پاکستان، بھارت چاہیں تو کشمیر پر ثالثی کیلئے تیار ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ

اپ ڈیٹ 23 ستمبر 2019

ای میل

ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کی—فوٹو:اے ایف پی
ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کی—فوٹو:اے ایف پی
ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کی—فوٹو:اے ایف پی
ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کی—فوٹو:اے ایف پی

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کے دوران میڈیا سے گفتگو میں ایک مرتبہ پھر ثالثی کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر طویل عرصے سے حل طلب ہے اور اگر دونوں ممالک چاہیں تو ثالثی کے لیے تیار ہوں۔

وزیراعظم عمران خان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس سے قبل مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورت حال سمیت دیگر معاملات پر مختلف ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کررہے ہیں۔

نیویارک میں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ 'میں مدد کے لیے تیار ہوں اور یہ دونوں رہنماؤں پر منحصر ہے کہ کیا ثالثی چاہتے ہیں، یہ گھمبیر مسئلہ ہے جو طویل عرصے سے جاری ہے لیکن میں مدد کرنے کے لیے تیار ہوں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ میرے بڑے اچھے تعلقات ہیں اور اگر کسی بھی وقت ثالثی کا کہیں گے تو میں اچھا ثالث ہوں گا لیکن ہم کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو دوسرے فریق کو بھی سامنے رکھنا ہوگا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میرے بھارت سے بھی اور دونوں ممالک سے اچھے تعلقات ہیں اور اگر وہ پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو میرے خیال میں اس معاملے پر مدد کرنا چاہیے'۔

ٹرمپ نے پاکستان اور امریکا کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 'ماضی میں امریکا کی جانب سے پاکستان کے ساتھ برا سلوک کیا گیا، آپس میں اعتماد کا مسئلہ ہے، میں اس (عمران خان) جنٹلمین پر اعتماد کرتا ہوں اور پاکستان پر اعتماد ہے کیونکہ نیویارک میں بہت سارے پاکستانی میرے دوست ہیں جو بڑے اسمارٹ اور اچھے مذاکرات کار ہیں'۔

دہشت گردی کے حوالے سے پاکستانی اقدامات پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ 'بڑی پیش رفت ہوئی ہے کیونکہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ورنہ غربت اور افراتفری ہے'۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ 'میں چاہتا ہوں کہ دنیا میں ہرکسی سے اچھا سلوک ہو یہ دو بڑے ملک ہیں'۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 'گزشتہ روز بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے انتہائی جارحانہ بیان دیا گیا، میں وہاں بیٹھا ہوا تھا اور میں نے سنا کہ وہاں 59 ہزار لوگ تھے اور اچھا استقبال کیا گیا لیکن بیان بہت جارحانہ تھا'۔

انہوں نے کہا کہ 'مجھے امید ہے کہ بھارت اور پاکستان مل کر اچھا کریں گے وہ حل بھی جانتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ کوئی حل نکلے گا'۔

ایران سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے ایران کو ’دنیا میں دہشت گردی کی نمبر ون ریاست‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران ’بہت خراب کام کر رہا ہے، میں نے جب امریکی صدر کا عہدہ سنبھالا تو ایران پورے مشرق وسطیٰ اور شاید اس سے آگے کے لیے ایک حقیقی خطرہ تھا اور اب اسے اپنے اس تاثر کو زائل کرنے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن بھارت تیار نہیں اور یہ مسئلہ جس طرح دیکھا جارہا ہے اس سے کہیں بڑا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ 'صدر ٹرمپ دنیا کے طاقت ور ترین ملک کے سربراہ ہیں اور مسئلے کا حل نکالنا ان کی ذمہ داری ہے، انہوں نے ثالثی کی پیش کش کی جس کے لیے پاکستان تیار ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں اس وقت یہ بحران کا آغاز ہے اور جو کچھ کشمیر میں ہورہا ہے اس کے مطابق یہ بحران سنگین ہوگا'۔

انہوں نے کہا کہ 'امریکا طاقت ور ترین ملک ہے اور یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر اثر انداز ہوسکتا ہے اور ان کی آواز ہے اس لیے ہم امریکا کی طرف دیکھتے ہیں کہ کردار ادا کرے'۔

اس موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ 'بہت سارے لوگ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں لیکن میں سب سے مل نہیں سکتا، مگر میں عمران خان سے ملنا چاہتا تھا، یہ ایک عظیم لیڈر ہیں اور بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔‘

اس سے قبل گزشتہ روز امریکی شہر ہیوسٹن میں ’ہاؤڈی مودی!‘ ریلی میں امریکی صدر اور وزیراعظم نریندر مودی نے خطاب کیا تھا، تاہم اسی دوران ریلی کے مقام سے باہر لوگوں کی بڑی تعداد نے مودی مخالف احتجاج کیا تھا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کی امریکی قانون سازوں سے ملاقات، بھارتی مظالم سے آگاہ کیا

واضح رہے کہ عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اس سے قبل جولائی میں اوول آفس میں ملاقات ہوئی تھی، دونوں رہنماؤں کی پہلی براہ راست ملاقات میں امریکی صدر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان 70 سال سے جاری کشمیر تنازع کو حل کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، تاہم ان کی اس پیش کش کو بھارت نے مسترد کردیا تھا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافہ اس وقت ہوا جب 5 اگست کو بھارت نے یکطرفہ طور پر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ساتھ ہی واپس لے لیا تھا جبکہ وادی میں سخت لاک ڈاؤن کرتے ہوئے مواصلاتی رابطے منقطع کردیے تھے۔

اس کے ساتھ ہی وادی میں پہلے سے موجود لاکھوں فوجیوں کی تعداد میں مزید اضافہ کردیا گیا تھا اور مقبوضہ کشمیر کے عوام سے موبائل، انٹرنیٹ سمیت ہر قسم کی سروسز چھین لیں تھیں اور کرفیو نافذ کردیا تھا جو 50 روز گزرنے کے باوجود تاحال جاری ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کشمیر، پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر حالیہ بیانات کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران دونوں جنوبی ایشیائی پڑوسیوں کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی قیاس آرائیاں شروع کردی گئیں۔

گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی میں 'بہت پیش رفت' ہوئی ہے جبکہ ان کا یہ بیان ان قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دیتا ہے۔

وزیراعظم کی مصروفیات و مشن کشمیر

امریکی صدر سے ملاقات کے علاوہ وزیراعظم عمران خان کونسل برائے خارجہ تعلقات میں تھنک ٹینک کی ایک تقریب سے خطاب کریں گے، اس کے علاوہ وزیراعظم اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی سمٹ اور یونیورسل ہیلتھ کیئر پر سمٹ سے بھی خطاب کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے ملاقات کی اور دونوں رہنماؤں نے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔

برطانوی وزیراعظم کے بعد وزیراعظم عمران خان کی ملاقات چین کے نائب صدر وانگ کی شن سے بھی متوقع ہے۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے بھی وزیراعظم عمران خان سے نیویارک میں ملاقات کی۔

ادھر خود کو کشمیریوں کا سفیر قرار دینے والے وزیراعظم عمران خان نے اپنے 7 روزہ دورے کے دوسرے روز امریکی قانون سازوں، اسکالرز، انسانی حقوق کے کارکنوں اور میڈیا نمائندگان سے ملاقاتیں کیں اور انہیں متنازع وادی کشمیر سے متعلق بھارتی اقدامات کے نقصانات سے آگاہ کیا۔

وزیراعظم نے ملاقات کرنے والوں میں امریکی سینیٹ میں اقلیتوں کے رہنما چک شومر اور سینیٹ کی عدالتی کمیٹی کے چیئرمین لنزے گراہم شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ’کشمیریوں کو زندہ درگور کردیا گیا، اقوام متحدہ قراردادوں پر عملدرآمد کروائے‘

یاد رہے کہ سینیٹر لنزے گراہم ان 4 امریکی سینیٹرز میں شامل تھے، جنہوں نے گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خط لکھا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کے بحران کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کریں۔

قبل ازیں ہفتے کو انہوں نے کشمیر اسٹڈی گروپ کے بانی کاتھواری سے ملاقات کی تھی، جس میں انہوں نے ان پر زور دیا تھا کہ وہ دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی قبضے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق آگاہ کرتے رہیں تاکہ وہ مودی حکومت کا اصل چہرہ دیکھ سکیں۔

بعد ازاں ہفتے کو عمران خان نے افغان امن عمل کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد سے ملاقات کی تھی، اس کے علاوہ وزیراعظم نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکریٹری جنرل کومی نائیڈو سے بھی تبادلہ خیال کیا تھا اور ان سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پر بات چیت کی گئی تھی۔

وزیراعظم عمران خان 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کریں گے اور وہ پہلے ہی اس بات کا اعلان کرچکے ہیں کہ ان کی تقریر میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا جائے گا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیرقانونی اقدام کو بے نقاب کیا جائے گا۔