گٹکے کی تیاری اور فروخت دہشت گردی ہے، عدالت

09 اکتوبر 2019

ای میل

کراچی کے جناح ہسپتال میں سالانہ منہ کے کینسر کے 10  ہزار مریض آرہے ہیں— فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا کامنز
کراچی کے جناح ہسپتال میں سالانہ منہ کے کینسر کے 10 ہزار مریض آرہے ہیں— فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا کامنز

سندھ ہائی کورٹ نے گٹکا بنانے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

سندھ ہائی کورٹ میں گٹکا بنانے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

مزیدپڑھیں: سندھ ہائیکورٹ کا گٹکا مافیا کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم

دوران سماعت محکمہ صحت کے افسر نے موقف اختیار کیا کہ کراچی کے جناح ہسپتال میں سالانہ منہ کے کینسر کے 10 ہزار مریض آرہے ہیں۔

جس پر عدالت حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کیا حکومت یہ چاہتی ہے ساری قوم کینسر کی مریض بن جائے، کیا یہ جنگی حالات نہیں؟ یہ بھی ایک دہشت گردی ہے یہ جو انسانوں کی جان لے رہا ہے،۔

دوران سماعت عدالت نے پولیس حکام پر برہمی کا اظہار کیا کہ اور ریمارکس دیے کہ اگر آئی جی سندھ کو گٹکا فروخت اور بنانے والوں سے ’شیئر‘ نہیں ملتا تو گٹکا مافیا کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو رہی۔

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ تمام ایس ایس پیز کے اثاثوں کی تحقیقات کرائیں سب معلوم ہوجائے گا ابھی معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھیجتے ہیں۔

مزیدپڑھیں: عدالتی احکامات کے باوجود کراچی میں 69 گٹکا فیکٹریاں تاحال فعال

عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں پولیس اور اسمبلی میں بیٹھے لوگ بھی ملوث ہیں ان کی ملی بھگت کے بغیر گٹکا فروخت نہیں ہوسکتا۔

عدالت کے استفسار پر پولیس نے موقف اختیار کیا کہ 5 دنوں میں دفعہ جے 337 کے تحت 11 مقدمات درج کیے گئے۔

عدالت نے کہا کہ کتنے ایس ایس پیز کے خلاف کارروائی ہوئی جب تک ان افسران کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی معاملات ٹھیک نہیں ہوسکتے۔

اس ضمن میں سیکریٹری قانون نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ قانون سازی کے لیے بل کمیٹی کے سپرد کردیا ہے، ایک ہفتہ میں بل منظور ہوجائے گا۔

جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ گٹکا مافیا کے خلاف سخت کاروئی کی جائے۔

مزیدپڑھیں: بھارتی گٹکا فروخت کرنے کے جرم میں 10 پودے لگانے کی انوکھی سزا

بعد ازاں عدالت نے گٹکا بنانے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔