ایغور مسلمانوں پر جبر: امریکا کا چینی حکام کے ویزے روکنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 09 اکتوبر 2019

ای میل

امریکا نے ایغور مسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک پر بیجنگ کی 28 کمپنیوں کو بلیک لسٹ کردیا —فائل فوٹو: اے پی
امریکا نے ایغور مسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک پر بیجنگ کی 28 کمپنیوں کو بلیک لسٹ کردیا —فائل فوٹو: اے پی

چین پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے بعد اب امریکا نے کہا ہے کہ جب تک چین نے ایغور اور دیگر مسلمانوں کے خلاف ’جابرانہ اقدامات‘ ختم نہ کیے اس وقت تک وہ چینی عہدیداروں کو ویزا دینا بند کردے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے حالیہ اقدام کسی بھی غیر ملکی طاقت کی جانب سے سنکیانگ کی صورتحال پر سب سے سخت موقف ہے جو امریکا اور چین کے مابین جاری چپقلش کے دوران سامنے آیا۔

امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’چین نے سنکیانگ سے مذہب اور ثقافت کو مٹانے کے لیے سفاکانہ اور منظم مہم کے تحت 10 لاکھ سے زائد مسلمانوں کو قید کر رکھا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: ایغور مسلمانوں سے غیرانسانی سلوک، امریکا کا چین کی 28 کمپنیوں پر پابندی کا اعلان

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’چین کو اپنی سخت نگرانی اور جبر ختم کرکے زبردستی حراست میں لیے گئے تمام مسلمانوں کو رہا کرنا پڑے گا‘۔

اسی طرح کے ایک بیان میں مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ ایغوروں، قازق اور سنکیانگ میں دیگر مسلمان نسلی گروہوں کی ’قید اور استحصال‘ میں ملوث سرکاری اور کمیونسٹ پارٹی کے عہدیداروں پر ویزا پابندیاں عائد کردے گا۔

مذکورہ حکم کا اطلاق چینی حکام کے اہلِ خانہ پر بھی ہوگا جس میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو امریکا میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ وہ ان عہدیداروں کی خصوصی وضاحت نہیں کرسکتے جو امریکی خفیہ قوانین سے متاثر ہوں گے تاہم قانون سازوں نے خصوصی طور پر کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ شین کوانگو کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

مزید پڑھیں: چین کی حراستی کیمپ سے 2 ہزار قازق اقلیتی شہریوں کو رہا کرنے پر آمادگی

واضح رہے کہ شین کوانگو اقلیتوں کے ساتھ سلوک پر کمیونسٹ پارٹی میں مشہور ہیں اس سے قبل انہوں نے تبت میں مخالفین کو ختم کرنے کی سخت گیر پالیسیوں کی سربراہی کی تھی۔

دوسری جانب چین نے اس اقدام کے خلاف برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تردید کی اور امریکا پر ’مداخلت کرنے کے بہانے بنانے‘ کا الزام عائد کیا۔

واشنگٹن میں موجود چینی سفارت خانے کی جانب سے ٹوئٹر پر کہا گیا کہ سنکیانگ میں انتہا پسندی کے خاتمے اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات کا مقصد شدت پسندی کو پروان چڑھانے والی جڑ کو ختم کرنا ہے۔

ٹوئٹ میں مزید کہا گیا کہ ’یہ اقدامات بین الاقوامی طریقوں سے مطابقت رکھتے ہیں اور انہیں سنکیانگ میں مختلف نسلی گروہوں کے ڈھائی کروڑ افراد کی حمایت حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین: ‘ایغور اقلیت کو حراستی کیمپوں میں قید رکھنا خوفناک ہے‘

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ سنکیانگ میں قائم کیمپوں کے وسیع نیٹ ورک میں 10 لاکھ سے زائد ایغور اور دیگر مسلمانوں کو رکھا گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق چین ایغوروں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات مثلاً رمضان میں روزے رکھنے، الکوحل اور سور کے گوشت سے پرہیز کرنے پر عملدرآمد سے روکتا ہے۔

اس سے قبل چین ایسے کیمپ کی موجودگی سے انکار کرتا تھا تاہم بعد میں انہیں انتہا پسندی اور تشدد ختم کرنے کے تربیتی مراکز قرار دیا تھا۔

مزید پڑھیں: مسلم اکثریتی صوبے میں 'جدید تہذیب' کی ضرورت، چینی فوج

اس سے قبل امریکا نے چین کے صوبے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر بیجنگ کی 28 کمپنیوں کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔

امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں ویڈیو سروینلس کمپنی، ہیک ویژن سمیت آرٹیفشل انٹیلی جنس کمپنی میگوی ٹیکنالوجی اور سینس ٹائم شامل تھیں۔