نوجوان شہید

23 ستمبر 2019

ای میل

ضلع پلواما کے علاقے چندگام سے 15 سالہ یاور بٹ کو گرفتار کرکے تشدد کیا گیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
ضلع پلواما کے علاقے چندگام سے 15 سالہ یاور بٹ کو گرفتار کرکے تشدد کیا گیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی

مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع پلواما کے فوجی کیمپ میں بھارتی فورسز کی جانب سے کیے گئے تشدد سے شدید زخمی نوجوان یاور احمد بٹ شہید ہوگئے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق پلواما کے علاقے چندگام سے تعلق رکھنے والے 15 سالہ یاور بٹ کو دوران حراست بھارتی فوج نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا جنہیں سری نگر کے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

شہید نوجوان کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ یاور بٹ پر بھارتی فوج نے کیمپ میں دوران حراست تشدد کیا تھا اور انہیں اگلے دن پھر کیمپ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم تشویش ناک حالت پر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں انہوں نے آخری سانسیں لیں۔

مقامی افراد کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے چندگام میں رات گئے چھاپے مار کر کئی نوجوانوں کے شناختی کارڈ چوری کرلیے تھے اور انہیں کہا گیا تھا کہ قریبی فوجی کیمپ میں رپورٹ کریں جہاں ان پر بری طرح تشدد کیا جاتا ہے اور یاور بٹ بھی انہی میں سے ایک تھے۔

مزید پڑھیں:'ہیوسٹن! مودی ہمارا مسئلہ ہے'، امریکا میں مودی مخالف احتجاج

حریت کانفرنس کے رہنما میرواعظ عمر فاروق کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق انہوں کہا ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر پر اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں سنگین صورت حال کا سامنا کرنے والے کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ میرواعظ عمر فاروق سری نگر میں اپی رہائش گاہ میں نظر بند ہیں اور دستاویزات پر دستخط کے بعد ان کی رہائی خبریں من گھڑت ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 49 ویں روز بھی لاک ڈاؤن جاری ہے، موبائل اور انٹرنیٹ سمیت مواصلات کے ذرائع معطل ہیں اور شہریوں کو بنیادی ضروریات تک رسائی کی اجازت نہیں ہے۔

بھارتی قابض فوج بدستور انسانی حقوق کی پامالی میں مصروف ہے جہاں نوجوانوں اور بزرگوں سمیت خواتین و بچوں پر بھی تشدد جاری ہے اور انہیں گھروں پر محصور کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کی نیویارک میں امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد سے ملاقات

مقبوضہ جموں و کشمیر میں تمام تعلیمی ادارے بھی بند ہیں اور طلبہ مسلسل 49 روز بھی اسکولوں، کالجوں اور جامعات نہیں جاسکیں جبکہ ان کے امتحانات کی تیاریوں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

امریکا سمیت دنیا بھر میں موجود کشمیریوں نے بھارتی حکومت کے مظالم کے خلاف احتجاج کیا اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے بھی بھارت کو صورت حال معمول پر لانے کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کے لیے امریکا پہنچے ہیں جہاں انہوں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے علاوہ کشمیر پر آواز اٹھانے والی امریکی سینیٹر لنزے لوہان سے ملاقات کی اور سنگین صورت حال سے آگاہ کیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکریٹری جنرل نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ان کے اقدامات سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔

امریکا کے شہر ہیوسٹن میں نریندر مودی کی آمد کے خلاف مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں امریکیوں نے احتجاج کیا۔

مظاہرین نے پلے کارڑ اٹھا رکھے تھے جس میں درج تھا 'ہیوسٹن! ہمارا ایک مسئلہ ہے، وہ ہے نریندر مودی'۔

ہیوسٹن میں کشمیر کا پرچم اٹھائے ہزاروں مظاہرین نے بھارت مخالف نعرے لگائے اور کشمیر میں ظلم و تشدد بند کرنے کا مطالبہ کیا۔