امریکا: روڈ پر نصب بل بورڈز پر پورن ویڈیوز دیکھ کر مسافر حیران

شائع October 1, 2019 اپ ڈیٹ October 1, 2019 05:04pm
بل بورڈز پر 30 منٹ تک ویڈیوز چلتی رہیں —فائل فوٹو: فیس بک
بل بورڈز پر 30 منٹ تک ویڈیوز چلتی رہیں —فائل فوٹو: فیس بک

گزشتہ روز خبر سامنے آئی تھی کہ نیوزی لینڈ کے سب سے بڑے شہر آکلینڈ میں اسپورٹس مصنوعات بنانے والی جاپانی کمپنی ’ایسکس‘ کے اسٹور کے باہر نصب اسکرین پر پورن ویڈیوز چلا دی گئی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق ہیکرز نے اسٹور کے کمپیوٹر سسٹم کو ہیک کرکے اس پر پورن ویڈیوز چلا دی تھیں جو رات کو ایک بجے سے لے کر اگلی صبح 10 بجے تک چلتی رہیں۔

معروف سڑک پر قائم اسٹور کے باہر نصب اسکرین پر چلنے والی پورن ویڈیوز کو بچوں، مرد حضرات و خواتین نے دیکھا اور اس پر حیرانی کا اظہار کیا۔

تاہم اب امریکا سے بھی خبر سامنے آئی ہے کہ وہاں ایک موٹروے پر نصب بل بورڈز پر پورن ویڈیوز کو چلا دیا گیا۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ریاست مشی گن کی اوکلینڈ کاؤنٹی کے قریبی شہر ’ڈیٹرائٹ‘ سے متصل روڈ پر نصب الیکٹرک بل بورڈز پر اچانک پورن ویڈیوز چلنا شروع ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق الیکٹرانک بل بورڈز پر پورن ویڈیوز کو چلتا دیکھ کر آنے جانے والے مسافر حیران رہ گئے اور انہوں نے فون کے ذریعے شکایت کی۔

یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ: تشہیری اسکرین پرپورن ویڈیوز چلادی گئیں

رپورٹ کے مطابق پولیس نے عوامی شکایت کے بعد معاملے کی تفتیش کرکے بل بورڈز پر چلنے والی پورن ویڈیوز کو بند کروایا اور بتایا کہ 2 ہیکرز نے بل بورڈز سے منسلک کمپیوٹرز میں پورن ویڈیوز اپ لوڈ کیں۔

پولیس کا کہنا تھا کہ نقاب پوش افراد نے بل بورڈ سے منسلک کمپیوٹر سسٹم میں پورن ویڈیوز اپ لوڈ کیں جو تقریبا 30 منٹ تک روڈ پر آویزاں بل بورڈز پر چلتی رہیں۔

ایک روز قبل نیوزی لینڈ کی اسٹریٹ میں لگی اسکرین پر بھی پورن ویڈیوز چلادی گئی تھیں—فوٹو: ایسکس فیس بک
ایک روز قبل نیوزی لینڈ کی اسٹریٹ میں لگی اسکرین پر بھی پورن ویڈیوز چلادی گئی تھیں—فوٹو: ایسکس فیس بک

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026