آزادی مارچ: مسلم لیگ، پی پی پی کا طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کیلئے اجلاس طلب

اپ ڈیٹ 09 اکتوبر 2019

ای میل

اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد سینئر رہنماؤں سے ملاقات کا فیصلہ کرلیا — فائل فوٹو: ڈان نیوز
اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد سینئر رہنماؤں سے ملاقات کا فیصلہ کرلیا — فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے حکومت مخالف مارچ میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کی شرکت کے لیے حکمت عملی طے کرنے سے متعلق جہاں ایک جانب رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوا تو وہی مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے اپنے سینئر رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس کے کچھ گھنٹوں بعد کراچی میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا جبکہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے پارٹی کی سینئر قیادت کو ہدایت کی کہ وہ ان کی لاہور کی رہائش گاہ پر جمع ہوں تاکہ لانگ مارچ میں شرکت کے لیے آپشنز پر تبادلہ خیال کیا جائے۔

واضح رہے کہ لانگ مارچ کو ملتوی کرنے کی دیگر اپوزیشن جماعتوں کی تجویز کو نظر انداز کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے گزشتہ ہفتے 'آزادی مارچ' کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا مقصد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ ہے۔

مزید پڑھیں: لیگی وفد کی مولانا فضل الرحمٰن کو آزادی مارچ کی تاریخ میں توسیع کی تجویز

قبل ازیں رہبر کمیٹی کے اجلاس میں جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں نے دیگر اپوزیشن جماعتوں کو لانگ مارچ کے لیے ان کے پلان پر بریفنگ دی۔

رہبر کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال، پی پی پی کے رہنما فرحت اللہ بابر اور نیر بخاری اور اے این پی کے میاں افتخار حسین موجود تھے۔

اس اجلاس میں موجود ایک شخص نے ڈان کو بتایا کہ جے یو آئی (ف) نے انہیں اپنی حکمت عملی سے آگاہ کیا لیکن ان کا ماننا ہے کہ کچھ چیزیں خفیہ رہنی چاہئیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ حکومت نے جوابی حکمت عملی تیار نہیں کی۔

اجلاس کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کا مطالبہ وزیراعظم عمران خان کا استعفیٰ اور ملک میں دوبارہ انتخابات کیا ہے۔

اس معاملے پر رہبر کمیٹی کے کنوینر اور جے یو آئی (ف) کے رہنما اکرم درانی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں اس بات پر متفق ہوئیں کہ وزیراعظم کو استعفیٰ دینا چاہیے اور نئے انتخابات کرانے چاہیے، جس میں پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر فوج کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔

دوران گفتگو 'تمام اپوزیشن جماعتیں ہمارے ساتھ ہیں' کا دعویٰ کرتے ہوئے اکرم درانی کا کہنا تھا کہ جے یو آئی (ف) اپنے پلان کے تحت 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب حکومت کے خلاف 'آزادی مارچ' کرے گی۔

جے یو آئی کے سینئر رہنما نے یہ واضح کیا کہ وہ کوئی مذہب کارڈ کا استعمال نہیں کریں گے، ساتھ ہی انہوں نے یہ یاد دہانی کروائی کہ پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں 126 روز طویل دھرنا دیا تھا جس میں ان کے پارٹی کارکنان نے پاکستان ٹیلی ویژن اور پارلیمنٹ ہاؤس سمیت ریاستی عمارتوں پر حملہ کیا تھا اور پولیس افسران کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ 'ہم پرامن مارچ منعقد کرنے جارہے ہیں' کیونکہ یہ ہمارا جمہوری حق ہے۔

علاوہ ازیں بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو ہدایت کہ وہ 'وفاقی حکومت کی ناانصافیوں کے خلاف' جے یو آئی (ف) کے پرامن جمہوری احتجاج کے لیے ان کے ساتھ تعاون یقینی بنائیں۔

یہ بھی پڑھیں: آزادی مارچ کا آغاز 27 اکتوبر سے ہوگا، مولانا فضل الرحمٰن

اس حوالے سے پارٹی کے میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت سندھ شہریوں اور مظاہرین کی سیکیورٹی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت مظاہرین کے ساتھ رابطہ کرے گی اور ٹریفک کے لیے متبادل راستوں کا انتظام کرے گی تاکہ معاملات زندگی کم سے کم متاثر ہونے کو یقینی بنایا جائے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جمہوری معاشرے میں احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور یہ ایک کامیاب جمہوریت کا معیار بھی ہے۔