زحل کے چاند پر زندگی کے لیے اہم نامیاتی مرکبات کی تصدیق

اپ ڈیٹ 03 اکتوبر 2019

ای میل

انسلیدس — فوٹو بشکریہ ناسا
انسلیدس — فوٹو بشکریہ ناسا

اب یہ کہنا ممکن ہے کہ زمین سے ہٹ کر زندگی کے لیے ضروری تمام اجزاء ہمارے نظام شمسی میں ایک جگہ موجود ہیں اور وہ ہے زحل کا چاند انسلیدس ۔

ناسا اور یورپین اسپیس ایجنسی ہمارے نظام شمسی کے دوسرے سیاروں پر زندگی کے آثار کی تلاش میں عشروں سے سرگرداں ہیں جس کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف خلائی مشن تشکیل دیئے جاتے رہے ہیں، انہی میں سے ایک مشن 'کیسینی' بھی تھا۔

ابتدا میں اس مشن کے مقاصد میں زحل کے حلقوں اور چاندوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا شامل تھا۔ مگر اس مشن سے سب سے زیادہ اہم معلومات زحل کے چاند انسلیدس کے بارے میں حاصل ہوئی۔

اگرچہ کیسینی خلائی گاڑی کو 2017 میں زحل کی سطح سے ٹکرا کر تباہ کر دیا گیا تھا مگر اس سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو ابھی تک جانچا جا رہا ہے اور حال ہی میں اس حوالے سے کچھ غیر معمولی نتائج حاصل ہوئے ہیں جو 2 اکتوبر 2019 کو 'رائل ایسٹرونامیکل سوسائٹی' کے ماہانہ نوٹس میں شائع ہوئے اور سب سے اہم امر یہ ہے کہ اس تحقیقی ٹیم کی سرکردگی پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر نذیر خواجہ نے کی ہے جو اس وقت جرمنی میں مقیم ہیں اور فری یونیورسٹی برلن سے وابستہ ہیں۔

ان کا شمار فلکیاتی حیاتات یا ایسٹروبایولو جی کے نامور سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ اس سے قبل جون 2018 اور مارچ 2019 میں ان کی تحقیق 'نیچر اور سائنس' جیسے مؤقر سائنس جرنلوں میں شائع ہوچکی ہے۔ انہوں نے پاکستان میں ایسٹرو بایولوجی کی ترویج کے لیے ایک نیٹ ورک بھی تشکیل دیا ہے جو ملک میں فلکیاتی حیاتات کی ترویج کے لیے کوشاں ہے۔

ڈاکٹر نذیر کی تحقیق کیا ہے؟

ڈاکٹر نذیر خواجہ کی ٹیم نے انسلیدس کے زیریں سمندر کے نیچے واقع ہائیڈرو تھرمل وینٹس میں نائٹروجن اور آکسیجن پر مشتمل ایسے کم ماس والے مالیکیول دریافت کیے ہیں جو زنجیر نما ہیں۔

کیمیائی سائنس میں ایسے مالیکیولز کو 'ایرومیٹک' کہا جاتا ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر نسبتاً بڑے نامیاتی مالیکیول بناتے ہیں۔ زندگی کے لیے لازمی اجزا جیسے پروٹین، امائینو ایسڈ ایسے نامیاتی مالیکیولزپر مشتمل ہے۔

ان مرکبات کو امائنز کہا جاتا ہے اور یہ پانی میں حل پزیر ہیں۔ یہ مرکبات مالیکیول کرہ ارض پر واقع سمندروں کے ہائیڈرو تھرمل وینٹس میں بھی پائے جاتے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ زمین پر زندگی کی ابتدا (خوردبینی حیاتات) انہی سے ہوئی ہوگی۔

لہذا ڈاکٹر نذیر خواجہ کی یہ تحقیق اس حوالے سے نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ انسان نے اپنے سیارے سے باہر کسی دوسرے سیارے اور چاند پر زندگی کی ابتدا کے لیے لازمی اجزا کی موجودگی دریافت کرلی ہے۔

کیسینی مشن کیا ہے؟

زحل اور اس کے حلقوں، چاندوں اور سیٹیلائٹ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا، یورپین اسپیس ایجنسی نے مل کر ایک خلائی منصوبے کا آ غاز کیا جسے 'کیسینی ہائیجنز مشن' کا نام دیا گیا۔

اس منصوبے کے تحت کیسینی خلائی گاڑی کو 1997 میں زحل کی جانب بھیجا گیا جو 7 سال سفر کرنے کے بعد 2004 میں زحل کے مدار میں داخل ہوئی۔ اس اسپیس کرافٹ کو زحل کی جانب بھیجنے کا بنیادی مقصد اس سیارے کے حلقوں کے ڈھانچے اور حرکات (ڈائنامکس) کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے علاوہ یہاں کے ماحول اور آب و ہوا، زحل کے منجمد سیارچے اور اس کی جغرافیائی تاریخ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا تھا۔

ابتدا میں اس مشن میں ٹائٹن اور لیپٹس پر موجود سیاہ مادوں (ڈارک میٹرز) کی کھوج لگانا شامل کیا گیا تھا جبکہ ای رنگ (زحل کے رنگز یا حلقے ہیں بہت سارے ان میں جو اندر کی جانب حلقے ہیں وہ ای رنگز کہلاتے ہیں) کے اندر واقع چاند انسلیدس کو اس مشن میں زیادہ اہمیت نہیں دی گئی تھی۔ لیکن بعد ازاں کیسینی مشن کے ذریعے جو تاریخی تحقیقات اور دریافتیں ہوئیں ان میں انسلیدس کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی۔

انسلیدس اتنی اہمیت کا حامل کیوں ہے؟

ڈومینیکو کیسینی نے1671میں زحل کے حلقوں اے اور بی کے درمیان خلا دریافت کیا جسے انہی کے نام پر 'کیسینی ڈویژن' کا نام دیا گیا۔ 1789میں ولیم ہرشل نے ان حلقوں کی موٹائی کو ناپتے ہوئے اس کے دو چاند دریافت کیے جو 'ای رنگ' کے اندر تھے۔ ان چاندوں کو میماس اور انسلیدس کے نام دیا گیا۔ زحل کا یہ ای رنگ باہر کی جانب واقع دوسرا بڑا حلقہ ہے جس کے اندر کل پانچ چاند ہیں ۔یہ تمام کروی شکل کے چاند ہیں جن کی کثافت کم ہے اور ان کی زیادہ تر سطح پانی اور برف پر مشتمل ہے جس کے ساتھ ایک چھوٹی سلیکا کی اندرونی تہہ یا کور ہے۔

انسلیدس کے علاوہ ای رنگ کے اندر واقع تمام چاند جغرافیائی طور پر متحرک نہیں ہیں ، اس لیے سائنسدانوں کی تمام تر توجہ کا مرکز انسلیدس رہا ہے۔ مشن کے دوران کیسینی خلائی گاڑی نے انسلیدس کے قریب سے گزرتے ہوئے اس کے جنوبی قطب کی جانب کچھ جغرافیائی حرکات کا مشاہدہ کیا ۔

واضح رہے کہ کیسینی کو اگرچہ کافی عرصے پہلے ڈیزائن کیا گیا تھا مگر اس میں مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید آلات نصب کیے گئے تھے جن میں دو اسپیکٹرومیٹر بھی شامل تھے ۔ ان کا کام زحل کے رنگ سسٹم میں موجود برف کے ذرات اور گیسوں کا مشاہدہ کرنا تھا ۔

2005 میں کیسینی کے زحل پر پہنچنے کےبعد سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ زحل کے چاند انسلیدس کے جنوبی قطب کی جانب پانی کے بخارات اور برف کے ذرات وافر مقدار میں خارج ہورہے ہیں ۔ یقیناً یہ ایک بے حد حیران کن امر تھا کہ زمین سے باہر ہمارے نظام شمسی میں ایک ایسا چاند موجود ہے جہاں مسلسل جغرافیائی تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں ۔

برف کے ذرات سے حلقے بن جانے کا یہ ماڈل 2008 میں پیش کیا گیا تھا جس کے مطابق انسلیدس کے جنوبی قطب پر پانی مائع حالت میں موجود ہے کیونکہ برف کے یہ ذرات ٹھنڈے ہوکر بخارات کے ذریعے اوپر کی جانب اٹھ رہے تھے۔ اسی دوران یہ بات سامنے آئی کہ برف کے کچھ ذرات میں نمکیات وافر مقدار میں موجود تھیں جس سے پہلی دفعہ یہ تصدیق ہوئی کہ انسلیدس پر ایک زیریں سمندر موجود ہے ۔ جو مختلف طرح کی نمکیات سے بھرا ہوا ہے۔ جن میں سوڈیم کے نمکیات جیسے کہ سوڈیم کلورائڈ ، سوڈیم بائی کاربونیٹ اور سوڈیم کاربونیٹ شامل تھے ،جو لا محالہ انسلیدس کی چٹانی تہہ سے پانی میں تحلیل ہورہے تھے ۔ ان نمکیات کی کیسینی میں نصب سپیکٹرومیٹر سے باقاعدہ تصدیق بھی کی گئی۔

ان نمکیات سے بھرپور برف کے ذرات کی وضاحت کے لیے ایک نیا ماڈل تشکیل دیا گیا جس کے مطابق انسلیدس کی فضا میں موجود گیسوں مثلا کاربن ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ، میتھین اور نائٹروجن کی اوپر کی جانب حرکت کی وجہ سے ایروسول جیسے پانی کے قطرات بن رہے تھے جس کی وجہ سے برف کے چینلز میں موجود پانی میں بلبلے بن کر پھٹتے تھے اور ا نہی کی وجہ سے برف کے ذرات انسلیدس کی فضا میں سیکڑوں میٹر تک اچھل کر اوپر جا رہے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر ذرات انسلیدس کی سطح پر واپس گر جاتے مگر چند اس چاند کی کشش ثقل سے فرار ہوکر زحل کے گرد مسلسل برف کے ذرات کا حلقہ بناتے جارہے تھے۔

انہی برف کے ذرات کا مشاہدہ کرتے ہوئے ڈاکٹر نزیر خواجہ اور ان کی ٹیم نے کم ماس والے نائٹروجن اور آکسیجن پر مشتمل نامیاتی مرکبات دریافت کیے ہیں جو زنجیرنما ساختوں کے حامل ہیں اور انہیں کم ماس والے امائنز ( ڈائی میتھائل یا ایتھائل امائن )کہا جاتا ہے جو پانی میں حل پزیر ہیں اور بخارات بننے کے بعد انسلیدس کی سطح سے بلندی تک اچھلنے والے برف کے ذرات میں شامل ہو رہے ہیں۔

مگر تحقیق ابھی ختم نہیں ہوئی اور کیسینی سے حاصل ہونے والے ڈیٹا پر ابھی بہت سی ریسرچ باقی ہے جس سے نئے انکشافات ہوتے رہیں گے۔ اور تازہ ترین تحقیق کے بعد یہ امر خارج از امکان نہیں کہ ناسا مستقبل قریب یا بعید میں انسلیدس کے لئے کوئی نیا مشن بھی تشکیل دے۔

صادقہ خان کوئٹہ سے تعلق رکھتی ہیں اور نیشنل سائنس ایوارڈ یافتہ سائنس رائٹر ، بلاگر اور دو سائنسی کتب کی مصنفہ ہیں۔ صادقہ آن لائن ڈیجیٹل سائنس میگزین سائنٹیا کی بانی اور ایڈیٹر بھی ہیں۔ ۔ ڈان نیوز پر سائنس اور اسپیس بیسڈ ایسٹرا نامی کے آرٹیکلز/بلاگز لکھتی ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں [email protected]