قائم مقام سیکریٹری خارجہ معظم احمد خان نے اسلام آباد میں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے مستقل اراکین(پی فائیو ممالک) کے سفرا کو پاکستان کے خلاف کیے جانے والے بھارتی پراپیگنڈے پر بریفنگ دی۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف خصوصاً گزشتہ چند دنوں سے جاری اشتعال انگیز مہم کا حوالہ دیتے ہوئے معظم احمد خان نے بھارت خصوصاً بھارتی فوج کی جانب سے پاکستان میں دہشت گرد کیمپوں کی موجودگی کے بے بنیاد اور من گھڑت الزام کے حوالے سے ان ممالک کے سفرا کو آگاہ کیا۔

مزید پڑھیں: کشمیر جغرافیائی مسئلہ نہیں، پاکستان کی روح کا حصہ ہے، آرمی چیف

بھارتی فوج کے سینئر افسران اپنے اشتعال انگیز بیانات میں پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگاتے ہوئے کہتے رہے ہیں کہ پاکستان میں آزاد جموں و کشمیر کے علاقے مظفرآباد اور راولاکوٹ مانسہرہ میں مبینہ طور پر دہشت گردوں کے کیمپ موجود ہیں جو بھارت میں دراندازی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی میڈیا بھی پاکستان خلاف اسی طرح کی ہرزہ سرائی کر رہا ہے، بھارت کے یہ بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں سے ہٹانا چاہتا ہے جہاں 50 دن سے زائد گزرنے کے باوجود کرفیو نافذ ہے اور مواصلات کے تمام تر ذرائع بند ہیں۔

گزشتہ ماہ 5اگست کو بھارتی وزیر اعظم نرینڈ مودی نے صدارتی حکمنامے کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کر کے مقبوضہ کشمیر اور لداخ کو خصوصی درجے سے محروم کردیا تھا اور اس کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں مستقل کرفیو نافذ ہے اور 9لاکھ سے زائد بھارتی افواج نے مظلوم کشمیری عوام کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

کشمیر کی تمام تر قیادت جیلوں میں بند ہے جبکہ عوام ضرورت کی بنیادی اشیا تک کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے غیر ذمے دارانہ بیانات سے خطے کی پہلے کشیدہ صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے اور علاقائی امن و سلامتی خطرے سے دوچار ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ کا او آئی سی سے کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانے کا مطالبہ

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کسی بھی قسم کی محاذ آرائی نہیں چاہتا لیکن اگر بھارت کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا منہ توڑ جواب دیں گے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس طرح کے بے بنیاد الزامات کی سختی سے مذمت کرتا ہے جہاں ان الزامات کا مقصد بھارت افواج کی جانب سے کنٹرول لائن یا کسی اور جگہ جارحیت کی صورت میں اپنے اقدام کو درست قرار دینا ہو سکتا ہے۔

پاکستان نے اقوم متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے مستقل اراکین کے وفود اور دیگر ممالک و عالی اداروں کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے ان مقامات کا دورہ کرانے کی بھی پیشکش کی تاکہ بھارت کے جھوٹ کی قلعی کھل سکے۔

ضرور پڑھیں

بھارت میں سکھ تحریک: شناخت کے مسئلے سے خالصتان کی جدو جہد تک

بھارت میں سکھ تحریک: شناخت کے مسئلے سے خالصتان کی جدو جہد تک

1950ء کی دہائی میں پنجابی صوبہ تحریک زور پکڑتی گئی۔ 1955ء میں سیکشن 144 کا نفاذ کرتے ہوئے پنجابی صوبے کے حق میں لگنے والے نعروں پر پابندی عائد کر دی گئی اور سکھوں کے نمائندہ رہنما ماسٹر تارا سنگھ کو گرفتار کر لیا گیا جس سے تحریک مزید زور پکڑ گئی۔

تبصرے (0) بند ہیں