بھارتی فورسز کی ایل او سی پر فائرنگ سے ایک خاتون جاں بحق

07 اکتوبر 2019

ای میل

خاتون اتوار کو بھارتی اسنائپر کی جانب سے کی گئی فائرنگ سے جاں بحق ہوئیں — فائل فوٹو: رائٹرز
خاتون اتوار کو بھارتی اسنائپر کی جانب سے کی گئی فائرنگ سے جاں بحق ہوئیں — فائل فوٹو: رائٹرز

بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری ہے اور بھارت کی جانب سے کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں آزاد جموں و کشمیر کی خاتون جاں بحق ہو گئیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق پولیس عہدیدار ذوالقرنین چوہدری نے بتایا کہ آزاد جموں کشمیر کے علاقے عباس پور میں گھر کے باہر کھڑی خاتون گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئیں۔

مزید پڑھیں: امریکی صدارتی امیدوار کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار

انہوں نے بتایا کہ یہ فائرنگ اتوار کو بھارت کی جانب سے کی گئی تھی جس کے نتیجے میں خاتون کو زخم آئے اور وہ جاں بر نہ ہوسکیں۔

یہ فائرنگ ایک ایسے موقع پر کی گئی ہے جب امریکی سینیٹرز کرس وین ہولین اور میگی ہیسن نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مظفرآباد کا دورہ کیا تاکہ وہ جموں و کشمیر میں بھارت کے غیرقانونی اقدام کے بعد صورتحال کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ عوامی جذبات بھی جان سکیں۔

امریکا میں ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار الزبتھ وارین نے مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں اور مواصلاتی نظام معطل کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت سے کشمیری شہریوں کے حقوق کی پاسداری یقینی بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس سے ایک دن قبل ہفتے کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے نئی دہلی جانے والے امریکی سینیٹر کو وادی کا دورہ کرنے سے روک دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت نے امریکی سینیٹر کو مقبوضہ کشمیر جانے سے روک دیا

واشنگٹن پوسٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹر کرس ہولین نے بتایا تھا کہ انہیں رواں ہفتے بھارت کے دورے کے دوران مقبوضہ کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے قبل ہی وادی میں کرفیو نافذ کردیا تھا جبکہ وہاں پر تاحال مواصلات کا نظام بھی معطل ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ستمبر میں امریکا نے بھارت پر زور دیا تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر پر لگائی گئی پابندیاں فوری طور پر نرم کرے اور ساتھ ہی امریکی صدر کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کا اعادہ بھی کیا گیا تھا۔