بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن جاری رکھنے، سفری پابندیاں اٹھانے کا اعلان

اپ ڈیٹ 08 اکتوبر 2019

ای میل

5 اگست کی کارروائی سے قبل ہی بھارت نے مقبوضہ وادی میں غیر معمولی اقدامات کرنا شروع کردیے تھے — فائل فوٹو: اے پی
5 اگست کی کارروائی سے قبل ہی بھارت نے مقبوضہ وادی میں غیر معمولی اقدامات کرنا شروع کردیے تھے — فائل فوٹو: اے پی

بھارت نے اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر 2 ماہ سے عائد سفری پابندیاں 10 اکتوبر سے ہٹادی جائیں گی۔

بھارتی اخبار انڈیا ٹودے کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں اور کشمیر کے گورنر ستیا پال ملک نے محکمہ داخلہ کو وہ ہدایت نامہ ختم کرنے کا حکم دے دیا جس کے تحت وادی میں موجود سیاحوں کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔

اس حوالے سے ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان احکامات کا اطلاق 10 اکتوبر سے ہوگا۔

یاد رہے کہ 5 اگست کی اقدامات سے قبل ہی بھارت نے مقبوضہ وادی میں غیر معمولی اقدامات اٹھانے شروع کردیے تھے جس کے تحت 2 اگست کو مقبوضہ کشمیر کے سفر پر پابندی عائد کر کے وادی میں پہلے سے موجود سیاحوں کو نکل جانے کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: 'کرفیو، مواصلاتی بندش کی وجہ سے کئی جانیں ضائع ہوئیں'

یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ بھارتی حکام کی جانب سے مقبوضہ وادی میں دو ماہ قبل لاک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا تھا جو تاحال جاری ہے۔

بھارتی حکام کے اس اعلان کے باوجود برطانیہ اور دیگر ممالک نے اپنے شہریوں پر مقبوضہ کشمیر کا سفر نہ کرنے کی ہدایت برقرار رکھی ہے۔

واضح رہے کہ کشمیر کو ’زمین پر جنت‘ کہا جاتا ہے جو اپنے خوبصورت پہاڑوں، گلیشیرز اور مشہور ڈل جھیل کے باعث مغل بادشاہوں کے زمانے سے ہی سیاحت کا مقبول ترین مقام ہے، جہاں صدیوں پہلے حکمران گرمیاں گزارنے کے لیے جاتے تھے۔

مقبوضہ کشمیر میں مصائب و آلام کے 2 ماہ

یاد رہے کہ بھارت نےمقبوضہ کشمیر میں ہزاروں کی تعداد میں اضافی فوج بھیج کر لاک ڈاؤن اور کرفیو نافذ کرنے کے علاوہ خطے کی اہم سیاسی شخصیات کو قید کرنے کے بعد 5 اگست کو وادی کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے 2 اکائیوں میں تقسیم کردیا تھا۔

آرٹیکل 370 کے نفاذ کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس غیر معمولی اقدام کا مقصد مقبوضہ وادی کو ’ایک مرتبہ پھر جنت نظیر‘ بنانا ہے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں 144 کم عمر لڑکے گرفتار

زمینی حقائق کے مطابق عوام بھارتی حکومت کے اس اقدام سے برہم ہیں جس کے باعث روزانہ احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تاجر اپنے کاروبار کھولنے سے گریزاں جبکہ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں۔

یاد رہے کہ 5 اگست کے بعد سے 4 ہزار افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جس میں 144 کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں جبکہ ایک ہزار افراد اب بھی زیرِ حراست ہیں جس میں کچھ کو اس قانون کے تحت رکھا گیا ہے جو مشتبہ شخص کو بغیر کسی الزام کے 2 ماہ قید رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔

اس کے علاوہ بھارتی سیکیورٹی فورسز فائرنگ کے واقعات میں متعدد کشمیریوں کو شہید کرچکی ہیں اور پولیس نے ہتھیاروں کی برآمدگی کا بھی دعویٰ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: 'تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے'

علاوہ ازیں 70 لاکھ کی آبادی پر مشتمل وادی میں ٹیلی فون سروس بحال کردی گئی تھی البتہ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس تاحال معطل ہے جبکہ بھارت کا اصرار ہے کہ صورتحال ’معمول کے مطابق‘ ہے۔

بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ وادی میں سخت اقدامات کرنے کے 2 ماہ بعد وہاں کے ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے مواصلات اور انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے کئی جانیں جاچکی ہیں۔